Buy website traffic cheap

حقوق

خواتین کے حقوق

سعدیہ یسیٰن
کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لےے ضروری ہے کہ وہاں کی خواتےن کو ہر لحاظ سے اےک نماےاں مقام حاصل ہو۔کچھ علاقوں مےں خواتےن کے حقوق قوانےن ،مقامی رسم ورواج اور روےوں سے ظاہر ہوتے ہےں،جبکہ کچھ علاقوں مےں ےہ نظرانداز کر دےئے جاتے ہےں۔صنف نازک سمجھتے ہوئے ا نہےںہمےشہ ان کے بنےادی اور ثانوی حقوق سے محروم رکھا گےا ہے۔شعور کی کمی اور لاعلمی کے باعث خواتےن کی کمزورےوں سے فائدہ اٹھانا ہمارے معاشرے کا اےک مرغوب مشغلہ رہا ہے۔ اگرچہ اب صورت حال زےادہ سنگےن تو نہےں رہی،لےکن ابھی بھی ہمارے بہت سارے دےہاتوں مےں خواتےن اپنے حقوق سے ناواقفےت کے باعث ظلم وستم کی چکی مےں پس رہی ہےں۔
خواتےن مےں حقوق کی ناواقفےت کی بنےادی وجہ تعلےم کی کمی ہے۔پاکستان مےں مردوں کی شرح تعلےم آج بھی خواتےن کی شرح تعلےم سے زیادہ ہے۔ہمارے معاشرے بالخصوص دےہی معاشرے مےں لڑکوں کی تعلےم کو ترجےح دی جاتی ہے،جو کہ اےک افسوس ناک صورت حال ہے۔
صنف نازک ہونے کے باوجود خواتےن نے ہمےشہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کےا ہے۔وہ اپنے خاندان کی پرورش کے لےے محنت و مشقت والے کاموں سے بھی درےغ نہےں کرتےں۔لےکن انہےں مغلوب اور کمزور سمجھتے ہوئے انہےں ان کی محنت کے مطابق مزدوری نہےں دی جاتی،لےکن خواتےن اپنی مجبورےوں کے باعث استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہےں۔
خواتےن کو کسی خاندان مےں اےک مرکزی مقام حاصل ہے،لےکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے مےں اسے وہ مقام حاصل نہےں ہو سکا جس کی وہ حقدار ہے۔وہ سارا دن کولہو کے بےل کی طرح کام مےں جتی رہتی ہے ۔حالےہ تحقےق کے مطابق خواتےن دنےا بھر کے کام کے اوقات کا دو تہائی (۳۲) حصہ کام مےں مصروف رہتی ہےں۔لےکن اس کی خدمات کا معترف ہونا تو دور کی بات،کوئی اسے اس کا جائز مقام بھی دےنے کو تےار نہےں ہوتا۔
”صحت مند مائےں ہی صحت مند قوموں کو جنم دےتی ہےں“۔لےکن ےہ اےک المےہ ہے کہ ہمارے معاشرے مےں لوگ صحت مند بچوں کے تو سب خواہاں ہےں لےکن ان کی ماو¿ں کے مسائل کونہ تو سنجےدگی سے لےا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے صحت و آرام کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ دی جاتی ہے،جس کا نتےجہ ےہ نکلتا ہے کہ بہت سی خواتےن حالات سے مجبور ہو کر تن تنہا اپنی بےماری سے لڑتے ہوئے گھر کی چاردےواری مےں گھٹ کر جان دے دےتی ہےں اور افسوسناک بات ےہ کہ اسے اسکی قسمت کا لکھا سمجھ کر بھلا دےا جاتا ہے۔
خواتےن کے حقوق اسلام کی روشنی مےں
اسلام سے قبل خواتےن کے حالات(اےک نظر)
اسلام سے قبل معاشرے کی حالت اور خواتےن سے رکھے جانے والے سلوک سے کوئی بھی ناواقف نہےں۔غلاموں اور جائےدادوں کی طرح خواتےن کو بھی اپنی ملکےت سمجھا جاتا تھا۔انہےںمعاشرے مےں کوئی مقام حاصل نہ تھا۔خواتےن کو زندہ دفن کرنا ےا جلا دےنا اےک عام رواےت تھی۔انہےں باعزت ،پرامن اور بااختےار زندگی گزارنے کا کوئی حق حاصل نہےں تھا۔اسلام کی آمد سے زمانہءجاہلےت کی کاےا پلٹ گئی اور ےوں خواتےن کو معاشرے مےں ان کا جائز مقام مل گےا۔
اسلام خواتےن کو مندرجہ ذےل حقوق دےتا ہے:۔
….ذاتی و انفرادی حقوق
٭مساو ی انسانی وشہری حقوق
٭صحت وتعلےم کا حق
٭جائز روزگارکا حق
٭اظہارِخےال و مشاورت کا حق
٭گواہی کا حق
٭قصص اور دےت کا حق
٭ جےون ساتھی کے انتخاب کا حق
٭ناسازگا ر حالات مےں خلاءکا حق
٭اپنے حقوق کے لےے آواز بلند کرنے کا حق
….خاندان مےں خواتےن کے حقوق
٭اےک ماں کی حےثےت
٭اےک بےٹی کی حےثےت
٭اےک بےوی کی حےثےت
٭خانگی امور مےں مرکزی حےثےت
٭حقِ فےصلہ اور خود مختاری
٭ورثے کا حق
ےہ بنےادی اور چےدہ چےدہ حقوق ہےں جو ےہاں بےان کےے گئے ہےں۔افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری خواتےن بالخصوص ہماری دےہی خواتےن تعلےم و شعور کی کمی کے باعث اپنے حقوق کے بارے مےں لاعلم ہےں اور ےو ں وہ ظلم و ستم کی چکی مےں پِستے پِستے اپنی عمر گنوا دےتی ہےں اور مرد ان کا استحصال کرتے رہتے ہےں۔
جب اﷲ تعالی نے عورتوں کو کسی حق سے محروم نہےں رکھا تو ےہ معاشرہ قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کےسے کر سکتا ہے، لےکن جہاں پہ اتنی برائےاں ہےں وہاں ےہ بھی اےک معاشرتی برائی ہے کہ خواتےن کو کمتر سمجھ کر انہےں نظرانداز کےا جاتا ہے۔اےسی صورتِ حال مےں خواتےن کو چاہےے کہ سب سے پہلے اپنے حقوق سے آ گاہی حاصل کرےں، کےونکہ منزل تک پہنچنے کے لےے راستے کا علم ہونا ازحد ضروری ہے۔اور یہ لاعلمی ادھر اُدھر تو بھٹکا سکتی ہے لیکن اصل منزل کی طرف نہیں پہنچا سکتی۔
ایک ضروری بات کا مدنظر رکھا جانا بہت ضروری ہے کہ جن کے دیے گئے احکامات کے پیش نظر خواتین حقوق کے حصول کی جنگ کے لیے تیار ہوتی ہیں ، کہیں انہی کی عطا کی ہوئی شریعت کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی۔کیونکہ ایک شرعی کام کو غیر شرعی طریقے سے کرنا عقلمندی کے زُمرے میں ہرگز نہیں آتا۔