Buy website traffic cheap

ایکسپریس

خوشحال خان ایکسپریس کو حادثے کا سامنا ، بیس مسافر زخمی

میانوالی: مسان ریلوے اسٹیشن کے قریب خوشحال خان ایکسپریس پٹری سے اچانک اتر گئی جس کےباعث بیس مسافر زخمی ہوئے جبکہ ٹرینوں کی آمد و رفت کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق امدادی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ چکی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹرین کا انجن اور 7 بوگیاں الٹ گئیں . جب کہ دو روز قبل چلائی جانے والی میانوالی ریل کار بھی بند ہوگئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق مسان ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے زمینی راستہ نہیں ہے جس کے باعث امدادی کام میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

………………………..
یہ خبر بھی پڑھیئے

پاکستان کی خوشحالی،ترقی اوراستحکام کیلئے تمام ادارے متحدہیں،شہریار آفریدی
دہشتگردی کے ناسورکاخاتمہ اولین ترجیح ہے، اداروں نے امن کیلئے قربانیاں دی ہیں،وزیرمملکت داخلہ
شبقدر…. وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خوشحالی،ترقی اوراستحکام کیلئے تمام ادارے متحدہیں، دہشتگردی کے ناسورکاخاتمہ اولین ترجیح ہے، اداروں نے امن کیلئے قربانیاں دی ہیں۔فرنٹیئرکانسٹیبلری پاسنگ آوٹ پریڈ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف کامیابی حاصل کر چکے ہیں،امن وامان برقراررکھنے کیلئے ایف سی کاکرداراہم ہے،پاکستانی قوم کوایف سی کے جوانوں پر فخر ہے، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی اولین ترجیح امن و امان میں بہتری ہے ،قیام امن اوردہشتگردی کا خاتمہ پارٹی کا منشورہے،قیام امن میں ایف سی کی کارکردگی قابل تعریف ہے،ان کا کہناتھاکہ ایف سی خیبرپختونخواکی کارکردگی بین الاقوامی سطح پرتسلیم کی جاتی ہے،ایف سی میں بھرتیوں، تربیت ،ٹرانسفر،پوسٹنگ میں اصلاحات لا رہے ہیں۔) صنعتی اداروں نے عدالتی حکم کے باوجود پاکستان ماحولیاتی حفاظتی ایجنسی (پاک ای پی اے) کے ملازمین کو یونٹس میں جانے سے روک دیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کے حکام نے بتایا کہ صنعتوں کے مالکان نے اپنے یونٹس کے مرکزی دروازوں کو مشینری لگا کر بلاک کردیا تھا اور پاک ای پی اے کے انسپکٹرز کو اند آنے سے روک دیا تھا۔پاکستان ماحولیاتی حفاظتی ایجنسی کے اہلکار فیکٹریوں میں ماحولیاتی قواعد و ضوابط اور حکومتی قوانین کی پاسداری کا جائزہ لینے کے لیے صنعتی یونٹس پر پہنچے تھے۔وزارتِ ماحولیات کے حکام نے الزام عائد کیا کہ ان صنعتی یونٹس کے مالکان کی جانب سے پاک ای پی اے کے انکپٹرز کو ہراساں کیا گیا اور ان کے خلاف نازیباں الفاظ استعمال کیے گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب حکام ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتی یونٹس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہیں تو وہ ماحولیاتی ٹریبیونل سے حکم امتناع لے لیتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کافی عرصے سے جاری ہے، تاہم ان صعنتی یونٹس کے مالکان کو عدالت احکامات کی عزت کرنی چاہیے۔وزارتِ ماحولیات کے حکام کا کہنا تھا کہ پاک ای پی اے پہلے ہی کمزور ادارہ ہے، جس کا صرف ایک انسپکٹر ہی فیلڈ میں کام کرکے یہ کمپنیوں اور فیکٹریوں وغیرہ کا دورہ کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ یونٹس حکومتی قوانین کی پاسداری کریں۔ 14 ستمبر کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ڈائریکٹر جنرل پاک ای پی اے نے بتایا کہ اب تک صنعتی آلودگی کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے اہلکاروں کو انسپکشن کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی۔