Buy website traffic cheap

parliment outside

حقیقی تبدیلی کیسے آتی ہے؟

حقیقی تبدیلی کیسے آتی ہے؟
راشد علی
انسانی زندگی خوشی اورغمی سے عبارت ہے کبھی خوشی کے لمحات ہوتے ہیں کبھی غم دستک دے رہا ہوتا ہے سرفراز وہی ہوتا ہے جو دونوں صورتوں میں صبر وشکر کا دامن تھامتا ہے ۔میرے ان دنوں فائنل ایگزام ہورہے ہیں اس لیے کم لکھ رہا ہوں ۔آج ایک دوست نے پاکستانی سیاستدانوں کی مثال آلو سے اورعوام کو اُلو سے تشبیہ دیتے ہوئے خوب تنقیدکی،تنقید بجااوردرست تھی میرے لیے دلچسپی کا امریہ تھا کہ نوجوان بیدار ہورہے ہیں۔
آلو کی خاصیت ہے ہر سبزی کے ساتھ ایڈجسٹ ہوجاتاہے بالکل پاکستانی سیاستدانوں کی طرح جو ہرسیزن میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے پارٹی بدل لیتے ہیں اور شرم شار بھی نہیں ہوتے ۔اور تواور ان کا یہ عمل جنابان کی کرپشن اورخرد برد پر بھی مٹی ڈال دیتا ہے اور یہ دوبارہ ایوان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے نصف سیاسی مافیا کی یہی لوٹاکریسی سیاست ہے ۔اپنی ذات اور کردار میں تو دم خم سرے سے نہیں ہے ۔اگر کوئی چیز جنابان کو فائدہ پہنچاسکتی ہے تووہ ہے پارٹی ٹکٹ ۔ ہمارے حلقہ میں ایک بزنس مین نے سات آٹھ کروڑ صرف پارٹی ٹکٹ کے لیے برباد کردیے دو عدد سونے کے تاج اس کے علاوہ ۔بدنصیبی نالائقی ٹکٹ پھر بھی نہیں ملا ۔ملنا بھی نہیں تھا ۔کیونکہ کر ملتا ذاتی ورک تو ہے نہیں عوام کے مسائل کا اندازہ نہیں ہے ۔سیاست کی اونچ نیچ سے واقفیت نہیں ہے ۔خوشامدیوں کے جھرمٹ سے باہر نہیں نکل پاتے ۔علماء ،صالحین اہل علم کی مجلس میں بیٹھتے نہیں ہیں ۔اسلام اوررسالت مآب ؐکی سیرت وکردار کا مطالعہ نہیں کرتے ۔جناب رسالت مآب ؐنے اعلان نبوت سے پہلے کردار پیش کیا تھا تمام حاسدین اورمشرکین نے آپ ؐکے صادق اورامین ہونے کی گواہی دی تھی اوراسلام کی کرنین چارسوپھیلی تھیں ۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جو انتہائی منکسرالمزاج انسان تھے ۔خلافت کا تاج پہنتے ہی مختصر الوقت میں تمام فتنوں کی کمر توڑ دی مجال ہے کے کسی امیر نے کسی غریب کے حقوق صلب کیے ہوں ۔کیوں انصاف ،کردار اورعدل انصاف شخصیت کا خاصہ تھی ۔ جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کی ہیبت سے شیطان اپنا راستہ تبدیل کرلیتا تھا جب امیرالمومنین بنائے گئے تو عرب سے عجم تک اسلام کا پرچم لہرایا عدل وانصاف قائم کیا بغیر پروٹوکول کے حکمرانی کی ایسی مثال قائم کی اپنے تو اپنے اہل کفر بھی ان کو عظیم مصلح تسلیم کرتے ہیں ۔اموی خاندان نے خلافت اور امارت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔جائیدادیں بنائیں اقربہ پروری کی اورغریب کے حقوق کو نظرانداز کیا ۔لوگ مایوسی ہوئے ۔خوشحالی کے دروازے بندہوئے ۔وجہ ذاتی مفادات کا تحفظ ۔ سلیمان بن عبدالملک کی وفات کے بعد عمر بن عبدالعزیز کے کاندھوں پر خلافت کی ذمہ داری ڈالی گئی تو اللہ اکبر کی صدائیں گلی کوچوں اورمسجدوں و محراب سے بلندہوئیں ۔کردار کا دھنی تھا ۔عدل وانصاف کا پیمبر لوگ عمر ثانی کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔اور تھا بھی ۔بیعت کی فراغت کے بعد گھر لوٹے تو اپنی بیوی فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا امارات کاذمہ داری آن پڑی ہے اگر میرے ساتھ چل سکتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میکے چلی جاؤ نیک نفس بیوی یہ سن کر رونے لگی اورکہا میں تمہارے خوشی اورغمی دونوں کی شریک حیات ہوں جیسے رہو گے ویسے رہوں گی اورپھر رہی بھی ۔احتساب کا عمل گھر سے شروع کیا اپنی بیوی کا نگینہ تک بیت المال میں جمع کردیا ،شاہی وظائف بندکردیے ۔شاہی سواریوں کو بیج کر رقم کو بیت المال کا حصہ بنا دیا گیا ۔شاہی خاندان کے لوگ جمع ہوئے تاکہ اپنے حقوق کا دفاع کرسکیں مروان کی بیٹی حیات تھی اور خاندان کی بڑی بوڑھی سمجھی جاتی تھی تمام خلفاء اس کااحترام کرتے آئے تھے ۔بنومروان جمع ہوکر اس کے پاس گئے تاکہ ان کے ذریعے اپنے وظائف اورشاہی سواریوں کی بحالی ممکن ہو ۔فاطمہ امیرالمومنین کے پاس گئیں حضرت نے تعظیم کی اوراپنے پاس جگہ دی ۔فاطمہ نے ناراض ہوکر کہا :اے عمر شاہی خاندان تمہارے حکومت کے زمانے میں ذلیل ہورہا ہے ۔مالی مشقت اوربدحالی میں مبتلاہے ۔ان کے وظائف بند اوراملاک غریبوں میں تقسیم کی جارہی ہیں اورتم خاموش ہو ۔جناب عمر نے جواب دیا ’’اے پھوپھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے رحمت بناکر بھیجا تھا آپ نے ایک چشمہ چھوڑا جس کی خلفاء نے حفاظت کی ،یزید ،مروان ،عبدالملک اور اس کے بیٹوں نے اسے اپنے لیے استعمال کیا اوردوسروں کو اس چشمے سے محروم کیا میں اب اسے اصلی حالت میں بحال کرنا چاہتا ہوں ۔پھوپھی بات سمجھ گئیں اور کہا اچھا ارادہ ہے اللہ تمہارا نگہبان ہو ۔اورپھر ایساہی ہوا اڑھائی سال کے عرصہ میں ایسا انقلاب آیا کے سلطنت میں زکوۃ اورصدقہ لینے والا نہیں ملتا تھا ۔خوشحالی کا ایسا دور دورہ ۔عدل وانصاف کے بسبب ایسا ہوا ۔
مگر ہماری بدقسمتی ہے کی ریاست کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں کے لیے کوئی اصول اوردستور نہیں ہے ۔کوئی اخلاقی اورتعلیمی معیار نہیں ہے ۔زر کے بل بوتے پر حکمرانی کا خواب دیکھا جاتا ہے ۔لوگوں کوخریدا جاتا ہے ذات پات کا نعرہ لگاکر ووٹ بٹورے جاتے ہیں ۔سیاسی لوٹے وفاداریان بدلتے ہیں۔اقتدار ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہوتا ہے مگر افسوس چہرے وہی پرانے ہوتے ہیں ۔کھربوں اربوں کی جائیدادیں بنانے والے ،کروڑوں کے تحائف وصول کرنے والے ،درجنوں گاڑیوں کے جھرمٹ میں سفر کرنے والے ،سینکڑوں سپاہیوں کے حصار میں زندگی گزارنے والے وطن عزیز کو قرض کے عتا ب سے کیسے نجات دلاسکتے ہیں ؟وہ نمائندہ خاک خوشحالی لے کر آئے گا جس کے پاس نہ ویژن ہے نہ مشن ۔ جو ایک مضمون تک لکھ پڑھ نہیں سکتا وہ کیسے ایوان میں غریبوں کے حقوق کا تحفظ کرے گا۔اب وقت آگیا ہے کہ ہر فرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ۔اور بتایا جائے کہ اب سیاسی مافیا عامتہ النا س کو اُلو نہیں بناسکتا ۔گزشتہ سترسال سے چندچہروں نے بائیس کروڑ عوام کو اُلو بنایا ہوا ہے ۔لوگوں کی زندگیا ں اجیرن کرکے رکھ دی ہیں ہیں اورخود لندن اوردبئی کے شاندار محلوں میں بسیرا کیے ہوئے ہیں ۔
تبدیلی تبدیلی کا نعرہ کھوکھلا اوربے سود ہے جیسے ایشیاء کا ٹائیگر اورکشکول توڑنے والوں کے دعوے فضول اوربے کار تھے ۔جمہوریت سرمایادارطبقہ کا دیا ہوا نظام حکومت ہے۔ جس میں عوام سرمایادار کاانتخاب کرتے ہیں اورسرمایا دار عوام کی اسیر باد سے لوٹ کھسوٹ اور کالے دھن کو سفید کرتا ہے ۔ہوشیاری اورچالاکی تو دیکھئے سرکاری ملازمت کے لیے ایم اے ،ایم ایس سی ،سی ایس ایس وغیرہ کی شرائط ہیں اور ایوان میں بائیس کروڑ عوام کے پیسے کے محافظ کے لیے کوئی شرائط نہیں ہیں ۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے معماروں کو جان بوجھ کر تعلیم اورصحت کی سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔جان بوجھ کر کسان کو بھکاری بنایا گیا ۔لوڈشیڈنگ کے ذریعے معیشت کا پہیہ جام کیا گیا ۔جان بوجھ کر ڈیم تعمیر نہیں کیے گئے ۔معلوم ہوتے ہوئے صاف پانی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ۔اداروں کو غیر مستحکم رکھا گیا ۔مقصد صرف ایک تھا نسل درنسل حکمرانی کرنا ۔غلاموں کی طرح رسوا کرنا اور وقتافوقتا داد رسی کرنا ۔ہمیشہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے خوشی اورغم زندگی سے عبارت ہیں کامیاب صبر اورشکر کرنے والے ہوتے ہیں۔