Buy website traffic cheap


خطے کی بدلتی صورت حال میں پاکستان پر سفارتی دباو

خطے کی بدلتی صورت حال میں پاکستان پر سفارتی دباو
سکوت سمندر
بادشاہ خان
پاکستان میں انتخابات کے بعد جب سے نئی حکومت آئی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ نئی حکومت کا انتظار تمام اسٹیک ہولڈر کررہے تھے ،تاکہ بین الاقومی سطح پر کہ پاکستان کے ساتھ معاملات کو حتمی شکل دی جائے ،سعودی عرب ،ایران روس چین اور امریکا سب کے وفود کے دوروں کا آغاز ہوا چاہتا ہے ایرانی وزیر خارجہ کے بعد اسی ہفتے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپو کی آمد متوقع ہے ، جن کی آمد کا بنیادی مقصد افغانستان میں اپنے اور خطے میں بھارت کے مفادات کو تحفظ دینے کا ایجنڈہ ہوگا،دوسری جانب کشمیر سمیت افغانستان میں حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں ، پاکستان نے جلال آباد افغانستان میں اپنا قونصلیٹ بند کردیا ہے ،پاکستان کے سفارتی عملے کو افغانستان میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ، ۔اس سلسلے میں کابل میں پاکستانی سفارت خانے نے افغان دفتر خارجہ میں اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے ۔اسی منظر نامے میں دوسری جانب چین کی فوجی اڈے کی افغانستان میں زیر تعمیر ہونے کی خبریں بھی تیز ہوگئی ہیں ،تیسری جانب خطے کے اہم ملک روس نے بہت عرصے کے بعد بڑی سطح پر جنگی مشقیں کرنے کا اعلان کردیا ہے ، روس اس ماہ ستمبر میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور وسیع پیمانے پر ہونے والی فوجی مشقیں کرے گا جس میں تین لاکھ فوجی اہلکار حصہ لیں گے ،اسی منظر نامے میں پینٹاگون نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کو موقع دینا چاہتی ہے، تاکہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر سکیں۔ امریکا کے اسسٹنٹ سیکرٹری دفاع برائے امور ایشیا و بحرالکاہل رینڈل شرائیور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہت سی حکومتیں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتی تھیں لیکن جلد ہی ان حکومتوں کو حقائق اور مشکلات کا اندازہ ہو گیا۔ پاکستان سے متعلق امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور مالی امداد میں کٹوتی کا رویہ بھی برقرار رہے گا۔
اس وقت پاکستان کی اندرونی اور بیرونی دونوں معاملات سنگین نوعیت اختیار کرچکے ہیں، ایک جانب ملک میں کرپشن ، بے روزگاری ، پانی کی کمی سمیت کئی چیلنجیز ہیں تو دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان سے دوست اور دشمن دونوں خطرناک حد تک ردعمل اور ساتھ دینے کی خواہش رکھتے ہیں ،قارئین ان سب میں اگر کوئی ہدف اور ملک ایک ہے تو وہ پاکستان کے بعد افغانستان ہے ،اسلام آباد کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی دیگر معاملات کے ساتھ افغانستان کی صورت حال پربات کی،اگرچہ
بات چیت میں پاکستان اور ایران کے مابین مشترکہ سرحد پر شدت پسندوں کی موجودگی اور ایران گیس پائپ لائن اہم مسائل رہیں ہیں،ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے دورے میں بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقت کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ کو یقین دلایا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و سلامتی کے لیے خلوص سے اقدامات اٹھا رہا ہے ۔ دونوں ممالک باہمی تجارت کا حجم آئندہ پانچ برسوں میں پانچ ارب ڈالرز تک بڑھانے کا پہلے ہی ارادہ کر چکے ہیں۔مذاکرات میں علاقائی اور عالمی امور پر بھی بات ہوئی جس میں افغانستان کی صورتحال اور جوہری معاہدے سے یک طرفہ امریکی انخلا شامل ہے ۔
اسی طرح چین بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے حالیہ برسوں میں بہت سرگرم رہا ہے، اور سردست افغانستان، روس اور پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات بھی کر رہا ہے ۔ ،اس کے ساتھ ساتھ چین شمالی افغانستان میں افغان فوجیوں پر مشتمل ایک پہاڑی بریگیڈ بنانے میں افغانستان کی مدد کر رہا ہے تاکہ شدت پسندی کے خلاف موثر کارروائی کی جاسکے ۔یہ بات بیجنگ میں موجود افغان سفارت خانے نے بتائی ہے ۔ تاہم اخبار ساؤتھ چائنا پوسٹ کو بھیجے گئے ایک فیکس میں سفارت خانے نے کہا ہے کہ چینی فوجی کسی بھی مرحلے پر افغانستان کی سرزمین پر تعینات نہیں ہوں گے ۔افغان سفارت خانے نے کہا کہ افغان حکومت چین کی مدد کے لیے اس کی شکرگزار ہے اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں۔ اخبار ساؤتھ چائنا پوسٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے چینی فوج کے قریبی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چین نے افغانستان کے دور افتادہ علاقے واخان میں افغان فوجیوں کی تربیت کے لیے ایک تربیتی کیمپ تعمیر کرنا شروع کیا ہے ۔ واخان کی انتہائی دشوار گزار پٹی ساڑھے تین سو کلومیٹر طویل ہے اور یہ افغانستان کے بدخشان صوبے سے لے کر چین کے مسلمان آبادی والے خطے سنکیانگ تک جاتی ہے ۔
اس صورت حال میں جب پاکستان پر افغان طالبان کی مدد کے الزامات لگ رہے ہیں ،امریکہ خطے میں چین و روس کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرناچاہتا ہے ،روس کی جانب سے فوجی مشقوں کا اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو اور روس کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔کریملن کے ترجمان نے ان مشقوں کو 146ووستک 2018145 کا نام دیا گیا، موازنہ سنہ 1981 میں اس وقت کے سویت یونین کی مشقوں سے کیا جس میں نیٹو پر فرضی حملے کرنے کی تیاری کی گئی تھی۔روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو کا کہنا ہے کہ 11 سے 15 ستمبر تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں 36,000 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور 1,000 جنگی جہاز حصہ لیں گے ۔ ان فوجی مشقوں میں چینی دستوں کی شمولیت ظاہر کرتی ہے کہ ماسکو اور بیجنگ تمام شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں ۔ان مشقوں پرنیٹو کے ترجمان ڈیلان وائٹ کا کہنا ہے کہ نیٹو کو 146ووستک 2018145 نامی جنگی مشقوں کے بارے میں مئی میں بریف کیا گیا تھا اور وہ ان مشقوں کو مانیٹر کرے گی۔ نیٹو کی تنظیم روس کی اس پیشکش پر غور کر رہی ہے جس میں ماسکو میں موجود نیٹو کے فوجی اٹیچیز کو یہ مشقیں دیکھنے کے لیے بھیجا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بنانے والے امریکی مخالف اتحاد میں کھول کر جانے کا فیصلہ کرینگے یا پھر مزید ڈومور کے لئے تیاری کررہے ہیں ، مائیک پومیپو کے دورے سے خطے کی صورت واضح ہوجائے گئی ، فی الحال امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مستقبل خراب نظر آرہا ہے۔۔۔۔