Buy website traffic cheap

کمیشن

ٹکٹوں‌ کی تقسیم کا معاملہ اپنی جگہ . الیکشن کمیشن کی بھی صورتحال تشویشناک

سیاسی جماعتوں‌میں ٹکٹوں‌ کی تقسیم کا معاملہ اپنی جگہ . الیکشن کمیشن بھی صورتحال تشویشناک،………………..الیکشن کمیشن کو بڑے انتظامی بحران کا شکار اُس وقت ہو گئی جب الیکشن سر پر آن پہنچے ہیں، انتہائی اہم ترین ایڈیشنل سیکرٹریزایڈمن، الیکشنز، ٹریننگ، ریسرچ کے عہدے خالی ہوچکے ہیں‌۔ 10 ضلعی الیکشن کمشنرز اور 20 الیکشن آفسرز کی نشستیں خالی ہیں، ماضی میں ترقیاں نہ دینے سے افسران کا بحران پیدا ہوا ہے، کئی اہم پوسٹیں خالی ہونے کے باعث الیکشن امور متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ترجمان الیکشن کمیشن ندیم قاسم نے انتظامی بحران کی تصدیق کرتے ہوئے کہا اس بحران سے عام انتخابات متاثر نہیں ہونگے

—————————–
یہ خبر بھی پڑھیئے

تلو کی فی ایکر زیادہ پیداوار کیلئے 15 جولائی تک کاشت مکمل کرنا ضروری
امسال تل کی منظور شدہ اقسام ٹی3،ٹی 5اور ٹی6وغیرہ کا وافر بیج کاشتکاروں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کیاجارہا ہے :ماہرین زراعت
فیصل آباد÷÷÷÷کاشتکاروں کو خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے تلوں کی کاشت 15جولائی تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ تل کے بیجوں میں 50فیصد سے زیادہ اعلیٰ خصوصیات کا حامل خوردنی تیل اور تقریباً22فیصد سے زیادہ اچھی قسم کی پروٹین ہوتی ہے اسی لیے یہ انسانوں اور مویشیوں کیلئے بہترین غذا ہے نیز اس کی کھلی دودھ اور گوشت دینے والے جانوروں اورانڈے دینے والی مرغیوں کی بہترین خوراک ہے جبکہ تلوں کا تیل اعلیٰ قسم کے صابن، عطریات ، کاربن پیپر، ٹائپ رائٹر کے ربن بنانے کے کام آرہا ہے۔علاوہ ازیں تلوں کی کاشت پر خرچ کم، رقبہ اور وقت کے حساب سے فی یونٹ آمدنی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ اب ایک بہترین نقد آور فصل کا درجہ اختیار کرگئی ہے۔ماہرین زراعت نے بتایا کہ امسال تل کی منظور شدہ اقسام ٹی3،ٹی 5اور ٹی6وغیرہ کا وافر بیج کاشتکاروں کو رعایتی نرخوں پر فراہم کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کاشت کاروں کو سفارش کی ہے کہ وہ درمیانی میرا سے بھاری میرازمین جس میں پانی جذب کرنے اور نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت ہو میں تلوں کی کاشت کریں جبکہ تلوں کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے 15جولائی تک کاشت مکمل کرناضروری ہے۔اچھا اگاؤ دینے والی زمین میں تندرست اورصاف ستھرا ڈیڑھ سے دو کلوگرام بیج فی ایکڑ بذریعہ ڈریل لائنوں میں کاشت کیاجاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار زمین کو اچھی طرح تیار اورہموار کرکے تر وتر حالات میں فصل کوبذریعہ سنگل رو ڈرل سے صبح یا شام کے وقت میں کاشت کریں ، قطاروں کا آپس میں فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں اور ایک ایکڑ کیلئے ڈیڑھ سے دوکلوگرام بیج کو چھ سے آٹھ کلوگرام باریک ریت یا بھل والی مٹی میں اچھی طرح ملا کر ڈرل چلائیں۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار بیج کو ڈیڑھ سے دو انچ سے زیادہ گہرائی میں کاشت نہ کریں کیونکہ اس سے بیج کا اگاؤ متاثر ہوگا اور فی ایکڑ پودوں کی تعداد میں کمی ہوسکتی ہے۔ کسان زمین کی ذرخیزی کو ٹیسٹ کروا کر کھادوں کا استعمال کریں اوراوسط ذرخیز زمین میں ایک بوری ڈی اے پی ، آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ اور آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوقت بوائی استعمال کریں۔انہوں نے کہاکہ پونی بوری یوریا پہلی آبپاشی اور پونی بوری یوریا دوسرے پانی کے ساتھ دو قسطوں میں استعمال کی جائے۔کاشت کے تقریباً ایک ہفتہ بعد تلوں کا اگاؤ مکمل ہوجاتا ہے اسلئے اگاؤ مکمل ہونے پر جب فصل چار پتے نکال لے تو چھدرائی کا عمل مکمل کرلیاجائے۔انہوں نے کہاکہ پودوں سے پودوں کا فاصلہ ٹی ایچ6 قسم کیلئے چار انچ اور ٹی ایس3اور ٹی ایس5کیلئے چھ انچ رکھنا بھی ضروری ہے۔