Buy website traffic cheap

سعودی عرب

سعودیہ عرب سے ایک کے بعد ایک اور دلخراش خبر

سعودیہ عرب سے ایک کے بعد ایک اور دلخراش خبر…………………مکہ المکرمہ: مسجد الحرام میں ایک ماہ کے دوران تیسرے شخص نے چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔ خودکشی کرنے والا شخص بنگلا دیش کا شہری ہے۔ حکام کا کہنا ہےکہ مسجد میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ واقعہ خودکشی ہے واضح رہےکہ مسجد الحرام میں رواں ماہ خودکشی کا یہ تیسرا واقعہ ہے
ٕ

——————————-
یہ خبر بھی پڑھیئے

کراچی:60ارب کا متوقع عید سیزن 40 ارب تک محدود,تاجر مایوس
اہم مارکیٹس توجہ حاصل نہ کرسکیں،خریداری کا رجحان سپر مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی جانب ہو گیا، ٹریفک پولیس کی چاندی ہو گئی
کراچی ÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷تاجروں نے رواں سال عید سیل سیزن کو مجموعی طور پر غیر تسلّی بخش قرار دے دیا، عید کی روایتی خریداری کے حوالے سے پہچان رکھنے والی اہم مارکیٹس توقعات کے برعکس خریداروں کی توجہ حاصل نہ کر سکیں، خریداری کا رجحان جنرل سٹورز سے سپر مارکیٹوں اور مارکیٹوں سے شاپنگ مالز کی جانب ہو گیا۔ رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں خریداروں کا مارکیٹوں میں امنڈ آنے والا ریلا مصنوعی ثابت ہوا۔ رواں سال 60ارب روپے کا متوقع عید سیل سیزن گزشتہ سال کی مانند 40ارب روپے تک محدود رہا۔ تاجروں کے مطابق معاشی حالات سازگار ہوں تو معاشی حب کراچی میں کم از کم 100ارب روپے کا عید سیل سیزن ہے۔ اس سلسلے میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے میڈیا کو جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے سفید پوش افراد کی مشکلات بڑھ گئیں، ہوشربا مہنگائی، بیروزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث خریداروں کے ارمانوں اور دکانداروں کی امیدوں پر پانی پھرگیا۔ استطاعت سے محروم عوام عید کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہو گئے۔ بیشتربازاروں میں نظر آنے والی گہما گہمی ونڈو شاپنگ ثابت ہوئی۔ تجارتی مراکز میں چہل پہل کا سب سے زیادہ فائدہ ٹریفک پولیس کو ہوا، نو پارکنگ سے گاڑیاں اٹھانے اور جرمانوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا، جیب کتروں کی بھی چاندی ہو گئی۔ حفاظتی پولیس نے سنیپ چیکنگ کی آڑ میں جی بھر کر عیدی بنائی۔ بیشتر دکانوں میں فروخت کے لیے تیار کردہ60 فیصد سے زائد مال فروخت نہ ہو سکا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں20فیصد تک کمی رہی، تاجروں کو عید کے بعد کاریگروں اور کارخانے داروں کو رقوم کی ادائیگی کی فکر ستانے لگی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک جیسے اہم ترین سیل سیزن میں توقع کے خلاف خریداری میں کمی موسمِ بہار میں باغ اجڑنے کے مترادف ہے۔ بازاروں میں ابتدائی طور پر نظر آنے والی رونق اور گہما گہمی تاجروں کے لیے انتہائی حوصلہ افزا تھی لیکن قوتِ خرید میں کمی اور مہنگائی کے باعث حقیقی خریدار ناپید رہے ، 80فیصد خریداری خواتین اور بچوں کے ملبوسات تک محدود رہی۔ گزشتہ سال کی طرح رواں سال رمضان المبارک کا آخری عشرہ کاروباری طور پر توقعات کے برخلاف رہا، پتھارے ، کیبن، اسٹالز اور ٹھیلے متوسط اور کمتر وسائل کے حامل طبقے کی خریداری کا محور بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ چند بڑے بازاروں کے علاوہ شہر کے بیشتر تجارتی مراکز خریداروں کے منتظر رہے ، بڑی مارکیٹوں میں لگائی جانے والی رعایتی سیل بھی خریداروں کو متوجہ نہ کر سکی، مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے مقابلے میں درآمدی اشیاء4 کی خریداری عروج پر رہی، سب سے زیادہ پذیرائی چینی مصنوعات کو حاصل ہوئی۔ رواں سال ملک کے مختلف شہروں سے منگوائے گئے ریڈی میٹ سوٹ بھی خریداروں کے لیے پْر کشش ثابت نہ ہو سکے ، خریداری ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے ، مصنوعی زیورات اور زیبائش کے سامان تک محدود رہی۔ گل پلازہ، گولڈ مارک اور چند شاپنگ مالز حسبِ سابق خریداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔ ایک سوال پر عتیق میر نے بتایا کہ خریداری کے اعداد وشمار کا تخمینہ شہر کی سو سے زائد بڑی اور معروف مارکیٹس سے حاصل کیے گئے ڈیٹا سے نکالا گیا ہے ، جس میں تھوڑی بہت کمی بیشی ہوسکتی ہے۔