Buy website traffic cheap

دِل کی دیوار

دِل کی دیوار پر بیٹھے چند پرندے

دِل کی دیوار پر بیٹھے چند پرندے
تحریر!نعمان قادر مصطفائی/فکرفردا
گزشتہ روز داتا کی نگری لاہور میں ایک ماں نے محض غربت کی وجہ سے اپنی دو خوبصورت معصوم کلیوں کو مسل دیا ، وہ سارا منظر دیکھ کر مجھے ایڈ منسٹریشن کی کائنات کے شہنشاہ حضرت عمر فاروق ؓ کا وہ جملہ یاد آگےا کہ ”اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی بھوکا کتا بھی پیاسا مرگیا تو بروز ِ محشر عمر سے پوچھ گچھ ہو گی “اور آج نہ جانے کتنے معصوم لوگوں نے بھوک سے خود کشیاں کیں مگر ہمارے سابق ”شریفین والبریفین “حکمران ”مذاکرات “ مذق رات “ کا کھیل ۔۔۔۔کھےلتے رہے ہیں ۔۔۔۔ نہ جانے ہمارے گلستان کا کےا حال ہوگا جس کی ہر شاخ پر اُلوﺅں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے ، ایسے حالات میں تو حکمرانوں کو بروزِ محشر اُلٹا لٹکا کر ایک ایک غریب کی خود کشی کا حساب لیا جائے گا
دوسال پہلے مجھے انٹر نیشنل سروے ادارہ ”گےلپ “ کے ڈائےریکٹر جناب ِ عاصم جاویدنے کچھ فکری اور انقلابی شاعری ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجی اور حُکم بھی دیا تھاکہ اِسے سُپردِ قرطاس کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ عوام کے دِل میں ابھی بھی اُمید کی کرن باقی ہے اور عوام کی خواہش ہے کہ ہمارے ”راہنمایانِ قوم “ملک کو ترقی یافتہ ملک بنا سکیں گے لےجئے آج ہم ”فکرِ فردا “ کے قارئین کو نثر کے کوچے سے نکال کر شاعری کی وادی میں لیے چلتے ہیں تاکہ قارئین کا ذائقہ تبدیل کےا جاسکے دو سال پہلے بھےجی گئی شاعری میں جو نقشہ کھےنچا گیا تھا حالات اب بھی جوں کے توں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب عوام با شعور ہو گئی ہے اور الےکشن میں حصہ لےنے والے اُمیدوار جب اُن کے محلے میں ووٹ مانگنے جاتے ہیں تو عوام اُن کا گندے انڈوں ، جوتوں اور سوالات کی بو چھاڑ سے ”استقبال “ کر رہی ہے یہ ”عوامی شعور “ کا سلسلہ لغاری قبیلے کے سربراہ جمال لغاری سے ہوتا ہوا گزشتہ روز لیاری میں اےک بڑی پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کے بھر پور احتجاجی استقبال تک آن پہنچا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ”ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے “ خالی مٹکوں اور خالی گھڑوں سے قوم کی ماﺅں ، بہنوں ، بےٹےوں اور جوانوں بزرگوں نے ”پانی دو پانی دو “ کے نعرے لگا کر رےلی کا راستہ روک لےا اور لےاری سے بلاول بھٹو کو بھاگنے پر مجبور کر دےا اسلامی جمہورےہ پاکستان کی سرزمےن ابھی اتنی بانجھ نہےں ہوئی کہ اس کی کوکھ سے کچھ پےدا نہ ہو سکے اللہ تعالی ٰ نے اپنی انقلابی اور آفاقی کتاب قرآن مجےدمےں سورة رحمنٰ مےں ستائےس نعمتوں کا ذکر فر ماےا ہے اور ےہ ستائےس کی ستائےس نعمتےں رب تعالیٰ نے کشور حسےن ، پاک سرزمےن اسلامی جمہورےہ پاکستان کو عطا کر رکھی ہےں اس لےے لُٹےروں اور فصلی بٹےروں کی تمام تر لُو ٹ مار کے با وجود اُمےد ابھی باقی ہے
اُمےد ابھی کچھ باقی ہے
اِک بستی بسنے والی ہے
جس بستی مےں کوئی ظلم نہ ہو
اور جےنا کوئی جرم نہ ہو
وہاں پھول خوشی کے کھِلتے ہوں
اور موسم سارے ملتے ہوں
بس رنگ اور نور برستے ہوں
اور سارے ہنستے بستے ہوں
اُمید ہے ایسی بستی کی
جہاںجھوٹ کا کاروبار نہ ہو
دہشت کا بازار نہ ہو
جےنا بھی دشوار نہ ہو
مرنا بھی آزار نہ ہو
ےہ بستی کاش تمہاری ہو
ےہ بستی کاش ہماری ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو
اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو
جہاں منصف سے انصاف ملے
دل سب کا سب سے صاف ملے
اِک آس ہے اےسی بستی ہو
جہاں روٹی زہر سے سستی ہو
غرےب کے منہ سے روٹی ، سر سے چھت اور جسم سے لباس اُتار نے والے ہمارے موجودہ ”راہنماےانِ قوم “جو اپنے منتےں ترلے کر کے در بدر ووٹ کی بھےک مانگ رہے ہےں سے ےہ اُمےد عبث ہے کہ وہ سو سائٹی مےں کچھ اےسا انقلاب لا سکتے ہےں جہاں حالات اِس سٹےج پر پہنچ جائےں کہ
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کلب مےں جاتے ہوں
اور بہن کا حق کھاتے ہوں
جب ماں کی نظرےں جھُک جائےں
الفاظ لبوں تک رُک جائیں
جب گھر گھرمےں سُر تال چلے
اور عورت ننگے بال چلے
جب رشوت سر چڑھ کے بولے
اور تاجر جان کے کم تولے
پھر جب یہ سب کچھ ہوتا ہے
رب غافل ہے نہ سوتا ہے
جب اُس کا قہر برستا ہے
قارون زمےن مےں دھنستا ہے
پھر جب وہ پکڑ مےں آتا ہے
فرعون بھی جوتے کھاتا ہے
قوم ِ عاد بھی زےرو زبر ہوئی
قرآن مےں اُس کی خبر ہوئی
ےہ سب عبرت کو ہےں کافی
اب مانگ لو اللہ سے معافی
اب مانگ لو اللہ سے معافی
اِس کے با وجود اُمےد ابھی باقی ہے ، ہمارے ہی شہر لےہ کے اےک جمہورےت پسند اور انقلابی ذہن رکھنے والے شاعر جناب ِ عقےل احمد رشےد نے بہت خوبصورت بات کی ہے
ہے کام دلوں کی ترجمانی کرنا
ہو ظلم جہاں بےاں کہانی کرنا
اےوانِ ےزےدےت مےں حق کہتا ہوں
ظلمات کی ختم حکمرانی کرنا
ہاتھوں مےں مرے قلم ہے کشکول نہےں
انسان ہے انمول کوئی مول نہےں
دن رات ہے حُرمت ِ قلم پےشِ نظر
ہوں حق گو نگارش مےں کہےں جھول نہےں
اےک اور جگہ لکھتے ہےں اور ےقےناََ ضلع لےہ کے اےسے اہل ِ صحافت کی نمائندگی کرتے ہےں جنہوں نے ہمےشہ قلم کی حُرمت کو پےش ِ نظر رکھا ہے اور اپنے دامن کو ”دےہاڑی کی صحافت “ سے آلودہ نہےں ہو نے دےا اور حقےقی معنوں مےں سوسائٹی مےں شعوری کلچر کو عام کےاضلع لےہ مےں دےہاڑی کلچر عام ہے ، اےسے نام نہاد لوگوں کو بھی دےکھا ہے جو گلے مےں کسی ڈمی اخبار کا کارڈ لٹکائے سارا دن دفتروں مےں دےہاڑی کے چکر مےں خجل خوار و ذلت کی تصوےر بنے آوارہ لوگوں کی طرح پھرتے رہتے ہےں رباعی ملاحظہ کےجئے
معاشرے کو صحافی شعور دےتے ہےں
چراغ ِ طور جلاتے ہےں نور دےتے ہےں
نئی سحر کا وطن کو ظہور دےتے ہےں
سُنا کے پےار کے نغمے سرور دےتے ہےں
ہمارے معاشرے کے جو حالات ہےں درج ذےل اےک اور نظم پڑھ کر سب کچھ آشکار ہو جائے گا کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے آفاقی اور کائناتی نظرےے کی بنےاد پر معرض ِ وجود مملکت مےں جاگےر دار ، سرماےہ دار ، زردار اور زور دار کے پالتو کُتوں اور گھوڑوں کو توٹھنڈے مخملےں بےڈ اور مُربے”نصےب “ ہو رہے ہےں مگر دوسری طرف اُسی جاگےر دار کے ووٹرز کا بچہ دودھ کے چند قطروں کو ترس رہا ہے مےری اپنی نظم ملاحظہ کےجئے !
بھوک افلاس کے عفرےتوں کو
دےکھتے ہےں اور ڈر جاتے ہےں
کتنے قاسم ، کتنے ٹےپو
بچپن ہی مےں مر جاتے ہےں
ماں کی جھولی خالی کر کے
قبروں کے منہ بھر جاتے ہےں
فاقوں کی اِک ناﺅ بنا کر
درےا پار اُتر جاتے ہےں
ےہاں کُتوں کو ملتا ہے سب کچھ
بچے بھوک سے مر جاتے ہےں
اگلے روزاےک نئے عنوان کے ساتھ ملاقات ہوگی تب تک کے لےے اللہ حافظ !