Buy website traffic cheap

تیرے بحر کی موجوں

تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
میاں محمد اشفاق
تحریک انصاف اقتدار میں آچکی ہے اور آثار دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ مجھ جیسے بہت سے تبدیلی کے خواہشمندوں کو مایوسی ہو گی۔ ویسے یہ مایوسی بھی شاید ہم سے محبت کر بیٹھی ہے جو ساتھ چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور ہم بھی اس محبت کے عادی ہوچکے ہیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ شروع ہی سے ملکی سیاست میں ہمیشہ دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات موجود رہے، یہی تفریق کالم نویسوں، رپورٹرز اور اخبارات میں بھی پائی جاتی تھی‘ عوام بھی انہی نظریات کے اختلاف کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرتے رہے۔ دائیں بازوں کی جماعتوں میں مسلم لیگ نوازجماعت، اسلامی، جمعیت علماء اسلام(ف) جمعیت علماء اسلام (س)، جمعیت علماء پاکستان وغیرہ شامل تھیں۔ دوسری طرف بائیں بازو کی جماعتوں میں پیپلز پارٹی، اے این پی، پختوخواہ ملی پارٹی وغیرہ شامل تھیں، جب بھی سیاسی اتحاد کی ضرورت ہوتی تو یہی جماعتیں آپس میں اتحاد قائم کرکے حکومت میں پوزیشن حاصل کر لیتیں، داخلی اور خارجہ پالیسی پر بھی دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق تھا، ایک کیلئے مذہب اوڑھنا بچھونا جبکہ دوسری جماعتیں مذہب کے سیاست میں استعمال کیخلاف تھیں۔ کشمیر ایشوء پر بھی دونوں کی رائے الگ تھی، غرض دن اور رات جیسے اختلافات اور عقائد ہونے کی وجہ سے اقتدار کسی کے بھی پاس ہوتا، ہمیشہ اپوزیشن موجود رہتی تھی۔ پھر پرویز مشرف کے مارشل لاء نے مذہبی اور سیکولر جماعتوں کو اکٹھا کر دیا۔ دائیں بازو والی جماعتوں نے اپنے کارکنان کو جن بنیادوں پر متحرک رکھا، اُن میں پرویز مشرف کا سیکولر ذہنیت کا مالک ہونا، افغانستان میں مسلمانوں کے قتل عام میں امریکہ کا ساتھ دینا، کشمیر پر سودے بازی، متنازعہ سرحد پر باڑ لگانا، مغربی دُنیا کو خوش کرنے کیلئے لال مسجد جیسا سانحہ کر گزرنے جیسے بیشمار فیصلے موجود تھے (حالانکہ جس وقت لال مسجد کا سانحہ ہوا‘ اُس وقت تمام مذہبی جماعتیں ملکی حالات سے لاتعلق لندن میں سیاسی اتحاد بنا رہی تھیں) جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے مارشل لاء کو بنیاد بنا کر اپنے ووٹرز کو متوجہ کر لیا‘ یوں آگ اور پانی اکٹھے ہوئے اور پھر جدا نہ ہو سکے۔ سیکولر جماعتیں تو اپنے نظریات پر قدرے قائم رہیں مگر کشمیر کی آزادی پر سینکڑوں کارکنان قربان کرنے والی جماعتوں کیلئے مسئلہ کشمیر اہم نہ رہا۔ پرویز مشرف دور میں قادیانیت کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنے کے شائبہ پر احتجاج کرنے والے ناموسِ رسالت کے قانون میں ترمیم پربھی ( ایک رائے کے مطابق مصلحت جبکہ دوسری کے مطابق منافقت کا شکار رہے) پھر عمران خان سیاسی منظرنامے پر نمودار ہوا جنہوں نے ایک طرف مدینہ جیسی ریاست کی بات کی اور دوسری جانب جلسے کو نوجوانوں کی تفریح کا ذریعہ بھی بنا دیا، جہاں سیاسی مخالفین کی کلاس لی جاتی اور ناچ گانے سے بھی لطف اندوز ہوا جاتا۔ اپنی اس پالیسی سے عمران خان نے (خوش رہے بھگوان بھی راضی رہے رحمان بھی) کے مصداق دونوں ہی نظریات والی جماعتوں کے ووٹر کو متاثر کر لیا۔ 2013ء کے الیکشن کے بعد جمعیت علماء اسلام ف اور دیگر سیکولر جماعتیں مسلم لیگ نوازکی اتحادی بن کر وفاق میں جبکہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کرکے صوبے میں اقتدار انجوئے کرنے لگیں‘ ان پانچ سالوں میں سیکولر جماعتوں کی قیادتوں کی جانب سے کرپشن کے ریکارڈ توڑے گئے لیکن نیک اور پارسا مذہبی قیادتیں خاموشی سے ان ریکارڈ کو بنتا دیکھتی رہیں۔
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے۔۔۔۔۔تو مخبری کرتے
سوال یہ ہے کہ گزشتہ دیہائی میں مذہبی جماعتوں کی قیادت کی جانب سے اسلام کے نفاذ یا عوام کی فلاح کیلئے کیا کوششیں کی گئیں؟ اگر کچھ کیا گیا ہے تو وہ منظرعام پر نہیں ہے۔ 2018ء کے الیکشن میں اچانک اسلام کے نفاذ کیلئے ایم ایم اے کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی گئی‘ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ میاں نواز شریف کی خواہش پر کیا گیا تاکہ کے پی کے میں عمران خان کو شکست دی جا سکے۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ 2013ء میں بھی نواز شریف کے پی کے میں تحریک انصاف کو حکومت دینا چاہتے تھے اسی لئے جماعت اسلامی تحریک انصاف کی اتحادی رہی اگر نواز شریف اتحاد نہ چاہتے تو کبھی اتحاد برقرار نہ رہتا۔ حمزہ شہباز شریف بھی اس بات کا متعدد بار شکوہ کر چکے ہیں‘ اُن کا کہنا ہے کہ 2013ء میں ہم نے تو تحریک انصاف کو حکومت بننے دی تھی مگر 2018ء میں ہمیں پنجاب میں حکومت نہیں بنانے دی گئی، گویا جماعت اسلامی کی پالیسی نواز شریف کی خواہش کے تابعے تھیں۔ خیر گزشتہ 20 سال میں جس قدر سیاستدانوں نے عوام کو مایوس کیا ہے‘ اس سے کہیں زیادہ مذہبی رہنماؤں نے عوامی اُمنگوں پر شب خون مارا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ عوام نے انہیں مسترد کرکے نئی جماعت (پی ٹی آئی )کو اقتدار سونپ دیا ہے۔ اب ان جماعتوں سے ہار برداشت نہیں ہو رہی اور اقتدار کے لالچ میں سب اکٹھے ہیں‘ آپ تصور کریں کہ سیکولر نظریات کی جماعت اے این پی صدر پاکستان کے عہدے کیلئے مذہبی جماعت کے سربراہ فضل الرحمان کا نام تجویز کر رہی ہے۔۔۔ ماشاء اللہ۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔ موجودہ صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر جماعتوں سے تو اس بات کی اُمید نہیں کہ وہ خود احتسابی کر کے اپنی پالیسیوں پر غوروفکر کریں کہ عوام کی جانب سے اس قدر غیرمقبولیت کی وجوہات کیا ہیں، کم از کم جماعت اسلامی سے یہ اُمید ضرور کی جاسکتی ہے کیونکہ جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جہاں شخصیت پرستی کی بجائے تقویٰ، نظریات اور کردار کی بنیاد پر امیر مقرر کیا جاتا ہے اور تمام فیصلے شعوری کی رائے کے مطابق کئے جاتے ہیں۔ لوگ مجھ سے اکثر سوال کرتے ہیں کہ ٓپ جماعت اسلامی پر تنقید کیوں کرتے ہیں‘ ان دوستوں سے گزارش ہے جماعت اسلامی باقی جماعتوں سے بہت بہتر جماعت ہے جسکے کارکنان اسلام اور ملک پر ہر وقت قربان ہونے کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ میری مخالفت پالیسی سازوں کی پالیسیوں سے ہے، جنہیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ وہ ملک و قوم کے مفاد کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہیں‘ ان پر کسی ایک سیاسی جماعت کا اثر ظاہر ہوتا ہے اور یہ اثرات فی سبیل اللہ تو یقیناًنہیں ہو سکتے۔ مجھے لگتا ہے کہ یا تو آج کل فیصلے شعوری کی بجائے شخصیات کے ہاتھ جا چکے ہیں یا شعوری میں ایسے لوگ آ چکے جن کے ہاتھ عوام کی نبض کی بجائے چیک بک پر ہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں نہ کہیں مالی مفادات اور قومی مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے اور اس ٹکراؤ میں ہمیشہ ذاتی مفادات جیت جاتے ہیں اور یہ صرف میرے نہیں بلکہ جماعت اسلامی سے اُمیدیں رکھنے والے بیشمار لوگوں کے خدشات ہیں‘ جن کو دُور کرنے اور جماعت اسلامی کی متاثر ہونیوالی ساخت کو بہتر کرنے کیلئے امیر جماعت اسلامی کو اقدامات کرنا چاہئیں تاکہ کل اگر تحریک انصاف عوامی اُمنگوں پر پورا نہ اُترے تو عوام کو متبادل صاف ستھری اور محب وطن قیادت فراہم کی جا سکے اور ایسا صرف خواہش کرنے سے نہیں بلکہ عمل کرنے سے ہو گا۔ وہ دور گزر چکا جب محض نعروں سے عوام کا پیٹ بھر جاتا تھا، آج کا نوجوان نعروں پر نہیں بلکہ کارکردگی پر یقین رکھتا ہے اسلئے جماعت اسلامی ہی واحد جماعت رہ جاتی ہے جس میں عمل کی نیت اور سکت موجود ہے۔ یہ الگ بات کہ موجودہ پالیسیوں کو ری وزٹ کئے بناء یہ ممکن نہیں اسلئے امیر جماعت کو انتہائی غیرمعمولی اقدامات کرنا ہونگے۔ امیر جماعت اسلامی کو چاہئے کہ وہ نیب چیئرمین، ایف آئی اے، چیف جسٹس اور وزیر اعظم پاکستان کو خطوط لکھیں اور اُن سے مطالبہ کریں کہ ان کی جماعت کے عہدیداروں کا آڈٹ کیا جائے۔ اس آڈٹ سے اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو منظر عام پر آ جائیگی اور اگر نہ ہوئی تو احتساب کی ایسی بہترین مثال دنیا کے سامنے پیش کی جا سکے گی جس کی موجودہ دور میں تو کوئی نظیر ہی موجود نہیں ہے۔ امیرجماعت اسلامی اس احتساب کا آغاز خود سے کروائیں تاکہ کسی کو کوئی اعتراض ہی نہ رہے۔ یہ احتساب سالٹ احتساب ہونا چائے‘ مٹی پاؤ احتساب نہیں ہونا چاہئے کہ ایک بندہ کھڑا ہو کر اپنی صفائی پیش کر دے اور باقی واہ واہ کرکے مٹی ڈال دیں، یہ محض خانہ پوری ہو گی۔ ایسا احتساب ہونا چاہئے جس میں اکاؤنٹس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے‘ بیرون ملک کس نے کتنے دورے کس کے خرچ پر کئے‘ ان کی تفصیلات سامنے آئی چاہئے۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ کہیں پانامہ اور دبئی لیکس وغیرہ میں کسی شعوری ممبر یا عہدیدار کا نام تو موجود نہیں ہے؟ ملک سے باہر کس کی کتنی جائیدادیں ہیں؟ شعوری ممبران اور عہدیداروں کے بیوی بچوں کے اثاثے بھی چیک کئے جائیں۔غرض احتساب کیلئے تمام آپشنز استعمال کئے جائیں۔کم از کم مالی بد عنوانی کے حوالے سے ثبوت الزام لگانے والے سے مانگنے کی بجائے ان شخصیات کے اثاثے چیک کئے جائیں جن پر الزام لگائے جا رہے ہیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر الزام لگا تو صفائی آپ رضی اللہ عنہ نے پیش کی تھی نہ کہ الزام لگانے والے بدو نے ثبوت پیش کئے تھے‘ بدو نیتو صرف نشاندہی کی تھی‘ اسلئے جماعت اسلامی کو موجودہ احتساب پالیسی پر بھی غور کی ضرورت ہے۔ صاف شفاف اور بے لاگ احتساب ہی جماعت اسلامی کی بنیادوں کو مضبوط سے مضبوط تر کر سکتا ہے۔ اگر اس احتساب سے جماعت اسلامی کی قیادت سرخرو ہوکر نکلے تو پانچ سال ڈٹ کر اپوزیشن کی جائے۔ اپنے نظریات اور منشور پیش کیا جائے‘ ترکی کے صدر طیب اردگان کی مثال تقریروں کی بجائے عمل کر کے دی جائے، اگر یہ سب کر لیا جائے تو ان شاء اللہ آنیوالے الیکشن میں جماعت اسلامی کی پوزیشن قابل ذکر ہو گی۔ جماعت اسلامی کے پاس ترازو جیسا خوبصورت انتخابی نشان موجود ہے اسلئے الیکشن ترازوکے نشان پر لڑا جائے۔ کوئی مانے چاہے نہ مانے، کتاب کا نشان عوام کی نظروں میں مشکوک ہوچکا ہے۔ شاعر مشرق جناب علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دئے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں