Buy website traffic cheap

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے!!!

کاشف نیئر
یہ دنیا فنا کا گھر ہے اور موت ہی دراصل اس کی حقیقت ہے ۔ اس دنیا میں آنے والے ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ گو کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے لیکن یہ وقت کون سااور کس جگہ پر آئے گا کسی کو نہیں معلوم۔۔۔ گویا ایک ایسا وعدہ ہے کہ جس کے پورے ہونے کا کوئی وقت نہیں یہ کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کسی بھی موقع پر پورا ہو سکتا ہے اور اس کا علم صرف مالک کل کائنات کو ہے۔ انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے بہت سارے مکڑی کے جالے کے مصداق گھر تو بناتا ہے لیکن اس گھر میں وہ کتنا عرصہ رہے گا اس بات سے بالکل بے خبر ہوتا ہے ، لیکن اس کی دنیاوی خواہشات اسے اور زیادہ سے زیادہ دنیا میں دھنساتی چلی جاتی ہیں، لیکن ان سب کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جو نہ صرف اس دنیا میں اپنے اصل مقصد کو پا لیتے ہیں بلکہ اس کے حصول کے لیے اپنے شب و روز بھی لگا دیتے ہیں۔ وہ اس دنیا میں اسی کے اصول و ضوابط کی پاسداری بھی کرتے ہیں اور اپنا مقصد حیات کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے آگے سے آگے بڑھنے کی لگن میں کوشاں رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ دنیا میں اس چراغ کی مانند ہوتے ہیں جو گمراہی اور جہالت کے اندھیروں میں اپنے وجود کو جلا کر ماحول کو روشن کرتے ہیں اور اندھیروں کو دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔حصول علم اور فروغ علم کے لیے اپنی زندگیوں کو کھپانا واقعی دل گردے کی بات ہوا کرتی ہے۔ لیکن لوگ اس کام میں ایسے مزے سے مگن ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو ایسے مصروف عمل کرتے ہیں کہ گویا ان کا اوڑھنا بچھونا یہی بن جاتا ہے ، ان کی دنیا اس دائرہ کار کے اندر سے شروع ہو کر اسی میں ہی ختم ہو جایاکرتی ہے۔ پڑھنا پڑھانا اور پھر نئی جہتوں پر کام کرنا یقیناًایسے ہی لوگوں کا کام ہوا کرتا ہے کہ جو واقعتا علم دوست ہوں جن کی صبح شام بس کتابوں سے شروع ہو کر کتابوں پر ہی ختم ہوا کرتی ہے۔ تاریخ عالم میں بہت سے ایسے لوگ گزرے ہیں کہ جنہوں نے تعلیم کی ترویج میں اپنی زندگی کو وقف کیا اور تعلیم کے فروغ کو اپنی زندگی کا مقصد اولین سمجھا۔ ایسا ہی ایک چراغ حسن صہیب مراد تھے جو نہ صرف دنیاوی تعلیم کے میدان میں اپنا سکہ منوا گئے بلکہ دینی میدان میں بھی کسی سے پیچھے نہ رہے۔ ان کا تعلق ایک دینی گھرانے سے تھا اور گھرانہ بھی ایسا کہ جو اپنی دنیا کو دین پر قربان کرنا ہی اپنا اصل مقصد سمجھتے تھے۔ اس چراغ نے اپنے اندر موجود علم کے نور سے جہاں تک ممکن ہوا کئی خاندانوں کو نورِ علم سے روشن کیا آنے والی نسل کے لیے تعلیم کے میدان میں ترقیاتی کام کیے اور علم کو بہترین طریقے سے اگلی نسل میں منتقل کیا۔حسن صہیب مراد کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھاوہ اسلامی مفکر خرم جاہ مراد ؒ کے صاحبزادے تھے۔ خرم جاہ مراد بھوپال (انڈیا ) میں 1936ء پیدا ہوئے وہ اسلام کے داعی اور مبلغ تھے جو بعد ازاں کراچی میں رہائش پذیر ہوئے۔وہ اپنے شب و روز تعلیم اور تعلم میں گزارنے والے تھے۔ علمی و ادبی اس گھرانے میں 22اکتوبر 1959ء میں ایک اور چراغ نے آنکھ کھولی جس کانام حسن صہیب مراد رکھا گیا۔حسن صہیب مراد شروع دن سے ہی ایک جداگانہ مزاج کے مالک تھے۔ علمی میدان میں قدرت نے آپ کو بہترین دماغی صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ آپ نے NEDیونی ورسٹی آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے سول انجینرنگ کی ڈگری لی اور MBAکی ڈگری واشنگٹن سٹیٹ یونی ورسٹی امریکہ سے حاصل کی۔ آپ نے UKکی یونی ورسٹی آف ویلز سے ڈاکٹر آف مینجمنٹ کی ڈگری لی۔ آپ پاکستان میں ILMاور نالج اسکولز کے لگ بھگ 200کی تعداد پر مشتمل چین کے چیئر مین رہے۔حسن صہیب مراد 2004سے UMTیونی ورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ریکٹر بھی تھے۔ وہ ایک طرف تو مینجمنٹ کے پروفیسر اور استاد تھے تو دوسری طرف اسلام کے مبلغ بھی تھے مسجد میں جمعہ کے دن خطبہ دیتے اللہ کے بندوں کو اللہ کے احکامات سے بھی روشناس کراتے تھے۔وہ دین و دنیا کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے والی شخصیت تھے۔انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے سچے سپاہیوں کے جیسی گزاری ۔ اپنے ہی والد صاحب کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ’’ جب میں آٹھ سال کا تھا تو والدمحترم (خرم جاہ مراد) حج کر کے واپس آئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ ’’بابا آپ نے میرے لیے وہاں کیا دعا مانگی تھی؟‘‘ تو خرم جاہ مراد صاحب نے جواب دیا کہ’’ بیٹا! میں نے اپنے رب سے تمہارے لیے شہادت مانگی ہے‘‘ تو حسن صہیب نے جواب دیا کہ ’’بابا! یہ تو آپ نے موت مانگ لی‘‘ تو باپ نے جواب دیاکہ ’’نہیں بیٹا! شہادت ہی تو اصل زندگی ہے اور میں نے تمہارے لیے زندگی کی دعا مانگی ہے‘‘ علم و عمل کا چمکتا ہو ا یہ ستارہ مورخہ 10ستمبر 2018بروز سوموار ہم سے جدا ہو گیا۔ حسن صہیب مراد خنجراب کے قریب ایک ٹریفک کے المناک حادثہ میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات سے جہاں ان کے خاندان میں ایک چراغ کی کمی واقع ہوئی ہے وہیں علمی میدان میں بھی شاید نہ پُر ہونے والا خلا پیدا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں ایسے ہیرہ صفت لوگ ہم سے جدا ہو کر اگلی دنیا سدھار جاتے ہیں وہیں ان جیسے اور لوگ بھی علمی و ادبی میدان میں پیدا ہونے چاہیئیں۔ جو اس دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کے بھی ماہر ہوں ، جو علم کی دنیا میں اپنی مثال آپ ہوں اور اپنا کوئی ثانی نہ رکھتے ہوں۔ حسن صہیب مراد جیسے لوگ گھپ اندھیروں میں چمکتاہوا وہ چراغ تھے کہ جس نے کئی اور چراغوں کو روشنی بخشی ہے اور روشنی بکھیرنے میں جن کا کوئی ثانی نہیں۔۔۔۔
زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثلِ ایوان سحر مرقد فروزاں ہو ترا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نور ستہ اس گھر کی نگہبانی کرے