Buy website traffic cheap

parliment outside

جا نے والوں کا چہرہ، آ نے والوں سے خد شا ت

ضیغم سہیل وارثی
جا نے والوں کا چہرہ، آ نے والوں سے خد شا ت
سیاسی بیا ن با زی کے با وجو د ، اس بار حکو مت نے اپنی مد ت پو ری کی ہے ، سوال ، ملک نے تر قی کی، یا زیا دہ مسا ئل کی طر ف گیا ہے ، کسی بھی گھرانے کی خو شخا لی کا انحصا ر اس کی معا شی صو رت حا ل پر ہو تا ہے ، وطن عز یز کا قر ضہ تیرہ میں تیرہ ہزا ر ارب تھا جو اب ستائیس ہزار ارب تک پہنچا ، عوام بو ل اٹھی ،
ہمیں تو عمر بھر یہ بھی خبر ہو نے نہ پا ئی
کہ وہ معصوم سا چہر ہ مسیحا تھا کہ تھا قا تل
حکو مت ختم ہو نے کو صرف ایک دو دن با قی تھے، قد رت جب چہر ے دکھا نے لگے تو ، بہا نے ہی بنتے ہیں ، مگر ، مگر ، یہ عوام پر ہے کہ ، وہ قد رت کی طر ف سے دکھائے گے چہر وں پر غو ر کر کے اپنی سو چ اور فیصلو ں کو بد لتی ہے ، یا نہیں، ہما ری عوام کو قد رت کی طر ف سے بہت سے اشا ر ے ملتے آ ئے ہیں ، مگر افسو س ، عوام نے ہر بار وہی کیا جو آ نے والے الیکشن میں کر ئے گی ، قصور عوام کا بھی نہیں، اس بے چا ری کے پا س اتنے آ پشن نہیں ہیں ، تما م سیا ست دانوں کو دیکھیں تو، بس کو ئی چچا تو کو ئی ماما ، یا بھا ئی بھانجا۔ اسی دو ران ، ایک پا رٹی نے سر اٹھا یا تھا، اس پا رٹی کا قا ئد ،وہ تھا ،جس نے اپنی کپتا نی میں قو می ٹیم کو کپ جتوا کر دیا تھا ، عوام نے اس کھلا ڑی پر خو ب اعتما د کا اظہا ر کیا ، مسلسل محنت کے بعد خاں صا حب تحر یک انصا ف کو اس پو زیشن میں لے کر آ ئے کہ اب کا فی حد تک امید بھی لگا بیٹھے ہیں کہ تین ما ہ بعد ملک کے وز یر اعظم خاں صا حب ہو ں گے ، اتنی محنت اور مشکلا ت کے بعد ، ایسی امید لگا نی بھی چا ہیے ،مگر ہو کیا رہا ، اس طر ف ، غو ر ، کچھ نہیں ، بہت سے سیا ست دانوں کو تحر یک انصا ف میں جگہ دی گئی جو دوسر ی پا رٹی سے آ ئے ہیں ، اب صو رت حال یہ ہے کہ ، پر انے کھلا ڑی خاں کے سا تھی کم کم ہی نظر آ رہے ہیں ، اہم میٹنگ ہو تو خاں صا حب کے آس پا س وہ کھلا ڑی نظر آ تے ہیں جو دوسری سیاسی جما عتوں سے اڑ کر تحر یک انصا ف میں آ ئے ہیں ، ایمبسی روڈ جب خا کسا ر جا ب کر تا تھا، بارہ سے پہلے ،تو وہاں ، علوی صا حب ، اعجاز چوہد ری صا حب، سیف اللہ نیا زی صا حب ، اور بہت سے اس وقت کے متحرک کھلا ڑی ، نظر آ تے تھے ، ان کی با توں ، ان کا جو ش ، دیکھ کر سو چ آ تی تھی ، کہ یہ سا دہ طر ز کے لو گ قومی لیول کی سیا ست میں آ ئیں گے تو ملک میں بہتری ہو گی ، مگر اب ہو ا یہ ، کہ اعجاز چوہد ری صا حب کو ، میڈ یا پر بیٹھا دیا گیا ،وضا حتیں دینے پر ، سیف اللہ نیا زی صاحب منظر سے غا ئب ہیں ، اہم اجلا سوں میں وہ چہر ے اب نظر نہیں آتے جو خاں کے پر انے سا تھیوں میں گنے جا تے تھے ، کچھ سا تھ ہیں ، مگر صرف نظر آ نے تک ،فیصلے کر نے کی ٹیبل پر اور لو گ نظر آ تے ہیں ، جیسے کہا جا تا ہے ، جب سے چو ہد ری نثا ر جیسے لو گ نو از شر یف سے دور ہو ئے اور وہ گلہ بھی کر تے رہے کہ میا ں صا حب کے آ س پا س مشورہ دینے والے ان کے لیے مشکلا ت میں اضا فہ کر رہے ہیں ، ایسے ہی خاں صاحب نے سیف اللہ نیا زی جیسے نوجوان سیا ست دانوں کو خو د سے دور کیا ہے تو ، صور ت حال یہ بن رہی ہے کہ، پہلے اپنے صو بے میں نگر ان وز یر اعلی کا نام دینے پر یو ٹر ن لیا پھر ، پنچا ب میں ، جہاں ان کو بہت پہلے سے بطو ر اپو زیشن تیا ری میں رہنا چا ہیے تھا ہ یہاں ہم نے کون سا نام نگر ان وز یر اعلی کے لیے دینا ہے ، نا م دیا گیا ،اور ایک ہی دن بعد ، یو ٹر ن، تا ثر یہ پیدا ہو رہا ، کہ جو جما عت وفا ق میں قیا دت کا سو چ رہی ، اس کے فیصلے ایسے ہیں ، کہ ، ایک دن میں وہ ، اپنے کیے فیصلے بد ل رہے ہیں ، صرف اسی فیصلے پر غو ر کیا جا ئے تو ، سوال ، کیا فل پا رٹی مشا ور ت نہیں ہو ئی تھی ، اگر ہو ئی تھی ، پھر کیو ں یو ٹر ن لینا پڑا ، مو قف یہ اپنا یا گیا ، کہ نا م دینے کے بعد پا رٹی کے اندر سے اختلا فا ت پیدا ہو ئے تو سب کی را ئے کو دیکھتے ہو ئے نام وا پس لیا گیا، تو خاں صا حب با قی سیا سی جما عتوں کی طر ح پہلے خو د فیصلہ کر یں گے ، اور جب دبا ؤ ڈالا جا ئے گا تو یو ٹر ن لے لیا جا ئے گا ، سیا سی جما عت ملک کا وز یر اعظم لا نا چا ہ رہی اور وہ اپنے فیصلو ں میں پختگی ظا ہر نہیں کر رہی ، آ گے دیکھیں شر وا نی پہن کا کون سا ، اور کب کب یو ٹر ن لیا جا ئے گا۔
حکو مت کا آ خر ی دن ، پنچا ب کے وز یر اعلی صا حب نے بہت سے ارشا دات فر ما ئے ، مگر ایک اہم ،وہی ،قد رت نے اشا رہ تو دینا تھا ،فر ما یا گیا ، کل سے لو د شیڈ نگ ہو ئی تو ذمہ دار شہبا ز شر یف ، میاں صاحب یا عبا سی صا حب نہیں ہو ں گے ، بلکے نگران حکو مت ہو گی ، یہ کیسی عجیب با ت ، جو سیا سی جما عت پچھلا الیکشن جس ایشو کو حل کر نے کے نعر ے پر حکو مت میںآ ئی ، اور عوام سے ووٹ لی ، اس ایشو کو مکمل طو ر پر حل نہیں کر سکی ،اور مسائل سے نمٹنے کے لیے انتہا ء کے قر ضے بھی لیے گے ، اور جب ان کی حکومت کا آ خر ی دن تھا تو کہا گیا ، ہم آ ج تک کے ذمہ دار تھے ، ہما رے سیا ست دان عوام کو کب تک بے وقو ف بنا تے رہیں گے ،آ گے سے خو د ہی جو اب آ تا ہے ، کہ ، جب تک خو د عوام بنتے رہیں گے ، کا میا ب ریا ستیں تر قی کر تی ہیں ان کے سر بر اہاں جو بھی مسا ئل پر ایکشن لیتے ہیں تو ایسی پا لیسوں پر کا م کیا جا تا کہ آ نے والی نسلیں بھی اس پر ابلم سے بچ جا ئیں ، ہما رے سیا ست دان جب دبنگ انداز میں یہ کہتے پھر تے ہیں کہ ہما ری ذمہ داری صرف حکومت کے آ خر ی دن تک تھی ، پھر انداز ہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ، جب یہ کسی بھی ملکی مسا ئل کے حل کے لیے پا لیسی بنا تے ہو ں گے تو ان کی نیت کیا ہو تی ہو گی ، نیت صر ف یہ کہ اپنی حکو مت کے دنوں تک مسا ئل نظر نہ آ ئیں ، بعد میں عوام جا ئے بھا ڑمیں،
سیاسی بیا ن با زی کے با وجو د ، اس بار حکو مت نے اپنی مد ت پو ری کی ہے ، سوال ، ملک نے تر قی کی، یا زیا دہ مسا ئل کی طر ف گیا ہے ، کسی بھی گھرانے کی خو شخا لی کا انحصا ر اس کی معا شی صو رت حا ل پر ہو تا ہے ، وطن عز یز کا قر ضہ تیرہ میں تیرہ ہزا ر ارب تھا جو اب ستائیس ہزار ارب تک پہنچا ، عوام بو ل اٹھی ،
ہمیں تو عمر بھر یہ بھی خبر ہو نے نہ پا ئی
کہ وہ معصوم سا چہر ہ مسیحا تھا کہ تھا قا تل