Buy website traffic cheap


*خدا را ! سماج کو نشے کی لعنت سے بچائیے*

*خدا را ! سماج کو نشے کی لعنت سے بچائیے*
انسداد منشیات
مقصوداحمدضیائی
اس وقت پوری دنیا میں منشیات کے استعمال کا جو عام رواج چل پڑا ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل جس بری طرح نشے میں مبتلا ہو رہی ہے اسے دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتاہے تمام احتیاطی تدبیروں کے باوجود منشیات کی شرع میں کوئی کمی نہیں محسوس ہو رہی ہے دولت کی ہوس نے سماج کے سرمایہ داروں کو اندھا کر دیا ہے موجودہ دور میں منشیات کی ہزاروں قسمیں وجود میں آچکی ہیں حال ہی میں ہمارے شہر کے کنارے پر رواں دواں دریا سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی اور لاش کے طبی معائنہ سے معلوم ہوا کہ نوجوان نشے کی لعنت میں گرفتار تھا اس کے بعد کئی علم دوست احباب کا اصرار ہوا کہ منشیات کے خلاف آواز اٹھائی جائے سماج کے باثر لوگوں اور حکومت کو بطور خاص متوجہ کیا جائے یہ عاجز فقیر آج کل جموں و کشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں میں مقیم ہے اور مصروفیات کچھ اس قسم کی ہیں کہ ذہن لکھائی پڑھائی سے تقریبا کٹا ہوا ہے لہذا کوئی معیاری تحریر زیر قلم لانا میرے لئے مشکل ترین کام تھا اس لیے انکار پر انکار کرتا رہا لیکن دوستوں کا اصرار میرے انکار پر غالب آگیا اور مسلے کی اہمیت کے پیش نظر اپنے قلم ناتواں سے جیسا ممکن ہو سکا یہ مضمون ترتیب دے دیا ہے ممکن ہے علم دوست احباب کو ہم آہنگی محسوس نہ ہو بلکہ اسلوب میں بھی فرق ہوسکتا ہے خیر واقعہ یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے دین جان نسل اور مال کے ساتھ عقل کی سلامتی پر بھی زور دیا ہے عقل کو سلامت رکھنا دین اسلام کے مقاصد اساسی میں سے ہے خالق انسان نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور پھر بے شمار نعمتوں سے انسان کو نوازا قدرت کی طرف سے عطا کردہ منجملہ نوازشات میں سے ایک نوازش عقل بھی ہے عقل نے انسان کیلئے ساری کائنات مسخر کر دی عقل سے محرومی انسان کو جانوروں سے بھی بدتر بنا دیتی ہے منشیات کے استعمال کو شریعت اسلامیہ نے حرام ناجائز قرار دیا ہے لیکن المیہ یہ ہیکہ آج سماج میں نشے کی لعنت بڑھتی ہی جا رہی ہے خاص طور پر ہماری نوجوان نسل قابل رحم ہے صورتحال یہ ہے کہ آج ہزار ہا ہزار گھرانے تباہی اور بربادی کے دھانے پر ہیں خاندان بکھر رہے ہیں اخلاقی بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے لوگ نشے میں دھت ہو کر روز مر رہے ہیں حادثات کا طو مار سلسلہ جاری ہے چنانچہ مختلف احادیث میں علامات قیامت کے ذیل میں شراب نوشی کی کثرت اور منشیات کے استعمال کے رواج کے عام ہونے کا تذکرہ عام ملتا ہے یہ سلسلہ آج اپنے شباب پر ہے مختلف مشروبات ماکولات نیز گولیوں پڑیوں انجکشنوں اور کیپسولوں اور نہ جانے کن کن شکلوں میں نشہ کا زہر آج کے نوجوانوں کی صحت اور کردار کو تباہ و برباد کر رہا ہے جو سب کے لیے خطرے کا الارم ہے نشے کی روک تھام کے لئے دور دور تک کوئی کامیاب اصلاحی کوشش ہوتی نظر آ بھی نہیں رہی ہے آج تمام میڈیکل تحقیقات منشیات کے نقصان دہ ہونے پر متفق ہو چکی ہیں اور اسلام نے منشیات پر سخت بندش لگائی ہے پیغمبراسلام رسول اکرم ? کے ارشادات اور فرمودات میں منشیات میں مبتلا افراد پر لعنت قباحت اور وعید کے الفاظ کثرت اور صراحت کے ساتھ ملتے ہیں ذیل میں چند احادیث کا مفہوم ذکر کیا جاتا ہے
فرمایا کہ شراب نوشی ایمان کے نور سے محرومی ہے شراب نوشی کی عادت شرک کے مماثل عمل ہے۔ شراب تمام خبائث اور فواحش کی جڑ اور اصل ہے منشیات کے فروغ میں کسی بھی نوعیت کی حصہ داری ملعون حرکت ہے نیز شرع میں دس طریقوں سے شراب کو لعنت قرار دیا گیا ہے بذات خود شراب ، شراب بنانے والا ، شراب بنوانے والا ، شراب فروخت کرنے والا ، شراب خریدنے والا ، شراب اٹھا کر لے جانے والا ، جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائے شراب کی قیمت کھانے والا ، شراب پینے والا ، اور شراب پلانے والا ، غرضیکہ شراب گمراہی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے منشیات کی عادت اپنے کو شیطان کا مستقل و غلام بنا لینا ہے نشے کیساتھ دعائیں قبول نہیں ہوتیں مے نوشی خدائے تعالٰی کی رحمت سے دوری کا سبب ہے شراب و نشہ کی لعنت دنیا ہی میں خدائے تعالٰی کے عذاب کو دعوت دیتی ہے احادیث میں جابجا شراب نوشی کی اخروی سزاؤں کا ذکر آیا ہے ایک حدیث پاک میں تو یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ جو شراب کا عادی توبہ کیے بغیر مر جائے گا خدائے تعالٰی اس کو غوطہ کا پانی پلائیں گے یہ وہ نہر ہے کہ جس میں بدکار عورتوں کی شرمگاہوں کا لہو بہتا ہے شرابیوں میں اس قدر بدبو ہوگی کہ اس سے اہل جہنم بھی پریشان ہو جائیں گے (مسنداحمد ) مزید فرمایا گیا کہ خدائے تعالٰی نے اپنے ذمہ کر لیا ہے کہ جو شخص دنیا میں نشہ آور چیز استعمال کرے اس کو قیامت میں اہل جہنم کی پیپ پلائی جائے گی (ابوداؤد ۰۸۶۳) نشہ آور چیزوں کے استعمال کے ساتھ نمازیں قبول نہیں ہوتیں قرآن کریم کے علاوہ دیگر آسمانی کتابوں میں بھی شراب کی ممانعت کا ذکر واضح الفاظ میں ملتا ہے چنانچہ عہدنامہ عتیق کی کتاب امثال میں ذکر ہوا ہے کہ شراب ایک فریبی مشروب ہے جو شخص بھی اس کے فریب میں آتا ہے یہ انسان کو دیوانہ کردیتی ہے اور صاف بات یہ ہے کہ نشے کی لعنت سے انسان دینی روحانی اخلاقی جسمانی مالی اور معاشرتی ہر لحاظ سے کمزور ہوتا چلا جاتا ہے منشیات کا سب سے بڑا ضرر انسان کی صحت جسم و قوت کو پہنچتا ہے یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی صحت جسم اور طاقت اس کی اپنی ملک نہیں بلکہ یہ اس کے پاس خدائے تعالٰی کی امانت ہے جس میں خیانت کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے طبی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے نیز تجربات اور مشاہدات اس پر شاہد ہیں کہ انسان کا جسم منشیات کی وجہ سے مختلف ہولناک امراض کا مجموعہ بن جاتا ہے ایک امریکی ڈاکٹر محقق و مصنف کے مطابق امریکہ میں ایڈز کے چالیس فیصد مریض ایسے ہیں کہ جن کو منشیات کے بے محابا استعمال نے اس اسٹیج تک پہنچایا ہے امریکی لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودی ہے مذہبی اخلاقیات سے ان کا رشتہ بالکل ختم ہو چکا ہے اور یہ سب کچھ نشے کی لعنت کے عام ہوجانے کا وبال ہے یورپ کے اخلاقی دیوالیہ پن اور بے راہ روی کا اصل سبب یہی ہے
(الخدرات مدمرات : عائض القرنی /۲) منشیات کی لعنت انتہائی پیچیدہ و نفسیاتی امراض کا ذریعہ بھی بنتی ہے اور یہ امراض نشہ باز کے ساتھ اس کے بیوی بچوں کی زندگی کو بھی اجیرن کر دیتے ہیں منشیات کے مضرات کا ایک پہلو مالی نقصان بھی ہے منشیات کا فروغ امت کی معاشی اور اقتصادی قوت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے مرادف ہے نشے کے سماجی نقصانات بھی بڑے دکھ دہ ہوتے ہیں قرآن کریم نے منشیات کے سماجی نقصانات کو بطور خاص بیان فرمایا ہے کہ اس کے ذریعے بغض و عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں لڑائیاں اور تنازعے شروع ہوتے ہیں زوجین کے تعلقات بگڑتے ہیں خاندانوں کے رشتے بکھرتے ہیں گھر برباد ہوجاتے ہیں اور فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ سماجی مضرات سے شرابیوں کو دوچار ہونا پڑتا ہے منشیات کے بیشمار نقصانات کا سب سے اہم حصہ دینی و اخلاقی نقصانات ہیں مختصر یہ کہ منشیات ہزاروں برائیوں کا سرچشمہ ہے منشیات ابلیس لعین کا ایک ہتھکنڈا ہیں جو انسان کو فطرت سلیمہ سے ہٹاتا اور اشرف المخلوقات کے درجہ سے اسفل السافلین کے درجہ میں پٹخ دیتا ہے اور اسے حیوانوں سے بھی بدتر اور کمتر بنا دیتا ہے معاشرہ میں منشیات کی لعنت کے اسباب و محرکات میں سے چند مندرجہ ذیل نمایاں امور یہ ہیں ایمانی جذبہ اور خوف خدا کی کمی ، اخلاقی تعلیم و تربیت کا فقدان ، بیکاری اور بڑھتی ہوئی بے روز گاری ، یورپ کی اندھی نقالی اور غلامی ، بے شعوری میں نشہ آور گولیوں کا مقوی دوا سمجھ کر استعمال ، ذہنی پریشانیاں اور خانگی جھگڑے ، فلمی ایکٹرس کی نقل وغیرہ لہذا سماج میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رواج کو ختم کرنے اور سماج کو اس برائی سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ایمانی جذبات اور خوف خدا کو بیدار کرنا ، موثر دینی و اخلاقی تربیت ، قرآنی و دینی تعلیم ، بیکاری اور بے دینی کے خاتمے کی کوشش کرنا ، بری صحبت سے گریز اور اچھی صحبت کا التزام کرنا ، شراب نوشی کی سزا کی تنفیذ ، ٹھوس اور منصوبہ بند مسلسل منشیات مخالف اصلاحی مہمات غرضیکہ ایک ہمہ گیر تحریک کے انداز میں منشیات کے انسداد کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے سماج کے تمام طبقات تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ نشہ کے نقصانات سے ہر سطح پر لوگوں کو باخبر کیا جائے ان تمام اسباب و عوامل پر بند لگانے کی کوشش کی جائے جو منشیات کے فروغ میں معاون ہوسکتے ہیں اگر ایک طرف شراب سے منع کیا جائے گا اور دوسری طرف شراب کی دوکانیں آسانی کے ساتھ کھلی رہیں گی تو اس تضاد کا نتیجہ سماج کے بگاڑ کی بھیانک شکل کے سوا اور کیا ہوگا ؟ جب تک منشیات کے خلاف ہر سطح پر تحریک نہیں چلائی جائے گی ہوٹلوں دوکانوں اور تقریبات وغیرہ ہر جگہ سے منشیات کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا اس لعنت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکے گا لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات مخالف پروگرام قریہ قریہ بستی بستی نگر نگر منعقد کرکے عوام الناس کو سمجھایا جائے اور انہیں اس سے بچنے کی ترغیب دی جائے نیز حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ گھٹکے سگریٹ کی ڈبیوں بیڑی کے بنڈلوں اور شراب کی بوتلوں پر اس کے نقصانات لکھ کر بیچنے کی اجازت کے بجائے اسپر مکمل طور پر پابندی عائد کرے منشیات سے بچاؤ اس وقت دنیا کا یہ سب سے بڑ مسلہ ہے اس کے خلاف سب سے موثر اقدامات حکومتی سطح پر کیے جاسکتے ہیں سرکاری سطح پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے منشیات کینسر قسم کی تباہ کاریوں کو اس بڑے پیمانے پر پیش کیا جائے تاکہ قوم کے بچے بچے کی زبان پر اس کا تذکرہ ہو ٹیلی ویڑن ریڈیو اخبارات رسائل و جرائد منشیات کی تباہ کاریوں کو اجاگر کرنے اور اس سے قوم کو بچانے کے لیے اپنا مطلوب کردار نبھائیں منشیات فروشوں کو دی گئیں سزاؤں کو شہ سرخیوں میں مبالغہ آرائی کے ساتھ شائع کریں اس کے منفی پہلو خوب اجاگر کر یں دینی سماجی اور سیاسی تنظیمیں بھی اس ناسور کے خاتمے کے لئے اپنا رول ادا کریں ہماری تعلیم گاہیں جہاں سے اس قسم کی بیماریوں کو بھرپور طریقے سے دور کیا جاسکتا تھا مگر آہ ! بدقسمتی سے آج وہ بھی منشیات کی لعنت سے محفوظ نہیں ہیں صورتحال ایسی دکھ دہ ہے کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا ہے بایں وجہ ہماری تعلیم گاہیں قتل گاہیں بن چکی ہیں کیا اساتذہ کیا طلبہ یہاں فارسی کا یہ شعر حسب حال معلوم ہوتا ہے ۔
خواندہ ناخواندہ برابر شود
فضل خداوند میسر شود
دعا ہے کہ خدائے تعالٰی امت کو صحیح سمجھ عطا فرمائے مہلک عادتوں میں مبتلا لوگوں کو اس سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی ترغیب دینے کی توفیق بخشے اور جو اس لعنت میں گرفتار ہو کر اپنی زندگیوں کو برباد کرچکے ہیں یا مہلک امراض میں مبتلا ہیں اوربیماری کے عالم میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انہیں صحتیابی نصیب فرمائے۔آمین