Buy website traffic cheap

ذرداری

سابق صدر بھی ن لیگ کیلئے دردمند نکلے .

سابق صدر بھی ن لیگ کیلئے دردمند نکلے اوربیگم کلثوم نواز کی شدید علالت کی خبر پر خاموش نہ رہ سکے اپنے دعائیہ بیان میں‌کہتے ہیں‌کہ ، سابق صدر کہتے ہیں‌کہ اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کو صحت اور زندگی عطا فرمائے۔ مولا بخش چنڈیو نے کہا بیگم کلثوم نواز کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں، اللہ بیگم کلثوم نواز کو جلد صحتیاب کرے، دعا ہے کہ بیگم کلثوم نواز صحتیاب ہوکر وطن واپس آئیں

——————————

یہ خبر بھی پڑھیئے

کٹھوعہ عصمت دری وقتل کیس ،ملزم بالغ ہے یا نا بالغ اس کے لئے طبی معائنہ کیا جائے،عدالت کا حکم
پٹھانکوٹ… پٹھانکوٹ ضلع عدالت نے منگل کے روز کٹھوعہ عصمت دری اور قتل معاملہ میں جموں وکشمیر پولیس کی درخواست پر ایک ملزم کا میڈیکل بورڈ سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے تاکہ یہ پتہ لگایاجاسکے کہ آیا وہ نابالغ ہے یا بالغ۔وکلا صفائی نے پٹھانکوٹ سیشن کورٹ میں پرویش کمار عرف منو نامی ملزم جوکہ جیل میں زیرحراست ہے، کو نابالغ قرار دینے کے لئے عرضی دائر کی تھی، جس پرجموں وکشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے 11جون کو اعتراضات دائر کئے اور ساتھ ہی ضمنی درخواست دی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ اس بات کا پتہ لگانے کہ ملزم بالغ یانابالغ ہے، اس کا میڈیکل بورڈ کے ذریعہ طبی معائنہ کرایاجائے۔ذرائع کے مطابق منگل کو دن ڈیڑھ بجے تک پرویش کمار کو نابالغ قرار دینے کے لئے دائر عرضی پر بحث ہوئی جس میں وکلا صفائی اور کرائم برانچ پراسیکیوٹر نے حصہ لیا، کئی گھنٹوں تک مفصل بحث اور دونوں وکلا کی دلائل سننے کے بعد سیشن کورٹ نے حکم دیا کہ 2جولائی2018تک میڈیکل بورڈ کے ذریعہ پرویش کمار عرف منوملزم کا ٹیسٹ کرایاجائے ۔دریں اثنا منگل کے روز بھی اسی گواہ کی ہی جرح جاری رہی جس کا پیرکو جرح ہوئی تھی۔ ایڈووکیٹ آسیم سہنی نے یواین آئی کو بتایاکہ ابھی ایک ہی گواہ کی جرح چل رہی ہے اور کل یعنی بدھوار کو بھی یہ جاری رہے گی، کیونکہ آج زیادہ تر پرویش کمار کو نابالغ قرار دینے کے لئے دائر عرضی پر بھی بحث ہوئی۔انہوں نے مزید بتایاکہ عدالت نے 2جولائی 2018تک میڈیکل بورڈ سے جوینائل ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا ہے اب یہ ملزم کے وکلا پر مبنی ہے وہ کب تک کراتے ہیں۔یاد رہے کہ عدالت نے اس معاملہ کے 261میں سے 17گواہوں کے نام سمن جاری کیا تھا لیکن وہ جمعہ کے روز پیش نہ ہو سکے تھے جس پر فاضل جج نے ایس ایس پی کرائم کو اصالتا عدالت میں حاضر ہونے کے لئے کہا تھا۔11جون یعنی پیر کو ایس ایس پی کرائم برانچ رومیش جالا از خود پیش ہوئے تھے جنہوں نے یقین دلایاتھاکہ آئندہ تاریخ پر گواہان کو پیش کیاجائے گا۔ بتادیں کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاوں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔ کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاوں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔ تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔مقدمے کے ملزمان میں واقعہ کے سرغنہ اور مندر کے نگران سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر ورما، سانجی رام کا بھتیجا وشال، وشال کا دوست پرویش کمار منو، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا ہیں۔