Buy website traffic cheap

خواتین کی سیاسی عمل

خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت !

خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت !
صدائے انصاف
تحریر: عرفان اعوان
خواتین آبادی کا 52 فی صد ہیں اور زندگی کے ہر میدان میں اپنی بھرپور خدمات دے رہی ہیں۔ میں نے 2006 میں جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو پہلی جاب اثاثہ مائیکروفنانس میں کی جس کا دورانیہ آٹھ سال پر محیط رہا اور اثاثہ کی چیف ایگزیکٹو تابندہ جعفری تھیں جن کے زیرسایہ میری بھرپور گرومنگ ہوئی اور انٹرن سے لیکر ایریا مینجر تک کا سفر طے کیا اس دوران وہ مجھے کسی بھی طرح سے ایک مرد سے کم نظر نہ آئیں اور ان کے ساتھ جنرل مینیجر زریں عامر ، فنانس مینیجر ، ایچ آر مینجر ناہید انجم اور اسی طرح مینجمنٹ میں موجود دیگر خواتین شامل تھیں جنہوں نے ادارے کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ۔ مائیکروفنانس سے اکتاہٹ اور ماحول میں تبدیلی کیلئے سیکٹر تبدیل کیا اور این جی او سیکٹر میں آگیا وہاں انجمن فلاح نسواں کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نسرین اعوان کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا تو انہیں بھی ایک لیڈر پایا اور ان کی سماجی و سیاسی خدمات کا معترف ہوا ۔ پہلی بار اندازہ ہوا کہ ایک خاتون کس طرح اپنے طبقے کی نمائندگی کرسکتی ہے اور اپنے مسائل کو بہتر انداز میں حکام بالا تک پہنچا سکتی ہے۔ نسرین اعوان مسلسل تیسری مرتبہ ممبر ڈسٹرکٹ کونسل ہیں۔ آج کل بیداری کے ساتھ کام کررہا ہوں اور یہاں بھی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایک خاتون ہیں۔ سوشل سیکٹر میں اپنی محنت ، لگن اور لیڈرشپ کوالٹی کی وجہ سے بیداری کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عنبرین عجائب نے خوب نام کمایا ہے اور بیداری کے پلیٹ فارم سے انہوں نے جس انداز میں خواتین اور بچیوں کے مسائل کو معاشرے ، حکومت اور پوری دُنیا کے سامنے اٹھایا ہے ، یہ ایک مشکل ترین کام تھا جو انہوں نے بخوبی انجام دیا۔ عنبرین عجائب نے پچھلے اٹھارہ سالوں میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور بچوں کے حقوق کیلئے قانون سازی میں بھرپور کام کیا ہے اور سیاسی جماعتیں ان کی خدمات کی نہ صرف معترف ہیں بلکہ منشور کی تیاری اور قانون سازی میں اُن سے مشورے بھی لیتی ہیں۔ میرے بارہ سالہ کیرئیر میں گیارہ سال خواتین سربراہان کے ساتھ کام کرتے گزرا ہے جس سے میں نے یہی سیکھا ہے کہ خاتون کسی بھی طرح کسی بھی میدان میں مرد سے کمزور نہیں ہے۔ وہ بہترین فیصلہ ساز ہے ، بہترین لیڈر ہے اور زبردست سیاسی بصیرت رکھتی ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی نے سب سے پہلے خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت کا نعرہ لگایا تھا اورپاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو بنی تھیں اور آج تک پیپلزپارٹی خواتین کو ہر پلیٹ فارم پر بھرپور طریقے سے شریک کرر ہی ہے ۔ جنرل مشرف نے پہلی بار خواتین کو 33فی صد نمائندگی کا حق دیا اور بلدیاتی ، صوبائی و قومی اسمبلیوں میں 33فی صد خواتین ممبر بنیں لیکن بدقسمتی سے اب بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نمائندگی کو کم کردیا گیا ہے جبکہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں یہ تعداد 33 فی صد موجود ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے پہلی بار خواتین کو بڑی تعداد میں سیاسی میدان میں اتارا اور جلسوں میں خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ نعرہ یہی تھا کہ جنرل نشستوں پر زیادہ سے زیادہ خواتین کو ٹکٹ دئیے جائیں گے اور مخصوص نشستوں پر پچھلی باری کے برعکس خالص ورکرز خواتین کو اسمبلیوں میں بھیجا جائے گا لیکن یہ نعرہ صرف نعرہ ہی رہا اور خاص طور پر جنوبی پنجاب سے ایک بھی خاتون کو صوبائی و قومی اسمبلی میں نہ بھیجا گیا۔ قربان فاطمہ ہوں یا عفت طاہرہ ، شہلااحسان ہوں یا رابعہ ملک کسی ایک کو بھی اس قابل نہ سمجھاگیا کہ انہیں لاہور ، راوالپنڈی ، چکوال کی خواتین کی طرح اسمبلی کی ممبر بنایا جائے اور یہ سب کچھ جنوبی پنجاب میں دو بڑی سیاسی شخصیات کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے ہوا کیونکہ ایک سیاسی رہنما کو خوف تھا کہ یہ خواتین ان کے مخالف گروپ کی ہیں اس لئے ان کے وزیراعلیٰ بننے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اوروہ بڑے لیڈر وزیراعلیٰ بننے کی حسرت دل میں لئے رہ گئے اور ایم پی اے کی سیٹ ہی ہار گئے۔ عوام کے ووٹوں اور اتحادیوں کے تعاون سے تحریک انصاف تین صوبوں اور وفاق میں حکومت بنا چُکی ہے اور کابینہ بھی فائنل ہوگئی ہیں لیکن بدقسمتی سے خواتین کے سیاسی عمل میں شرکت کے نعرے لگانے والی جماعت اور اپنی پہلی تقریر میں اپنی دیرینہ ورکر سلونی بخاری مرحومہ کو خراج تحسین پیش کرنے والے عمران خان نے تمام کابینہ میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہ دی۔ پنجاب کی 23 رکنی کابینہ میں صرف ایک خاتون کو شامل کیا گیا ، کے پی کے کی 15 رکنی کابینہ میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے جبکہ وفاق میں 18رکنی کابینہ میں ایک خاتون پی ٹی آئی اور دو خواتین اتحادی جماعتوں کی طرف سے شامل کی گئی ہیں۔ اس طرح پی ٹی آئی کی طرف سے صرف دو خواتین کو وزارتیں دی گئی ہیں اور یہ دونوں خواتین ڈاکٹر یاسمین راشد اور شیریں مزاری مخصوص نشستوں سے اسمبلی میں پہنچی ہیں۔ جنرل نشست پر لغاری اور کھوسہ کو شکست دیکر آنیوالی ورکر زرتاج گل وزیر صرف کہتی ہی رہ گئیں کہ انہیں ڈپٹی سپیکر یا وزارت جو بھی ملا وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں گی ۔ پارٹی ورکرز کی طرف سے بھی ان کے حق میں کافی آوازیں اُٹھی لیکن آوازیں شاید وزیراعظم ہاوس کی دیواریں کراس نہ کرسکیں۔شاید وزیراعظم کی مجبوری تھی کہ انہیں اتحادیوں کو رام رکھنے کیلئے وزارتیں اُن میں تقسیم کرنی پڑی اور خواتین ، یوتھ ، اقلیت صرف نعروں تک محدود رہے۔ سندھ کی 10 رکنی کابینہ نے پہلے مرحلے میں حلف اٹھایا ہے جس میں دو خواتین شامل ہیں اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر بھی ایک خاتون بنائی گئی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان سے قوم کو بہت امیدیں ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے تمام طبقات کو مناسب نمائندگی دیں اور مفاہمت کی سیاست شوق سے کریں لیکن اپنے منشور سے پیچھے نہ ہٹیں ۔خالد مقبول صدیقی جیسے امن پسند ،شیخ رشید جیسے عوامی ریل پیل والے ، عثمان بزدار جیسے جنونی ، مخدوم خسرو اور مخدوم ہاشم جیسے نظریاتی ،فروغ نسیم اور راجہ بشارت جیسے قانونی ، حافظ عمار یاسر جیسے مفاہمتی اور سمیع اللہ چوہدری جیسے حادثاتی وزراء آپ کو بہت بہت مبارک ہوں لیکن خدارا اپنی کابینہ ، مشیروں کی فہرست میں خواتین ، اقلیت اور یوتھ کو بھی برابر نمائندگی دیں کیونکہ یہی لوگ آپ کا ہراول دستہ ہیں اوریہی تحریک انصاف کا اصل چہرہ ہیں۔ انہوں نے آپ پر یقین کیااور آپ کو ہی مسیحا مانا ہے آپ بھی ان پر اعتبار کریں اور یہ کسی بھی طرح سے تجربہ کار اور پرانے کھلاڑیوں سے کم نہیں ہیں۔