Buy website traffic cheap

سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان

سب سے پہلے پاکستان
کھوج
راجہ طاہر محمود
پاکستان نئے دور میں داخل ہو رہا ہے منتخب ہونے والی نئی حکومت سے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں اور یہ امیدیں اس قدر زیادہ ہیں کہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اگر حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی تو پھر شاید لوگ مایوس ہو جائیں دوسری طرف حکومتی جماعت کے سر براہ نے ملک سے کرپشن اور دیگر مسائل کو ختم کرنے کی ٹھان لی ہے اور ان پر عمل درامد کرنے کے لئے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ایسے میں عوام کسی معجزے کے منتظر ہیں مگر یہ بات عوام کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس ملک میں ستر سالوں کا گند کچھ دونوں میں صاف نہیں ہو سکتا اس کے لئے قربانی چاہیے ہوتی ہے
آج ہم پر ماضی کی نسبت زیادہ زمہ دا ریاں عائد ہو تی ہیں کہ ہم اس ملک کے لئے کیا کچھ دے سکتے ہیں اس کے لئے کیا کچھ کر سکتے ہیں ہمارا ملک بہت پیارا اسے اللہ نے تمام نعمتوں سے نواز رکھا ہے اس کے ادارے ہمارے ادارے ہیں اور ہمیں اپنے اداروں سے بہت پیار ہے دوسری طرف وہ لوگ جو ستر سالوں سے اسے نوچتے رہے ہیں آج ان کی یہاں پر کوئی جگہ نہیں وہ لوگ اب عوام کے سامنے ننگے ہو چکے ملک پاکستان کے عوام اب جاگ چکے ہیں اور ان کی وجہ سے ملک میں حقیقی تبدیلی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہو گا لیکن کچھ عناصر اپنی ہار کی خفت کو مٹانے کے لئے ہماری پاک فوج کے خلاف نفت انگیز اور منظم پروپگنڈا کر رہے ہیں ایسے لوگوں کو شاید غدار وطن کہتے ہیں اور یہ غدار وطن یہ نہیں جانتے کہ اس ملک کے عوام اپنی مسلح افواج کے پیچھے ایک آئینی دیوار بن کے کھڑے ہیں جو کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔آج کچھ لوگوں کو جب عوام نے مسترد کر دیا تو انھیں مذموم مقاصد ڈوبتے نظر آئے ایسے میں انھوں نے اپنی اصلاح کرنے کے بجائے ملکی اداروں کے خلاف نفرت کے بیج بونے شروع کر دیے انھیں شاید پاکستان کے دشمنوں نے ایسا کرنے کا کہا ہو گا اپنی واضح ہار کو چھپانے کے لئے کوئی مذہب کا چورن فروخت کر رہا ہے کوئی اپنی ترقی کا کوئی فرقہ پرستی کا اور کوئی معاشی ترقی کا لیکن یہ سب عوام کے سامنے آچکا کہ کون ہمیں لوٹ کر کھا گیا ۔ ملکی سیاسی جماعتوں میں ہر سیاسی جماعت کا اپنا نظریہ ہوتا ہے اور کوئی بھی سیاسی جماعت چاہے وہ اپوزیشن میں ہو یا حکومت میں کسی بھی طور پر پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی انتہائی اقدام نہیں اٹھا سکتی اور نہ ہی ملکی سلامتی کے خلاف کوئی بات کر سکتی ہے مگر آج یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اپنے ہی لوگ دشمن کی بولیاں بول رہے ہیں اس کی بڑی وجہ ہماری ریاست کی سستی ہے جو کسی نہ کسی سیاسی مصلحت کی وجہ سے کوئی انتہائی اقدام نہیں کرتی ۔بات قومی سلامتی اور پاکستان کے وقار کی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے قومی مفاد کے منافی کام کرنے والے عناصر کی معافی قبول نہیں کرنی چاہے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو اس کی سزا دینی ہو گی الیکشن ہارنے کے بعد بہت سے نام نہاد سیاسی لیڈروں کی جانب سے جذبہ حب الوطنی کا ناصرف خون کیا گیا بلکہ عوامی جذبات کو شدید تکلیف پہنچائی گئی ہے آج یہ بات بھی سچ ہے پاکستان اس کی ا فوج اور اہم عسکری شخصیات کے خلاف زہر اگلنے والے کسی معافی کے مستحق نہیں ایسے عناصر کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے اور ایک ایسی مثال قائم ہونی چاہے جس کے بعد کسی کو ایسی جرات نہ ہو ۔دوسری طرف کرئے کوئی بھر ئے کوئی کے مصادق اس ہرزہ رسائی پر عجیب و غریب منطقیں پیش کی جا رہی ہیں کوئی پوچھے بھلا جو لوگ پاکستان کی آزادی کا جشن نہ منانے کی باتیں کر رہے ہیں کیا وہ پاکستان کے مخلص ہو سکتے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف ٹرائل ہونا چاہیے کیونکہ ایسا کوئی دشمن ہی سوچ سکتا ہے آج جس طرح کے حالات ہیں اور ملک جس طرح کے کرائسس سے گزر رہا ہے اگر ہم نے ان باتوں کی معافی دے دی جن کا ڈائیریکٹ ہماری قومیت سے تعلق ہے تو پھر کل کلاں کو ہر کوئی اٹھ اٹھ کر ہمیں یوں ہی برا بھلا کہہ کر بعد ازاں معافی مانگ لے گا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف ہرز رسائی پر سخت سے سخت قانونی کاروائی کرئے اور جو سزا غدار وطن کے لئے آئین میں تجویز کردہ ہے اس کو ان پر پر لاگو کرئے اور ایسے عناصر کے خلاف بھر پور اقدامات کرتے ہوئے اس بات کی جواب طلبی کی جائے کہ جس ملک نے انھیں نام اور مقام دیا کس طرح غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے انھوں نے اسی پر باتیں کی یہ سرزمین ہماری دھرتی ماں ہے اور جس نے اس کو گالی دی اس نے دھرتی ماں کو گالی دی آج ایک بات بڑی واضح ہو گئی کہ جس طرح پورا ملک اپنی افواج اپنے اداروں کے پیچھے کھڑا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ آج ہم ایک ہیں آج اگر ہم نے تفرقوں کو ختم کرنا ہے تو پھر سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانا ہو گا ۔