Buy website traffic cheap

حلف

سجدہِ رن مریدی

سجدہِ رن مریدی
کچھ دن پہلے ٹی وی آن کیا تو اس پر ایک خبر چل رہی تھی جس کو دیکھ کر سن کر بہت عجیب سا لگا وہ اسلیئے کہ ایک ایسا شخص جو اسلامی ہونے کے بہت دعوٰیدارہے وہ سر عام بابا فرید صاحب کے مزار پر حاضری کے دوران ان کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو رہا تھا خان صاحب سے ایسی توقع ہرگز نہیں تھی ویسے تو یہ کوئی پہلا واقع نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔جن میں قابل ذکر قادیانیوں کو بھائی کہنا اور ان میں ہم کوئی فرق نہیں اور بلاول بھٹو زرداری صاحب کا ہولی کے موقع پر جاکر پوجا کرنا یہ اس سے بڑے گنا ہ ہیں جو کہ واقعی قابل مذمت ہیں۔لیکن اس پر علماء کرام کی خاموشی نہایت افسوناک تھی،لیکن ایک عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے جن لوگوں نے یہ حرکت کی یہ مسلمان تو ہیں لیکن ان کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن عمران خان صاحب تو نماز بھی پڑھتے ہیں اور ان کو کافی دینی علم بھی ہے بقول اُن کے 30سال سے وہ بزرگان دین کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اور اسلام کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔تو ان میں اتنا تو شعور ہونا چاہیئے کہ کسی بزرگان دین کی اس سے بڑھ کر اور کوئی عقیدت نہیں ہو سکتی کہ جو پیغام انھوں نے ہمیں دیا ہے اس پر عمل کیا جائے اور کسی بھی مزار پر حاضری کے دوران قرآن پڑھ کر بزرگان دین کو ایصال ثواب کیا جائے۔ اس بڑھ سیایک بزرگ کیلئے کوئی تحفہ اور نہ ہی اس بڑھ کر ایک بزرگ کیلئے کوئی عقیدت ہے،یہ عقیدت نہیں ہیکہ ایک بزرگ نے جو کہا ہے جو عمل کرنے کو بتایا ہے اس سب کو ایک طرف رکھ کر اُن کے ارشادات کو چھوڑ کر اُن کے مزار پر جا کر ان کی چوکھٹ پر یا ان کی قبر پر جاکر سجدہ ریز ہو یہ دکھاوا تو ہو سکتا ہے عقیدت نہیں،کچھ اس طرح ہی خان صا حب نے کیا جو خان صاحب نے کیا اس کو ہم سجدہ رن مریدی کا نام تو دے سکتے ہیں لیکن اس کو عقیدت اس لیئے نہیں کہ سکتے کہ خان صاحب پہلے بھی اکثر مزارت پر حاضری دیتے رہتے ہیں لیکن ایسا ان کو پہلی بار ہی کرتے دیکھا گیا ہے۔خان صاحب مانیں یا نہ مانیں یہ سجدہ رن مریدی ہی تھا۔کسی بھی نے بزرگ کب کہا ہے کہ اس طرح سے ان کی عقیدت کے کیلئے مزار کو چوکھٹ کو بوسہ دو آج ہم لوگوں کی مثال بالکل اس طرح ہے ۔ایک پیر صاحب نے اپنے مرید کو کو خط لکھا کہ میں فلاں تاریخ کو آ رہاہوں میں 10 بجے اسٹشن پر پہنچ جاؤں گا تم لازمی لینے آجانا اور سب گاؤں والوں کو بھی بتا دینا۔خط ملتے ہی مرید نے بہت ہی احترام سے خط کو چوما اور گھر میں سب سے اونچی جگہ تھی وہاں رکھ دیا۔اسی طرح سب اس مرید کے سب گھر والے اور گاؤں والے آتے گئے اور خط کو چومتے گئے۔یہ مرید روز صبح اٹھ کر خط کو انچائی پر رکھ دیتا۔پیر صاحب نے جس دن آنا تھا آئے اور دیکھا کہ کہ ا ن کو لینے کوئی نہیں آیا ان کو بہت سخت غصہ آیا خیر بہت مشکل سے جب وہ گاؤں پہنچے تو آتے ہی پیر صاحب نے مرید سے کہا کہ میں نے خط لکھا تھا کہ میں آ رہا ہوں تو تم میں سے کوئی لینے کیوں نہیں آیا میں تم سب سے سخت ناراض ہوں آئندہ کبھی نہیں آؤں گا تم لوگوں کے پاس تو اس پر مرید نے معصومیت سے جواب دیا،نا پیر جی نا،ہم سب کی آپ پر جان قربان ہم نے وہ خط دیکھیں کتنے احترام سے سب سے اونچا رکھا ہے اور گاؤں کا کوئی بندہ ایسا نہیں جس نے اس کو چوما نہ ہو ہم لوگ تو پیر و مرشد آپ سے بہت ہی عقیدت رکھتے ہیں اور آپ بہت احترام کرتے ہیں۔پیر صاحب کوان کی معصومیت پر بہت ترس آیا اور بولے عقیدت تو ٹھیک ہیلیکن اس کو کھول کر پڑھ تو لیتے اس میں لکھا کیا مجھے آنے میں پریشانی تو نہ ہوتی۔کچھ ایسی ہی حالت ہم لوگوں کی ہے جن عمران خان صاحب بھی شامل ہے۔کہ جو بزرگان دین نے پیغام چھوڑا ہے اس کو ایک طرف کر کے چوکھٹ چوم کر عقیدت کا اظہار کیا جارہا ہے۔اگر ویڈیو غور سے دیکھیں تو پہلے پیرنی سجدہ ریز ہوئی یا چوکھٹ کو بوسہ دیا اس کے بعد خان صاحب نے بھی بابا فرید صاحب کے مزار کی چوکھٹ کو بوسہ دیا جو کہ سجدہ رن مریدی بن گیا۔شیطان نے ایک سجدہ نہیں کیا تو اس کو دھتکار دیا گیا۔اور خان صاحب ایک سجدہ رن مریدی سے ا ن کا سیاسی کیریئر داؤ پر لگ گیا ہے۔بہت سارے ایسے لوگ جو کہ خان صاحب کے سپوٹر تھے ان کی اس حرکت سے متنفر ہوگئے ہیں ۔کل تک خان صاحب کی مقبولیت دن بدن بڑھتی دکھائی دے رہی تھی لیکن آج سجدہ رن مریدی کی وجہ سے خطرے میں دکھائی دیتی ہے۔خان صاحب اگر عوام سے مافی مانگ لیں تو شائد عوام کا غم و غصہ کچھ کم ہو۔عوام میں غم و غصہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر مسلک کے لوگ عمران کو پسند کرتے ہیں اور عمران خان کی اس حرکت نے ایسی مسالک کو بہت دکھ پہنچایا ہے جو کہ کسی بھی ایسے عمل کو شرک کانام دے لوگوں پر کفر تک کا تک فتٰوی لگا دیتیہیں۔اس لیئے عمران خان صاحب کو بطور ایک لیڈر یہ زیب نہیں دیتا۔ اس لیئے اگر خان صاحب واقعی عاجز انسان ہیں تو اپنے ناراض عوام سے معافی مانگ کر ثابت کر دیں کہ وہ واقعی عاجز انسان ہیں ورنہ ان کے سیاسی کیئرئیر کو واقعی بہت زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔یہ بات اتنی معمولی نہیں جتنی نظر آتی ہے۔اسلیئے خان صاحب کو اپنا سیاسی کیئریئر بچانا ہو گا ۔جو کہ ان کے2501 سجدہ رن مریدی سے کافی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔اب خان صاحب کی مرضی ہے کہ وہ اپنے کیئرئیر کی اس ڈوبٹی کشی کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا کہ ناکام؟یہ خان صاحب کیلئے ایک کڑا امتحان ہے۔کیونکہ اس سے پہلے خان صاحب پر جتنے بھی الزامات لگائے گئے ان کا تعلق مذہب سے نہیں تھا ۔لیکن یہ ایک ایسا ایشو ہے جس میں ایک باپ بیٹے اور بیٹا باپ کو چھوڑ دیتاہے۔ایک مشہور کہاوت ہے ایک کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے،تو اگر کسی بھی ناکام مرد کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی ناکامی کی وجہ بھی عورت ہی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ خان صاحب کی ناکامی کی وجہ بھی ایک عورت ہی بن جائے جن کودیکھ کر خان صاحب نے یہ سجدہ کیا۔اس لیئیخان صاحب کو اس ناراض عوام کو منانا ہو گا۔نہیں تو اس سجدہ رن مریدی کے بھیانک نتائج بھگتنے ہونگے۔
تحریر: اظہراقبال مغل