Buy website traffic cheap

جنوبی افریقا

جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید

جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید
دبئی: جنوبی افریقا میں طویل عرصے تک تنازع کا شکار رہنے والے اسلامی شرعی نکاح کے حوالے سے وہاں کی عدلیہ نے مثبت فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔عرب خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقا کی ایک عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دو سال کے اندر اندر قانون سازی کر کے اسلامی شرعی طریقے کے مطابق طے پانے والے عقد نکاح کو آئینی طور پر تسلیم کرے۔خیال رہے کہ جنوبی افریقا کے موجودہ نظام میں اسلامی شریعت کے مطابق نکاح کی کوئی گنجائش نہیں جس کے نتیجے میں وہاں کی مسلمان آبادی کو کافی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جنوبی افریقا کی اس پالیسی پر شدید نکتہ چینی کرتی رہی ہیں۔جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ نے حکومت سیکہا ہے کہ وہ اسلامی شرعی طریقے کے مطابق عقد نکاح کو دستوری طور پر تسلیم کرنے کے لیے 24مہینوں کے اندر اندر قانون سازی مکمل کرے تاکہ ملک میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف فراہم کیا جاسکے۔عدالت کا کہنا ہے کہ اسلامی شرعی عقد نکاح کو تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں مسلمان خواتین کو طلاق کی صورت میں اپنے حقوق کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ آئینی سقم ہے اور اسے دور کرنے کے لیے حکومت دو سال کے اندر اندر قانون سازی مکمل کرے۔واضح رہے کہ جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ میں یہ معاملہ خواتین کی قانونی معاونت کرنے والے ایک گروپ نے اٹھایا ہے۔ یہ تنظیم مسلمان خواتین کی اسلامی شریعت کے مطابق عقد نکاح اور طلاق کو تسلیم کرتا ہے اور شادی شدہ مسلمان خواتین کو ان کے سماجی حقوق دلانے کا مطالبہ کرتا ہے۔یاد رہے کہ جنوبی افریقا کی پانچ کروڑ پچاس لاکھ آبادی میں 1.5 فی صد مسلمان ہیں۔