Buy website traffic cheap

امت کی وحدانیت

روحانی جمہوریت اور حقِ حکمرانی

روحانی جمہوریت اور حقِ حکمرانی
محمد آصف ظہوری
اسلامی تاریخ میں واقعہ کربلا کے بعد جب خلافت کی جگہ مستحکم ہوگی تو خلفاء کے حق حکمرانی اور امت کیلئے شرائط اطاعت کے سوال پیدا ہونگے۔علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہکہ اگرچہ بعض فقہا کے نزدیک خلیفہ کی اطاعت کسی لازمی شرط کے ساتھ مشروط نہیں لیکن وہ الماروی نقطہء نظر سے اتفاق کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔۔۔۔
’’الماروی کے نزدیک حکومت کا سرچشمہ طاقت وجبر نہیں بلکہ ان افراد کی آزادانہ باہمی رضا مصلحت ہے جو اس کیلئے جو اس کیلئے متحدومتفق ہوئے کہ قانونی مساوات کی بنا پر ایک قسم کی اخوت قائم کریں۔ جس کا ظاہر رکن شریعت اسلامیہ کے ماتحت اپنی فطرت کے تمام ممکنات کا امتحان کرسکے اور اپنے افراد کو کماحقہ ترقی دے کر اپنی انتہائی نشونما اور ارتقاء کے کرشموں سے آگاہ ہوسکے۔‘‘
زمانہ جاہلیت ہی سے عرب کے حالات ایرانیوں سے مختلف تھے۔ عرب معاشرہ قبائل میں منقسم تھا۔ ہر قبیلے کا اپنا سردار ہوتا تھا جب کسی قبیلے کا سردار مر جاتا تو قبیلہ کے اکابرین ایک مجلس منعقد کرکے بحث و تمحیص کے بعداتفاق رائے سے نیا سردار منتخب کرلیتے۔نبی کریمﷺ نے ان قبائل کو باہم شیروشکر کرکے ایک ملت واحدہ میں سمو دیا اور ایک مشترک اور وسعت طلب سیاسی نظام میں ڈھل گئے۔ نبی کریمﷺ قبائل کے اس متحدہ سیاسی نظام کے سربراہ تھے ، لیکن آپ ﷺکی رحلت کے وقت یا اس سے قبل کوئی اپنا جانشین مقرر نہ کیا اور سربراہ ریاست کا معاملہ عرب کے رسم کے مطابق انتخاب پر چھوڑ دیا۔
’’ختم نبوت کے قرآنی اعلانات نے امت مسلمہ کو روحانی غلامی سے نجات دلا دی‘‘۔
چنانچہ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روحانی اعتبار سے ہمارا شمار دنیا کی سب سے آزاد قوم میں ہونا چاہیے۔کیونکہ اب کوئی بھی شخص خدا کا نمائندہ بن کر لوگوں سے اطاعت کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔اس عقیدہ نے ملوکیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی۔ علامہ محمد اقبال نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریمﷺ نے مناسب حکومت کیلئے انتخابی عمل کو اس قدر اہمیت دی ہے کہ ایک بوڑھے شخص طفیل ابن عامر نے جب رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ میں اسلام قبول کرلوں تو مجھے کیا منصب یا مرتبہ دیا جائیگا اور کیا آپ ﷺ اپنے بعد حکومت کی بھاگ دوڑ میرے ہاتھ میں دے دیں گے۔تو آپ ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا کہ’’حکومت کی بھاگ دوڑ میرے ہاتھ میں نہیں تیریہاتھ میں کیسے دوں گا‘‘۔ علامہ محمد اقبال یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے انتقال کے بعد اگرچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتخاب لوگوں کی جزوی رائے کے اظہار پر عمل میں آیا تھا، لیکن یہ محض ایک ہنگامی ضرورت کے تحت خانہ جنگی کے خطرے کے پیش نظر فوری طور پر عمل میں آیا تھا، چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری سال میں اس بات کی وضاحت فرما دی تھی کہ سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعہ کو نظیر نہیں بنایا جاسکتا اور اس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جس طرح خلیفہ منتخب کیا گیا تھا وہ اسلام کا مسلمہ اصول نہیں۔ انہوں نے ڈوزی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے حضرت عمر کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:’’وہ انتخاب جو لوگوں کی جزوی رائے کے اظہار پر عمل میں آیا ہوا سے منسوخ و مسترد سمجھنا چاہیے‘‘۔۔۔۔چنانچہ علامہ محمد اقبال یہ قطعی رائے رکھتے ہیں کہ اسلام ایک انتخابی اور جمہوری سیاسی نظام کا تقاضا کرتا ہے، چنانچہ ان کے نزدیک دین اسلام میں ملوکیت حرام ہے اور خلافت کو وہ حفظ ناموس الٰہی قرار دیتے ہیں۔
مولانا مودودی نے بھی اپنی کتاب’’خلافت وملوکیت‘‘ میں خلافت کی جو آٹھ خصوصیات گنوائی ہیں، ان میں انتخابی ، شوروی حکومت اور روح جمہوریت کا غیر بہم الفاظ میں ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم وتربیت اور عملی رہنماء سے جو معاشرہ معرضِ وجود میںآیا، اس کا ہر فرد خود بخود جانتا تھا کہ اسلام کے احکام اور اس کی روح کے مطابق کسی قسم کا نظام حکومت بننا چاہیے۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی جانشین کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا، لیکن مسلم معاشرے کے لوگوں نے خود بخود جان لیا کہ اسلام ایک شوروخلافت کا تقاضا کرتا ہے اور یہی بات علامہ محمد اقبال نے اس طرح بیان کی کہ ’’اسلام ابتداء ہی سے اس اصول کو تسلیم کر چکا تھا کہ فی الواقع اور عملاً سیاسی حکومت کی کفیل اور امین ملکت اسلامیہ ہے:۔۔کہ کوئی فرد واحد‘‘۔مولانا مودودی خلفائے راشدین کے جمہوری دورکو Non Party Govtment قرار دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’خلفاء کی کوئی سرکاری پارٹی نہ تھی،نہ ہی ان کے خلاف کسی (اپوزیشن )کا وجود تھا‘‘۔۔۔۔۔اور ایک آزادانہ فضا میں ہر شریک مجلس ایمان وضمیر کے مطابق رائے دینا تھا۔ مروجہ پارلیمانی نظام میں تنقید کے حق کو ایک ادارے کی شکل میں منظم کر کے اسے اپوزیشن پارٹی کا نام دے دیا گیا۔اس کے علاوہ نجی اداروں میں مخالف سیاسی پارٹیاں اور اپریس یہ کام سرانجام دیتا ہے ، جنہیں زیردام لانے کیلئے حکومت ترغیب وتحریص اور تحویف وتعزیر کے ہتھکنڈوں سے کام لیتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی پروپیگنڈے کے مختلف حربوں کے ذریعے حکومت کو چلتا کرکے ہر قیمت پر ایوان اقتدار میں داخل ہونے کی آرزومند رہتی ہیں۔ ایسی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے مولانا امین الحسن اصلاحی نے فرمایا تھا۔۔۔۔۔
’’میں نے لکھا ہے کہ اس قسم کے لوگ انسانیت اور خلق کی محبت سے عاری ہیں، یہ لوگ دل سے اس بات کے آرزو مند ہوتے ہیں کہ ملک میں زلزلے آئیں، قحط پڑیں، سیلاب آئیں، وبا پھیلیں۔ تاکہ ان سب چیزوں کے ذمہ دار حکموت کو ٹھہرایا جاسکے اور اپنے اقتدار کی راہ ہموار کریں‘‘۔ مروجہ پارلیمانی نظام میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف اختلاف کا وجود ضروری ہے لازمی سمجھناجاتا ہے اور ان دونوں میں اقتدار کی یہ کشاکش جاری رہتی ہے اور پاکستان میں تو یہ بھی ہوا ہے کہ اقتدار کیلئے سیاسی پارٹیوں کی باہمی کشمکش سے فائدہ اٹھائے ہوئے فوج نے باربار آئین کو منسوخ یا معطل کرکے خود اقتدار پر قبضہ کیا‘‘۔
اور آزادی کے 67 سالوں میں سے نصف عرصہ کیلئے پاکستانی افواج مسند اقتدار پر براجمان رہی ہیں۔ ہمیں سیاسیات کی زیادہ شد بد نہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کا ہر فرد محسوس کرتا ہے کہ مروجہ پارلیمانی نظام میں چند ایسی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو ہمارے سیاسی نظام کو ان قباحتوں سے پاک کردیں اور فوج کا سیاست میں عمل دخل مکمل طور پر روک دیں۔