Buy website traffic cheap

حمزہ شہباز

حکومت کیا گئی، قانون نے گھیرا تنگ کر دیا

حکومت کیا گئی، قانون نے گھیرا تنگ کر دیا………………….سپریم کورٹ کے حکم پرعائشہ احد تشدد کیس میں سات سال بعد لاہور پولیس نے حمزہ شہباز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، سابق آئی جی سندھ رانا مقبول اور پانچ دیگر ملزموں کو نامزد کردیا گیا۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد ملک پر تشدد کے واقعے کا معاملہ، چیف جسٹس کےحکم پر حمزہ شہباز سمیت تمام نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا مسترد کردی تھی۔
عدالتی حکم پر عملدارآمد کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے لاہور کے تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں عائشہ احد پر تشدد کیس میں حمزہ شہباز، رانا مقبول اور صحافی مقصود بٹ کو نامزد کیا گیا، جبکہ ایف آئی آر کی کاپی عائشہ احد کے حوالے کردی گئی

—————-
یہ خبر بھی پڑھیئے

القدس ، فلسطینی امورکے ذمہ دار امریکی قونصل خانے کا درجہ کم کرنے پرغور
اس اقدام کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کی مساعی کو مزید کم کرنے اور اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنا ہے
القدس میں فلسطینی امور کے ذمہ دار امریکی قونصل خانے کا درجہ کم کرنا علامتی ہے مگراس کے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے اور غرب اردن کو صہیونی ریاست کی عمل داری میں دینے کی سازشوں کو تقویت ملے گی،مبصرین
مقبوضہ بیت المقدس ÷÷÷÷اسرائیلی اور امریکی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس میں فلسطینی امور کو ڈیل کرنے کے ذمہ دار قونصل خانے کا درجہ مزید کم کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین کو مزید اختیارات دینے پرغور شروع کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت کی طرف سے اس اقدام کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کی مساعی کو مزید کم کرنے اور اس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنا ہے۔ ان خبروں کے بعد فلسطینی قوم کو الگ ریاست کے حوالے سے مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق بیت المقدس میں فلسطینی امور کے ذمہ دار قونصل خانے کے پانچ عہدیداروں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس قونصل خانے کا دائرہ کار مزید محدود کرنے اور اس میں کام کرنے والے عملے کے اختیارات کو کم کرنے پر غور کررہے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ القدس میں فلسطینی امور کے ذمہ دار امریکی قونصل خانے کا درجہ کم کرنا علامتی ہے مگراس کے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے اور غرب اردن کو صہیونی ریاست کی عمل داری میں دینے کی سازشوں کو تقویت ملے گی۔ اگرچہ عملی طورپر اسرائیل کو غرب اردن پر قبضے کے لیے بیروکریسی فنی تبدیلیوں سے گذرنا ہوگا۔ تاہم اس کے باوجود امریکی حکومت کے اقدام کے مقامی سیاست پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا گیا تھا۔امریکا کی جانب سے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی مخالفت کے بجائے اس کی حمایت کی جا رہی ہے جس سے امریکا کی فلسطینیوں کے بارے میں پالیسی بالخصوص آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مساعی کے حوالے سے واشنگٹن کی اسرائیل کی طرف داری صاف کھل کر سامنے آئی ہے۔