Buy website traffic cheap

ماڈل

سانحہ ماڈل ٹائون کے ورثائ کو انصاف دلوانے کیلئے طاہر القادری میدان میں آگئے

لاہور(آئی آئی پی)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ نواز شریف کی سزا کے بارے میں جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کے قانونی کردار سے متعلق جو معاملات اٹھائے نیب انکا جواب دے۔نیب کی انویسٹی گیشن اور پراسیکیوشن میں جو کوتاہی ہوئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟نیب کے چیئرمین ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ وہ گزشتہ روز سنیئر رہنماﺅں کے اجلاس میں گفتگو کر رہے تھے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ نظام،افسران،بیوروکریسی سب کچھ وہی ہے نتیجہ مختلف کیسے آ سکتا ہے؟ ملک میں 70 سال سے جو کھیل کھیلا جا رہا تھا وہ اب بھی کھیلا جا رہا ہے،جب تک نظام نہیں بدلے گا قانون سے کھلواڑ ہوتا رہے گا اور انصاف ہچکولے کھاتا رہے گا۔ دریں اثناءسربراہ عوامی تحریک نے گزشتہ روز علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ماڈل ٹاﺅن میں 14 معصوم شہریوں کی لاشیں گرائی گئیں ،قوم کی بیٹیوں کو گھسیٹا گیا ،منہ میں گولیاں مار کر شہید کیا گیا، بے گناہوں کا خون بے دردی سے بہایا گیا، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مظلوم چار سال سے انصاف کے حصول کے لیے دھکے کھارہے ہیں۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے چار سال 2014 ءکے دھرنے سے لے کر آخری دن تک ہمیشہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکے انصاف کےلئے آواز بلند کی، اب وہ برسراقتدار ہیں، عمران خان اور پی ٹی آئی کی گورنمنٹ کے لیے پہلا ٹیسٹ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ملوث ان 116 پولیس افسران کی برطرفی ہے جن کو عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ خود عمران خان چار سال ہمارے ساتھ مل کر کرتے رہے ہیں، ماڈل ٹاﺅن سانحہ میں ملوث پولیس افسران آج بھی اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔ ایک بھی شخص معطل ہوا نہ او ایس ڈی بنایا گیا اور نہ جیل گیا ہے،موجودہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، میں امید کرتا ہوں کہ عمران خان اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔ وہ وطن پہنچنے پر لاہور ایئرپورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک، تحریک منہاج القرآن کے مرکزی، صوبائی رہنما اور کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے موجود تھی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ماسٹر مائنڈ اور ملوث افسران جیلوں میں بھیجیں تاکہ مظلوموں کے لیے انصاف کا راستہ ہموار ہو۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ذمہ داران دھمکیاں دے رہے ہیں، عدالت میں عوامی تحریک کے گواہوں کو مارا پیٹا بھی جارہا ہے ،ان دھمکیوں اور غنڈہ گردی کے نتیجے میں ہمارے لیڈنگ وکلاءنے خوفزدہ ہو کر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی وکالت سے انکار کر دیا ہے۔ مجھے فوری طور پر وطن اس لیے آنا پڑا کہ وکلاءسے رابطہ کر کے ایک لیڈنگ وکیل ہائر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی دلائل مکمل ہو چکے ہیں،اڑھائی مہینے سے فیصلہ محفوظ ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ فیصلہ سنایاجائے ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے رکوانے میں تحریک منہاج القرآن کا اہم رول ہے۔تحریک منہاج القرآن نے جرمنی ،ہالینڈ و دیگر ممالک کے ممبر پارلیمنٹ جو میرے ساتھ مختلف مختلف کانفرنسز میں بھی شریک تھے ان سے میمورنڈم سائن کروا کے ہالینڈ کے وزیر اعظم کو دیا اس کاوش کے نتیجے میں ہالینڈ پرائم منسٹر نے کمیٹی بنائی اور یقین دہانی کرائی کہ کمیٹی جو سفارش کرے گی اسکی روشنی میں فیصلہ ہوگا،کمیٹی کی سفارش پر گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کا فیصلہ واپس لیا گیا جس میں تحریک منہاج القرآن کا کلیدی کردار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کےلئے تعزیت کر چکا ہوں انکی بخشش اور مغفرت کےلئے دعا گو ہوں۔