Buy website traffic cheap

الیکشن مہم

دھاندلی کے انداز

دھاندلی کے انداز
(ابن نیاز)
گذشتہ حکومت نے جاتے جاتے ۲۰۱۸ کے الیکشنز کی جو تاریخ مقرر کی اس پر کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ ۲۵ جولائی ہی منتخب کرنے کی کیا وجہ تھی۔ بہت سوچا اور اتنا کہ سر میں درد تک شروع ہو گیا۔ حالانکہ چھوٹے موٹے معاملات کو تو الحمد للہ میں در خود اعتنا ہی نہیں سمجھتا۔ اور بڑے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن یہ والا مسلہ درحقیقت براہِ راست عوام سے متعلق ہے اور میں بھی عوام ہوں۔ جب غور کیا اور اس تاریخ کو دن دیکھا تو وہ ’’بدھ‘‘ کا دن ہو گا۔ یعنی پورے ہفتے کا مرکزی دن۔ نہ بندہ دو دن پہلے چھٹی کر سکتا ہے نہ دو دن بعد۔ کیونکہ چھٹیاں دے گا کون؟ اس دن کوئی سرکاری چھٹی بھی نہیں ہو گی کہ بندہ گھر پر ہو گا اور ووٹ ڈالنے چلا جائے گا۔ شاید ماضی میں حکومت نے اگر الیکشن کی تاریخ چھٹی کے دن کے علاوہ رکھی ہے تو اس دن چھٹی دی گئی تھی۔ عوام ووٹ ڈالنے جاتی تھی۔ لیکن وہ اس صورت میں ممکن ہوتا تھا جب اس چھٹی سے پہلے یا بعد میں ہفتہ اتوار کا دن آتا تھا۔ یقیناًاب بھی حکومت چھٹی دے گی۔ لیکن کیا اس چھٹی کا فائدہ ہو گا۔ ہمارے پاکستان میں شاید تیس فیصد سے زیادہ سرکاری ، نیم سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین اپنے اپنے شہروں سے باہر دوسرے دورکے شہروں میں ملازمت کرتے ہیں۔ کچھ ملازمین قریب کے شہروں میں بھی جاب کرتے ہوں گے جہاں سے ان کے اپنے شہروں کو سفر میں وقت چار سے پانچ گھنٹے ہی لگتا ہو گا، لیکن اول تو یہ کہ چوبیس جولائی کو اگر کچھ اندھی تقلید والے اپنے آفس سے چھٹی کے بعد نکلیں گے تو اس دن لاری اڈوں پر رش کی جو کیفیت ہو گی وہ بیان سے باہر ہے۔
ویسے بھی پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مادر پدر آزاد چھوڑا گیا ہے۔ کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔ جب ان کا دل کرے کرایہ بڑھا لیتے ہیں۔ جب دل کرے گاڑیاں چھپا کر اڈا شارٹ کر لیتے ہیں یعنی اڈے میں گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ یوں گھنٹہ پون گھنٹہ بعد ایک گاڑی آتی ہے تو اس میں پھر سواریاں اورکرائے ڈرائیور کی مرضی سے سے طے ہوتے ہیں۔اچھا خیر، جیسے تیسے کرکے ووٹر اپنے شہروں میں رات گئے پہنچیں گے۔ اگلے دن چھٹی کی وجہ سے عادتاً دیر سے اٹھیں گے تو تب تک وہاں لائنیں لگی ہوں گی۔ پھر جب ان کانمبر آئے گا ، وہ ووٹ دیں گے پھر اپنے گھر کی راہ لیں گے اور واپسی کی تیاری کریں گے۔ یوں وہ رات گئے جب وہ واپس پہنچے گے تو سفر در سفر تھکاوٹ اتنی ہو گی کہ اگلے دن پھر کس کا دل دفتر جانے کا چاہے گا۔یہ تو ہوئی ایک بات۔ دوسری بات یہ کہ جو افراد اپنے ہی شہر میں ملازمت کرتے ہیں وہ جب چار پانچ بجے چھٹی کرکے نکلیں گے تو وہ بھی سارا دن کام کرکرکے اتنے تھک چکے ہوں گے کہ پھر قطار میں کھڑا ہونے کا شاید ہی دل چاہے۔قطار بھی جس میں نمبر کم سے کم دو گھنٹے بعد آنا ہے، اور تب تک ووٹنگ کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔پھر کیا ہوگا؟ وقت بڑھایاجائے گا کہ جو جو پولنگ سٹیشن کی حدود کے اندر ہیں، ان کو ووٹ ڈالنے کا موقع ملنا چاہیے۔اور تب پتہ چلے گا کہ مجید بھائی کی بیوی جو پندرہ سال پہلے فوت ہو چکی تھی، ہر الیکشن میں ووٹ ڈالنے آتی ہے لیکن بے چارے مجید بھائی اس سے کبھی مل نہیں پاتے۔
اس کے بعد آتی ہے ایک اور دھاندلی۔ وہ ہے ووٹر کا لسٹ میں اندراج۔ ووٹر کا تعلق ایک شہر سے ہے۔ اس کے شناختی کارڈ پر مستقل و موجودہ پتہ ایک درج ہے لیکن اس کے ووٹ کا اندراج کسی اور شہر میں ہے۔ اب وہ کیا کرے؟ کیا اس شہر ووٹ ڈالنے جائے۔ لیکن کیوں جائے؟ نہ امیدوار اس کے حلقے کا، نہ وہ اس حلقے کا ووٹر۔ بھلے اگر شناختی کارڈ پر دو ایڈریس بھی درج ہیں ایک موجودہ اور دوسرا مستقل ۔ تو بھی ووٹر کا اندراج مستقل پتے پر ہونا چاہیے۔ کیونکہ کل کو اس نے بالآخر اپنے اسی ٹھکانے پر واپس جانا ہے۔انہی لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا ہوگا۔ بفرضِ محال موجودہ پتے کے حساب سے بھی اگر ووٹ کا اندراج ہے تو چلیں پھر بھی قابلِ قبول ہے۔ لیکن اس بات کی تو کوئی تک ہی نہیں بنتی کہ اس کا اندراج کسی تیسرے شہر میں کیا جائے۔ اور اگر بدقسمتی سے وہ شہر اس سے سینکڑوں میل دور ہو تو وہ ووٹر کیونکر ووٹ ڈالنے وہاں جائے گا؟
اس کے بعد ایک اور مسلہ آتا ہے وہ ہے چائے پانی اور بریانی کا اور ساتھ میں اپنی جیب سے ترقیاتی کام کرنے کا۔ دھڑا دھڑ مختلف چھوٹے حلقوں میں خاص کر روڈ بنانے ، گلیوں کی پختگی، نکاسی کے نظام کی درستگی وغیرہ زو ر و شور سے جاری ہے۔ میں اگر اپنی بات کروں، تو دو دن پہلے ایک امیدوار نے ہمارے محلے کے ایک بزرگ کو پیشکش کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ان کے محلے کی گلی کو پختہ اور نکاسی کا نظام درست کر وا دے گا۔ بندہ پوچھے کہ تب کہاں تھے جب اس کو پچاسوں بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ اور بار بار پیغامات بھی بھجوائے تھے کہ یہ کام بہت ضروری ہے جن کی غیر موجودگی میں نالیوں کا سارہ گندہ پانی کچی گلی میں ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے تو اس وقت موصوف یا تو بہت مصروف ہوتے تھے یا موجود ہی نہیں ہوتے تھے۔
کیا یہ سب کام دھاندلی میں نہیں آتے۔ جب ووٹر ووٹ دینے دوسرے شہر میں نہیں جائے گا تو بھی اس کی جگہ پر ووٹ پڑے گا۔ پاک فوج تو صرف یہ دیکھے گی کہ کہیں کوئی دنگا فساد تو نہیں ہو رہا۔ اس کو کیا علم ہو گا کہ ایک ووٹر جب بیلٹ پیپر پر مہر لگانے گیا ہے تو اس کو پانچ ووٹ اور بھی پکڑائے گئے ہیں اور اس نے ان سب پر مہر لگادی ہے۔ یہ سب دھاندلی کے انداز ہیں۔ ان سے بچنا ہے اور امیدواروں سے بھی بچاؤ کرنا ہے۔
قارئین کرام! آپ بھلے ووٹ دیں، ان سے منع نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور مدِ نظر رکھیں کہ ووٹ ایک امانت ہے، اور اس کے اہل کو ہی ووٹ دیا جانا چاہیے۔ لیکن کچھ سابقہ فتووں کی موجودگی میں جس میں کہا گیا ہے کہ اگر سب برے ہوں تو کمترین برے کو ووٹ دیا جانا چاہیے۔ میں ہر گز اس حق میں نہیں۔ کیونکہ وہ کمتر برا بھی کونسا برائی کو چھوڑ دے گا۔ اس نے اگر ووٹ لے کر اسمبلی میں چلے جانا ہے اور وہاں وہ جو جو برائیاں کرے گا، چاہے کرپشن ہو یا کچھ اور۔ ۔۔ اس کے ہر گناہ میں میں آپ کا حصہ برابر کا ہو گا۔یہ سوچ لیجیے گا کہ آپ قیامت کے دن اپنا بوجھ ہی نہیں اٹھا سکیں گے تو کہاں دوسروں کے گناہوں کی گھٹڑی اٹھاتے پھریں گے۔ خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔