Buy website traffic cheap

عثمان

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت کے نمایاں کارنامے، سیرت و کردار

مولانا محمد الیاس گھمن
آپؓ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبویﷺ سے 47 سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔آپ ؓ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے : عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف۔ گویا پانچویں پشت میں آپؓ کا سلسلہ نسب رسول اکرم ﷺ سے مل جاتا ہے۔ والدہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبدمناف۔ سیدنا عثمان ؓ کی نانی محترمہ بیضاء ام الحکیم؛ رسول اللہ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ کی سگی جڑواں بہن تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی سگی پھوپھی تھیں۔ اس نسبت سے آپؓ کے بھانجے ہوئے۔ سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں میں نہ کبھی زنا کیا ، نہ شراب پی، نہ کسی کو قتل کیا، نہ کبھی چوری کی ، نہ کبھی مسلمان ہونے بعد دین سے پھرا، نہ دین بدلنے کی تمنا کی ، نہ ہی گانا بجایا۔ سیدنا عثمانؓ بہت خوب صورت تھے: گندمی رنگ ، قد معتدل ، گھنی داڑھی ، مضبوط جسم ، بارعب اور شخصیت کو نمایاں کرنے والا چہرہ تھا۔ ام المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کا نکاح اپنی بیٹی سیدہ ام کلثومؓ سے فرمایا تو ان سے کہا کہ بیٹی!آپ کے شوہر نامدار(سیدنا عثمان ) تمہارے دادا حضرت ابراہیم اور تمہارے باپ محمدﷺ سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ علامہ سیوطی ؒ نے بحوالہ ابن عساکر ابو ثور فہمی ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عثمان ؓنے ایامِ محاصرہ کے دوران مجھ سے کہا : میں اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھے نمبر پر ہوں۔
اخلاق و عادات :
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے بارے میں فرمایا : میں اس شخص(سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ )کا حیاءکرتا ہوں جس کا فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : میری امت میں سب سے زیادہ باحیاء عثمانؓ ہیں۔انکساری و تواضع کا یہ عالم ہے کہ تین براعظموں کے فاتح ہیں لیکن جب ایک غلام نے آپ کی دعوت کی تو آپؓ اسے خوشی خوشی قبول فرما لیا چنانچہ صحیح بخاری باب اجابة الحاکم الدعوة میں روایت ہے کہ حضرت عثمانؓنے مغیرہ بن شعبہ کے ایک غلام کی دعوت کو قبول فرمایا۔ زہد و تقویٰ کی بلندی ملاحظہ فرمائیے ابو ثور تمیمی ؓ کی روایت ہے حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کبھی لہو لعب کی تمنا نہ کی۔ آپ نے مسلسل دس حج ادا فرمائے ، آپ مناسک حج کے بہت بڑے عالم تھے ، امہات المومنین کو بھی آپ نے حج کرایا۔آپ نے سیدناحسین ؓ کو بھی حج کرایا۔اس موقع پر آپ لوگوں سے عمال کی شکایات دریافت فرماتے اور ان کا ازالہ فرماتے۔
صلح حدیبیہ اوربیعت ِرضوان :
6 ہجری میں رسول پاک نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ہمراہ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور کعبة اللہ کا طواف کیا اس کے بعد کسی نے سر کے بال منڈوائے اور کسی نے کتروائے۔ آپ نے یہ خواب صحابہ کو سنایا سب نہایت خوش ہوئے۔ اس کے بعد آپ ﷺ اسی سال ذو القعدہ کے مہینے میں عمرہ کے ارادہ سے مکہ معظمہ کا سفر شروع کیا ، صحیح روایات کی بنیاد پر آپ کے ہمراہ جماعت صحابہ کرامؓ کی تعداد 1400 اور 1500 کے درمیان ہے۔ مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر سب نے احرام باندھا ، پھر آگے حدیبیہ تک پہنچے ، کفار مکہ نے مزاحمت کی کہ ہم مکہ نہیں آنے دیں گے۔ نبی پاک ﷺ نے صحابہ کرام کے مشورے سے اپنا سفیر سیدنا عثمان ؓ کو بنا کر بھیجا کہ آپ جا کر مکہ والوں کو سمجھائیں کہ ہم لڑنے کی نیت سے نہیں آئے بلکہ کعبہ کا طواف کر کے واپس چلے جائیں گے۔ سیدنا عثمانؓ مکہ پہنچے اور ان کو یہ بات سمجھانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کفار مکہ نے ضدکی وجہ سے اسے قبول کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا۔جب سیدنا عثمان ؓ مکہ جانے لگے تو کسی صحابی نے یہ بات کہہ دی کہ عثمانؓ کی قسمت اچھی ہے وہ مکہ جا کر کعبہ کا طواف کریں گے مگر ہمیں کفار اجازت دیں یا نہ دیں۔ یہ بات رسول اللہ ؓ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: عثمان کے متعلق ہمیں یہ وہم بھی نہیں کہ وہ ہمارے بغیر کعبہ کا طواف کر لیں گے۔ ادھر دوسری طرف جب سیدنا عثمان ؓ مکہ پہنچے تو سردار مکہ ابو سفیان نے کہا : عثمان ؓ اگر تم چاہو تو میں تمہیں طواف کی اجازت دے سکتا ہوں لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ تمہارے نبی کو طواف کی اجازت نہیں دیں گے۔ سیدنا عثمان ؓ نے ابو سفیان کو جواب دیا : رسول اللہ ﷺکے بغیر میں ہرگز طواف نہیں کروں گا۔ آپ کے اس جواب پر ابو سفیان نے سیدنا عثمانؓاور آپ کے ہمراہ دس صحابہ کرام کو قید کر دیا۔ کسی نے یہ غلط خبر اڑا دی کہ کفار مکہ نے سیدنا عثمانؓ اور ان کے ہمراہ دس صحابہ کرامؓ کو شہید کر دیا ہے۔ اس خبر سے رسول اللہ ﷺ کو شدید صدمہ پہنچا ، آپ اٹھے اور میدان حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے تشریف لے گئے۔ آپ نے صحابہ کرام ؓ کو بلایا اور سیدنا عثمان ؓ کا بدلہ لینے کے لیے موت کی بیعت کی۔ جب آپ بیعت لے رہے تھے تو آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو سیدنا عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔ اسی بیعت کو ”بیعتِ رضوان“ کہتے ہیں۔لیکن بعد میں پتہ چلا کہ شہادت عثمان والی خبر سچی نہ تھی۔آپ نے حکم دیا کہ کفار کے کچھ لوگوں کو قید کر لو ، مسلمانوں نے کفار کے چند لوگوں کو قید کرلیا۔ تب کافروں نے مجبور ہو کر سیدنا عثمانؓ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیا اور اس کے بدلے اپنے لوگوں کو رہا کروایا۔
خلافت عثمانی کے نمایاں کارنامے:
سیدنا عثمان ؓ نے جن حالات میں عہدہ خلافت اٹھایا اگرچہ وہ مشکل ترین حالات تھے لیکن اس کے باوجود آپ کی فراست ، سیاسی شعوراور حکمت عملیوں کی بدولت اسلام کو خوب تقویت ملی۔ اسلام پھیلا، اسلامی تعلیمات سے زمانہ روشن ہوا۔ آپ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے لوگوں کو نماز عصر پڑھائی۔ آپ نے فوجیوں کے وظائف میں سو سو درہم کے اضافے کا اعلان کیا۔اس کے ساتھ ساتھ طرابلس ، قبرص اور آرمینیہ میں فوجی مراکز قائم کیے۔چونکہ اس وقت فوجی سواریاں اونٹ اور گھوڑے ہوا کرتے تھے اس لیے فوجی سواریوں کے لیے چراہ گاہیں بنائیں۔ مدینہ کے قریب ربذہ کے مقام پر دس میل لمبی دس میں چوڑی چراگاہ قائم کی ، مدینہ سے بیس میل دور مقام نقیع پر ، اسی طرح مقام ضربہ پر چھ چھ میل لمبی چوڑی چراہ گاہیں اور چشمے بنوائے۔ آپؓ کے زمانہ خلافت میں اونٹوں اور گھوڑوں کی کثرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ضربہ کی چراہ گاہ میں چالیس ہزار اونٹ پرورش پاتے تھے۔اسلامی بحری بیڑے کی بنیاد حضرت معاویہ کے اصرار پر سیدنا عثمان ؓ نے رکھی۔ملکی نظم و نسق کو مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر استوار کیا ، رائے عامہ کا تہہ دل سے احترام فرمایا کرتے تھے ،اداروں کو خود مختار بنایا اور محکموں الگ الگ تقسیم فرمایا : سول ، فوجی ، عدالتی ، مالی اور مذہبی محکمے جدا جدا تھے۔ حضرت عثمان لوگوں کی بے جا تنقید اور عیب گوئی کی پروا کئے بغیر روزانہ لوگوں میں مال تقسیم فرماتے ، عطیات عطا فرماتے ،کھانے پینے کی اشیاءتقسیم فرماتے ، یہاں تک کہ گھی اور شہد بھی تقسیم کیا جاتا۔ اس کے علاوہ امن وخوشحالی کے عوام سے قرب و ربط ،مظلوم کی نصرت و حمایت ، فوجی چھاونیوں اوراسلامی مکاتب و تعلیم گاہوں کا جال، تعمیر مساجد اور مسجد نبوی کی توسیع، تعلیم القرآن کو عام کرنا ، خون وخرابہ سے دارالخلافت کو بچائے رکھناوغیرہ۔سیدنا عثمان ؓ کے دور ِخلافت میں بعض وہ ممالک جو سیدنا عمرؓ کے زمانہ خلافت میں فتح ہو چکے تھے وہاںبغاوت پر قابو پاکر ان کو دوبارہ فتح کیا گیا۔ اس سے بڑھ کر آذربائیجان ، آرمینیہ ، اسکندریہ کا طبری اور البدایہ والنہایہ میں تفصیلاً ذکر ملتا ہے۔ بلاد روم اور رومی قلعے ،بلاد مغرب، طرابلس، انطاکیہ ، طرطوس ،شمشاط ، ملطیہ ،افریقہ ، سوڈان ، ماوراءالنہر ،ایشائے کوچک ، ایران ، ترکستان ، اندلس ، اصطخر، قنسرین ، قبرص ،فارس ، سجستان ، خراسان ، مکران ، طبرستان ، قہسستان ، ابر شہر ، طوس ، بیورو ، حمران ، سرخس ، بیہق ، مرو، طالقان ، مروروذ ، فاریاب ، طخارستان، جوزجان ، بلخ ، ہرات ، باذغیس ،مروین وغیر کے ہر علاقے کی تفصیل تاریخ کی کتب میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔گویا براعظم ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے بڑے بڑے ممالک فتح کیے گئے۔ فارس و روم کی سیاسی قوت کا استیصال کر کے روئے زمین کا بیشتر حصہ اسلامی سلطنت کے زیر نگیں لایا گیا۔
سیدنا عثمان ؓنے سرحدوں پر موجود اسلامی افواج کو یہ ہدایات بھیجیں کہ تم لوگ مسلمانوں کی حمایت اور ان کی طرف سے دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے ہو۔تمہارے لیے حضرت عمر ؓنے جو قوانین مقرر فرمائے تھے وہ ہماری مشاورت سے بنائے تھے۔ اس لیے مجھ تک یہ خبر نہیں پہنچنی چاہیے کہ تم نے ان قوانین میں رد و بدل سے کام لیا ہے۔ اور اگر تم نے ایسا کیا تو یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسری قوم کو لے آئیں گے۔ اب تم خود فیصلہ کرو کہ تم نے کیسے بن کے رہنا ہے ؟اور جو ذمہ داری مجھ پر میں بھی اس کی ادائیگی کی پوری کوشش کر رہا ہوں۔ 18 ذوالحج بروز جمعہ تقریباً نماز عصر کے وقت سیدنا عثمان ? کو شہید کر دیا گیا۔آپ نے کل 82سال کی عمر پائی۔حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ حضرت عثمان خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے اور آپؓ کی زبان پر اللہ کے حضور یہ دعا جاری تھی۔ اللھم اجمع امة محمد۔ اے اللہ امت محمدیہ کو باہمی اتفاق نصیب فرما۔

رسول اللہ کے جلیل القدر صحابی ،مظلومِ مدینہ
سیدنا عثمان رضی ا ﷲ عنہ

جنیدرضا،کراچی
مظلومِ مدینہ،جامع القرآن،پیکر حیائ،کاتب وحی ،دہرئے دامادرسول،خلیفہ سوم ،امیرالمﺅمنین حضرت عثمان بن عفّان رضی ا ﷲ عنہ اسلام کی وہ عظیم ہستی ہے ،کہ جنہوں نے اشاعت دین اسلام کے لئے اور فتنوں کی سر خوبی کے لئے اپنا مقدّس لہو بارگاہ الہی میں پیش کیا۔
آپ ؓکا اسم مبارک ”عثمان“اور لقب”ذوالنورین“ہے، آپ ؓکا نسب پانچویں پشت میںرسول اﷲﷺ سے جا ملتا ہے۔آپ ؓکی پیدائش واقعہ فیل کے چھ برس بعد ہوئی۔آپؓ کے والدمحترم کا نام عفان اوروالدہ محترمہ کا اروی ہے، حضرت اروی حضورﷺ کی پھوپھی امّ حکیم بنت عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں۔یہ امّ حکیم وہی ہیں، جورسول اﷲﷺکے والد حضرت عبداﷲکے ساتھ توام پیدا ہوئی تھی، ©غرض یہ ہیکہ حضرت عثمانؓ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے رسول اﷲﷺ کے ساتھ قریبی قرابت رکھتے تھے۔
حضرت ابوبکرصدیق ؓ کی رہنمائی سے مشرف با اسلام ہوئے©،قبل ازسلام بھی قریش میںان کی بڑی عزّت تھی ،آپ بڑے صاحب حیاءاور بہترین سخی کے مالک تھے اور بعد سلام توآپ کی حیاءوسخاوت بے مثال تھی، گھر کے اندر دروازہ بند کرکے نہانے کے لئے کپڑے اتارتے تھے تو بھی کھڑے نہ ہورتے تھے۔حضورﷺنے ان کی حیاءکے متعلّق ارشاد فرمایاکہ کیا میں ایسے شخص سے حیاءنہ کروکہ جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیاءکرتے ہیں۔
رسول اﷲﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے فرمایا!عثمان پہلے شخص ہے جنہوں نے حضرت ابراہیم ولوط علیہما السلام کے بعد مع اپنے اہل بیت کے ہجرت کی ،غزوہ بدر کے موقع پرحضرت رقیّہ ؓ کو مرض نے آگہراجس کے سبب نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان ؓ کو بدر میں شرکت سے منع فرمایا اور حضرت رقیّہ ؓ کے ساتھ رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا اﷲآپ کو بدر کے شریکین کا ثواب عطا فرمائگا ،اورغزوہ بدر کی فتح پرحضورﷺ نے مال غنیمت میں سے آپ ؓ کو بھی حصہ دیا،جس دن بدر فتح ہوااسی دن حضرت رقیّہ ؓ انتقال فرماگئی،ان کی وفات کے بعد رسول خداﷺ نے فرمایا!کہ اﷲ کا حکم ہے کہ میں اسکی بہن امّ کلثوم کا نکاح عثمان سے کردو،پھر جب امّ کلثومؓ کی وفات ہوئی ،تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا!!اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسکا نکاح بھی حضرت عثمانؓ سے کردیتا،ایک روایت میں آتا ہے کہ حضورﷺنے فرمایا !اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتی تو میں یکے بعد دیگر ہر ایک کا نکاح عثمان کے ساتھ کردیتا،اس طرح حضرت عثمانؓ حضورﷺکے دہرے داماد بنے اور آپ ؓ کو ذوالنورین(دو نوروں والا)کا لقب دیا گیا۔
آپؓسخاوت کے اعلی مرتبے پر فائز تھے ،دین اسلام کو یا مسلمانوں کوجب بھی مالی ضرورت پڑی تو آپؓ کا مال کثیر تعداد میں اگے نظر آتا تھا، چاہے وہ غزوہ تبوک کا موقعہ ہو یا بیررومہ کی خریداری کا ،آپ نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کی بڑی مالی خدمتیں کی اوررسول اﷲ کی اچھی اچھی دعائیں حاصل کی۔آپؓ کا شمار اُن صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے کہ جن کو حضور ﷺنے نزول وحی لکھنے پر معمور کیا ہوا تھا اسی وجہ سے آپؓ کو کاتب وحی کا لقب ملا۔
آپؓ کا دور فتوحات کی منزل کی جانب رواں دواں تھا اسی اثناءمیں یہودونصری (جوکہ اشاعت اسلام کی بہرتی ہوئی تیزی کو روکنے کے لئے اوّل دن سے مصروف ہے)نے ایک فتنہ بھرپا کیا اُس فتنے نے خلافت عثمانی ؓ کا انکار کرنا شروع کردیا، نام نہاد عاشقان علی ؓ بن کر حضرت عثمانؓ کو خلافت سے اتار نے لگے ،آپؓ کے گھر کا گھراﺅ ں کیا آپؓؓ پر پانی بند کردیاگیا،اور آپؓ کو شہید کرنے کے ارادے دن بدن مظبوط
ہونے لگے ،حضرت علیؓ نے اپنے دونوں صاحبزادوں (حضرت حسن و حُسینؓ)کو حضرت عثمانؓکی حفاظت کے لئے گھر کے دروازے پر تلوار لیکر کھڑا کردیا،لیکن فتنہ انتہائی عروج پر پہنچ چکا تھا ،اُن کا مقصدحضرت عثمانؓکو منصب خلافت سے اتار نا تھا، تو بہت سے صحابہ اکرام ؓ آپؓکے پاس آئے اور فرمایا اس منصب کو چھوڑ دے ،توحضرت عثمان ؓ نے فرمایا ،میں اس منصب کو نہیں چھوڑ سکتا ،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا ،اے عثمان! اﷲتجھے ایک قمیص پہنائےگا ،لوگ اسکو اتارنا چاہے گے، تم نے لوگوں کے کہنے سے اگر اس قمیص کو اتاردیا تو جنّت کی خوشبو تم کو نصیب نہ ہوگی ۔لہذا میں اس پر رہوں گا،لوگوں نے کہا پھر آپؓکو اس ظلم سے نجات کیسے ملے گئی، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا اب نجات کا وقت قریب ہے ،آج مینے نبی کریم ﷺکوخواب میں دیکھا آپ فرمارہے تھے اے عثمانآج افطاری ہمارے ساتھ کرنا،چناچہ آج مینے روزہ رکھا ہے او ر انشاءاﷲ افطار کے وقت رسول خدا کے پاس چلے جاﺅنگا،چناچہ ایسے ہی ہوا 40دن مسلسل آپؓپر پانی بند رکھنے کے بعد18ذی الحجہ کواس فتنے کے لوگ اپنے ناپاک عزائم لیکر حضرت عثمان ؓ کے گھر کی طرف بھڑئے گیٹ پر حضرت حسن و حُسین کو دیکھ کر 3آدمی گھر کے پچھلے جانب سے کود کر آندر آگئے، حضرت عثمان ؓ حالت روزہ میں قرآن شریف کی تلاوت میں مگن تھے کہ انہوں نے آپؓ پر تلوارے چلادیں آپؓ کا خون اس آیت پر گہرا فسیکفیکھم اﷲ وھوالسمیع العلیم،آپؓ کی بی بی صاحبہ نائمہ نے بہت شور کیا مگر ان کی آواز باہر تک نہ سنی گئی آخر کوٹھے پر چڑھ کر انہوں نے آواز دی کہ اے لوگو ں امیرالمﺅمنین شہید ہوگے یہ آواز سن کر لوگ اندر گئے تو دیکھا آپؓ شہید ہوگئے اور قاتل پشت کی دیوار سے کود کربھاگ گئے ۔اس طرح امیرالمﺅمنین حضرت عثمانؓ 18ذی الحجہ 35ھ بمطابق مئی 656کو اس دار فانی سے خالق حقیقی کو جاملے ،انّاا ﷲوانّا الیہ راجعون
، حضرت عثمانؓکی شان کے متعلّق قرآن مجید کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں مروی ہے ۔
حضرت طلحہ بن عبیداﷲؓ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا!ہر نبی کا جنّت میں ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق عثمان ہے ۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی ایک مرتبہ احد کے پہاڑ پر چڑھے اور آپﷺ کے ساتھ ابوبکرؓ،عمرؓاورعثمانؓ تھے، پہاڑ ہلنے لگا توآپﷺ نے اپنے پاﺅں سے اسکو اشارہ کیا اور فرمایا!اے احد ٹہر جا، تیرے اوپر ایک نبی ،ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے حضرت عثمانؓ کے متعلّق فرمایا کہ میں اس شخص سے کیوں نہ حیاءکروں جس سے اﷲکے فرشتے بھی حیاءکرتے ہیں (صحیح مسلم)
غرض آپؓ اپنی ذات،صفات اور کمالات ہر اعتبار سے اعلی تر تھے۔آپؓکے دور خلافت میں بھڑپا ہونے والے فتنہ اور آپؓ کی شہادت کی خبر حضورﷺ نے پہلے ہی ارشاد فرمادی تھی اور فرمایا تھاکہ35سال کے بعد اسلام کی چکّی اپنی جگہ سے ہٹ جائے گئی آپؓ کی شہادت ٹھیک ۵۳ھ میں ہوئی،اور حضرت انسؓ کی ایک یہ روایت بھی ہے کہ سول اﷲ ﷺ نے فرمایا خدا کی تلوار میان میں رہے گئی جب تک عثمان زندہ ہیں اور جس وقت عثمان شہید کردئے جائیں گے تو وہ تلوار میان سے نکال لی جائے گی اور قیامت تک میان میں نہ جائے گی ،اسی وجہ سے شہادت عثمان ؓ کے بعد سے مسلمان فرقوں میں تقسیم ہوگئے اور وہ تلواریں جو کافروں پر چلتی تھی آپس کے مسلمانوں میں ہی چلنے لگی اور قیامت تک یہی حال رہیگا۔اﷲتعالی ہمیں حق والوں کی راہ پر چلنے کی توفیق عطافرمائے اور باطل وفتنہ پرستوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔۔آمین

خلافت کے بعد حضرت عثمان غنی ؓ کا پہلا خطبہ
آپؓ نے فرمایا،لوگو:تم سب دارِ مسافرت میں ہو،عمر کا جو حصّہ باقی ہے،بس اسے پورا کرنے والے ہو،اس لیے تم زیادہ سے زیادہ جو نیکی کر سکتے ہو،اپنے اپنے مقررہ وقت سے پہلے اسے کر گزرو،بس یہ سمجھو کہ موت اب آئی یا جب آئی، بہرحال اسے آنا ضرور ہے،خوب سن لو کہ دنیا کا سارا تار و پود ہی مکر اور فریب سے تیار ہوا ہے۔اس لیے دیکھو، کہیں تمہیں یہ دنیا کی زندگی دھوکا نہ دے جائے اور اللہ سے تمہیں غافل نہ کر دے۔لوگو، جو لوگ گزر گئے ہیں،ان سے عبرت حاصل کرو اور ہاں سعی اور جدوجہد کرو،غفلت نہ برتو، کیوں کہ تم سے غفلت نہ برتی جائے گی، کہاں ہیں وہ اربابِ دنیا جنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی،اسے آباد رکھا اورا س سے ایک مدّت تک بہرہ اندوز ہوئے، کیا دنیا نے ان لوگوں کو اپنے اندر سے باہر نہیں نکال پھینکا، تم دنیا کو اسی مقام پر رکھو جس پر اللہ نے اسے رکھا ہے اور آخرت کی طلب کرو، اللہ نے دنیا کی اور جو چیز خیر ہے،اس کی مثال اس طرح بیان کی ہے:” اے پیغمبر ،آپ لوگوں کو بتا دیجیے کہ دنیا کی زندگی کی مثال اس پانی جیسی ہے،جسے ہم آسمان سے نازل کرتے ہیں۔ ( طبری ج4 ص 243)