Buy website traffic cheap

تھائی لینڈ

تھائی لینڈ میں غاروں میں لاپتہ ہونیوالی فٹبال ٹیم کو 9 دن بعد زندہ نکال لیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک): تھائی لینڈ کی غاروں میں نو دن پہلے لاپتہ ہونے والے بارہ کھلاڑی اور اْن کے فٹبال کوچ کا سراغ مل گیا ہے وہ سب غار میں زندہ ہیں۔غوطہ خوروں نے ان لاپتہ افراد کا سراغ تھیم لوانگ کی غاروں میں سرچ آپریشن کے دوران لگایا۔اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انھیں باحفاظت غار سے باہر کیسے نکالا جائے جبکہ پانی اور گارا بڑھنے سے اْن تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔لاپتہ افراد کے خاندان ان کی تلاش کا سراغ ملنے پر بہت خوش ہیں۔غاروں میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش میں تھائی نیوی کے خصوصی دستے حصہ لے رہے ہیں اور سرچ آپریشن میں دو برطانوی غوطہ خور بھی شامل ہیں۔فیس بک پر شائع ہونے والے ایک ویڈیو میں ایک غوطہ خور انگریزی میں پوچھ رہا ہے کہ ‘آپ کتنے افراد ہیں؟’ جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ‘تیرہ’بظاہر گروپ نے پوچھا کہ کب انھیں باحفاظت نکالا جائے گا جس کے جواب میں ریسکیور کہتا ہے کہ آج نہیں۔غار میں پھنسے ایک لڑکے نے کہا کہ ‘انھیں بتاؤ کے ہم بھوکے ہیں۔غار میں پھنسے ان افراد کی ایک ڈرامائی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں تھائی لینڈ کے مقامی فٹبال کلب کی ٹیم زیر سمندر غاروں کے جال میں پھنسی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ لڑکے غار کے ایک خشک حصے میں دبکے ہوئے بیٹھے ہیں اور ان کے اردگرد پانی ہے۔ اس مقام پر وہ نو دن سے موجود ہیں۔ غار میں موجود یہ افراد خوراک اور اپنے آپ کو باہر نکالنے کا کہہ رہے ہیں۔اس ویڈیو کو بنانے والا غوطہ خور لڑکوں سے کہہ رہے ہیں کہ ‘وہ پریشان نہ ہوں اور بہت سے افراد آ رہے ہیں۔’ریسکیو ٹیم اس بات فیصلہ کر رہی ہے کہ آیا غار میں پھنسے افراد کو فوری نکالا جائے یا پھر پہلے غار سے پانی نکالا جائے اور کمزور اور لاغر افراد کو تھوڑا توانا ہونے دیا جائے۔غار میں پھنسے ان لڑکوں کی عمر گیارہ سے سولہ سال ہے اور وہ تیئس جون سے لاپتہ ہیں۔حکام کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو کیسے نکالا جائے۔ حکام کی سب سے پہلی ترجیح پھنسے ہوئے افراد کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنا ہے تاکہ اْن کی طاقت بحال ہو سکے۔غار میں پھنسے بارہ لڑکے مو پا فٹبال ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔ اْن کے 25 سالہ نائب کوچ اکثر اپنی ٹیم کو مختلف دوروں پر لے کر جاتے ہیں اور دو سال قبل بھی وہ اپنی ٹیم کے ساتھ اس غار میں آئے تھے۔ غار میں پھنسے سب سے کم عمر لڑکا 11 سال کا ہے۔ کلب کے ہیڈ کوچ جو ٹیم کے ساتھ موجود نہیں تھے کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ فٹبال کھلاڑی بننے کے لیے تمام ٹیم کو ساتھ وقت گزارانا چاہیے۔