Buy website traffic cheap


خارجہ پالیسی کا منظرنامہ

خارجہ پالیسی کا منظرنامہ
بادشاہ خان
امریکا نے پاکستان کی نئی حکومت سے پہلے 146ڈو مور145 کا مطالبہ کردیاہے ،کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کے لئے تیار کرے یا واپس افغانستان میں دھکیل دے ، اس بات کو یقینی بنایئے کہ طالبان پاک سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کا مزہ نہ لے سکیں ۔امریکا کی جنوبی اور وسط ایشیا امور کی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے واشنگٹن میں فارن پریس سینٹر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں استحکام لانے میں پاکستان کا اہم کردار ہے ۔ہم نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف مزید اقدامات کرے ، یا تو ان کو مذاکرات کے لیے تیار کریں یا پھر ان کو افغانستان میں دھکیلیں نہ کہ ان کو محفوظ ٹھکانے فراہم کیے جائیں،۔ہم نے پہلے بھی پاکستان سے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد پراکسی گروپ کے محفوظ مقامات ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے اور پاکستان کو اب چاہیے کہ وہ اس پیغام کی تائید کرے ،پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ اس طالبان اس کی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کا مزہ نہ لے سکے ،اس کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ پومپیو کی گفتگو کے حوالے سے امریکی مؤقف کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وقت بہت بدل گیا ہے ،پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں رہا، سیاسی جہتیں مشرق کی جانب جا رہی ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ مؤثر اور ٹھوس انداز سے پاکستان کی ترجمانی کی جائے گی،
پاکستان کودرپیش دیگر چیلنجیز ومسائل کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی کو پاکستان کے حق میں کرنے دوست ودشمن ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے سنگین چیلنج بھی درپیش ہے ۔ افغانستان، ہندوستان،ایران ،امریکہ،سعودی عرب،چین وروس اس کے اہم حریف وحلیف ہیں ، نئی حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات کے بارے میں لبنانی حسن نصراللہ سے ایران تک سب پرامید ہیں ، دوسری جانب سعودی عرب نے اس مشکل گھڑی میں ایک بار پھر پاکستان کی حکومت کو چار ارب ڈالرزکی خطیر رقم دینے کا اعلان کرکے آئی ایم ایف کے بیل آوٹ پیکج سے بچالیا ہے ،چین نے بھی دو ارب ڈالرز دینے کا اعلان کیا ، جس سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو شروع مہینوں میں آکسیجن مل گئی ۔دوسری جانب امریکہ افغانستان کی جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے پر تولنے لگا ہے ،امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ افغان جنگ کا ٹھیکہ بدنام زمانہ ملیشیا امریکی فرم بلیک واٹر کو دینے پر غورخوض کررہا ہے ،ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے متعلق پینٹاگون کی حکمت عملی سے مایوس ہوکر بلیک واٹر کے بانی ایرک پرنس کی اس تجویز پر گہری دلچسپی لے رہے ہیں جس میں افغان جنگ کو پرائیویٹ کنٹریکٹرز کے حوالے کرنے کا کہا ہے ۔بانی بلیک واٹر نے گزشتہ سال کمانڈر انچیف کی افغان جنگ سے متعلق حکمت عملی کی نظرثانی کے دوران صدر ٹرمپ کو افغان جنگ کو ٹھیکے پر پرائیویٹ مسلح افراد کے حوالے کرنے کا مشورہ دیا تھا،افغان طالبان کے مسلسل حملوں میں تیزی سے امریکی خسارہ دن بدن بڑھ رہا ہے ،کابل حکومت اور غیر ملکی فوجی دستوں کی مخالفت اور ان کے اہم اہداف پر بار بار حملے کرنے والے طالبان نے گزشتہ چند ہفتوں میں اپنے حملے کافی تیز اور زیادہ ہلاکت خیز کر دیے ہیں۔دوسری جانب افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے ایک خط میں کہا ، کہ اگر امریکہ سو سال بھی افغانستان میں رہے تو نتیجہ یہی ہوگا،امریکہ کی جنگی پالیسی ناکام ہوچکی ہے ۔ ۔ مغرور امریکی جنرل افغان عوام کی جہادی عظمت کے سامنے جھک گئے ہیں،خود امریکا اور نیٹو تک نے اعتراف کیا ہے کہ افغانستان کے نصف سے زائد رقبے پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے ۔
پاکستان کی ضرورت ،اہمیت اور مخالفت کاہر پہلو عروج پر ہے ،پاکستان عالمی دنیا کے ترکش کا وہ تیر بن چکا ہے کہ جیسے دوست طبیب کانشتر اور دشمن اپنے خلاف میزائیل سمجھ رہے ہیں ،ایک جانب امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر دباو ڈالنے کے لئے ہر قسم کے حربے استعمال کررہے ہیں ، ، دوسری جانب عمان ، اور چاہ بہار پر انڈین پاکستان کے خلاف حرکت میں ہیں،عالمی امور میں امریکن اور ان کے اتحادیوں کے مفادات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کے منصوبوں میں ایک اہم رکاوٹ ہے ،اور اس کے لئے کہیں امریکہ سامنے اور کہیں پس پشت پر ہے ،،امریکہ پاکستان اور اس کے اتحادیوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے انڈیا کو سامنے لارہا ہے،
اس خطرناک صورت حال کا ادارک سمجھتے ہوئے سابقہ نگران وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہاتھا کہ، ہم نے ہر موڑ پر وہ کیا جو امریکہ نے چاہا مگر ہمارے حق میں اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔145145 146 امریکا نے چینی سمندروں میں عالمی جنگ کے حالات پیدا کردیے ہیں اور بھارت کو انڈوپیسفک کا اہم کردار دیاہے ، ہندوستان سے امریکہ کی قربتیں اور ہماری تنہائی بھی اسی وجہ سے ہے ۔ ہم نے سی پیک بنا کر چین کا راستہ کھول دیا جہاں ان کو سانس لینے کا موقع مل گیا ہے اور یہی امریکہ کو سب سے زیادہ ناگوار گزرا ہے ۔145145۔۔
چند روز پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے افغانستان میں ہونے والئے دہشت گردی کے واقعات والزامات کے بعد کہا ہے کہ کاروبار اور حصول روزگار کے لئے افغانستان جانے والے پاکستانی بھی افغان بھائیوں کے ساتھ دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ دہشت گردی کا شکار ان پا کستا نیو ں کو دہشتگرد گرداننا افسوسناک ہے ۔ افغانستان کو اپنی داخلی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ افغانستان میں دیرپا امن کے لیئے پاکستان تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ افغان صدر کے ساتھ جن اقدامات کا وعدہ کیا اس پر قائم ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان اور خطے میں دیرپا امن و استحکام ممکن نہیں۔ امن و استحکام کے لئے پاک افغان ایکشن پلان پر عمل درآمد تیز کرنا ہوگا۔
،جدید دنیا میں تعلقات کی مضبوط بنیاد معاشی تعلقات پر بھی ہے ، پاکستان کے سامنے وسطی ایشیا کے ممالک کے علاوہ روس ، آسیان ممالک اور افریقہ ہے ، ،سی پیک جیسے کئی منصوبے پاکستان کا انتظار کرہے ہیں ، دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں ، اور دنیا کے کئی اہم ممالک جن میں روس بھی شامل ہے پاکستان کے ساتھ چلنے کو تیار ہے ، مگر سوال ایک ہے ؟کہ اس سارے سیناریو میں افغانستان کہاں ؟اور کس کے ساتھ ہے؟ اور ہم افغانستان کے ساتھ کس طرح ڈیل کرتے ہیں؟۔