Buy website traffic cheap

سماج رواج

سوشل میڈیا تبدیلی کا اہم ہتھیار

سوشل میڈیا تبدیلی کا اہم ہتھیار
افضال احمد بٹ
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی کوئی بھی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ بلا شبہ میڈیا کی تمام اقسام میں سب سے زیادہ آزاد اور استعمال ہونے والی قسم کا نام ’’سوشل میڈیا‘‘ ہے، پاکستان کی آزادی کی خاطر ہماری ماؤں نے اپنے بیٹوں کے سر قلم ہوتے اپنی آنکھوں دیکھے، ہماری بہنوں نے اپنے بھائیوں کو سر سے پاؤں کے ناخن تک لہو میں لت پت دیکھا، پاکستان کی آزادی کیلئے ہمارے بڑوں نے ایسی ایسی قربانیاں دیں جنہیں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپتے ہیں اور رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں، ہمیں آزادی اور آزاد ملک پلیٹ میں رکھا ہوا ملا، شاید ہم اس لئے اس کی قدر نہیں جانتے، جنہوں نے قربانیاں دیں، جانیں دیں، مال و دولت، گھر ، مویشی، تن،من، دھن سب کچھ لٹا دیا اُنہیں اس ملک کی قدر کا صحیح اندازہ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ملک سے محبت اور اس کی حفاظت کرنے والا بنائے۔
عرصہ دراز سے پاکستانی عوام اپنوں کے ہاتھوں ہی برباد ہوتی چلی آرہی ہے، ہر پاکستانی بیرون ملک کا قرض دار ہو چکا ہے، اندھا دھند قرضے لئے گئے بجائے کہ پاکستان میں ان قرضوں کی مد میں لی گئی رقم سے بہتری آتی اُلٹا پاکستان کا بچہ بچہ قرضئی ہو گیا ہے، چند نام نہاد ظالموں نے پاکستان کو بے دردی سے لوٹا، یہاں کی عوام کی خون پسینے کی کمائی بیرون ملک اپنی عیاشیوں کیلئے لے کر روانہ ہو گئے، ان نام نہاد ظالموں نے پاکستان اور عوام کو دوبارہ انگریزوں کی غلامی میں لے جانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، میرے لہو کی بوند بوند میں پاکستان کی محبت شامل ہے، وطن عزیز میں تبدیلی دیکھنے کا خواہشمند ہوں اور تبدیلی کا نعرہ لگانے والے منتخب وزیر اعظم عمران خان صاحب کو ملک میں برق رفتاری سے تبدیلی لانے کیلئے ایک تجویز دینا چاہتا ہوں۔
جناب عمران خان صاحب!
الحمدللہ پاکستانی قوم زندہ دل قوم ہیں، ڈیم تعمیر کیلئے طلب کئے گئے خطیر فنڈ میں تمام پاکستانی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور جب تک ڈیم تعمیر کی مطلوبہ رقم پوری نہیں ہو جاتی یہ قوم مدد جاری رکھے گی، فنڈز میں ہمارے ملک کے نوجوان، بوڑھے یہاں تک کہ بچوں نے بھی اپنے کھلونے بیچ کر پیسے ڈیم فنڈز کیلئے جمع کرا دیئے ہیں، وطن عزیز سے محبت کرنے والے بیرون ملک میں مقیم لوگ بھی ڈیم کیلئے فنڈز دے رہے ہیں، پاکستانی عوام کے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور ڈیم فنڈز میں گہری دلچسپی لینے پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔
جناب عمران خان صاحب!
گزارش یہ ہے کہ ملک میں موجود عرصہ دراز سے کرپٹ نظام کو 100 دن میں تبدیل کرنا ناممکن ہے، ہر گلی، ہر محلے یہاں تک کہ آپ جہاں جہاں بھی نظر اُٹھائیں گے آپ کو کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی کرپشن میں ملوث ملے گا، پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنے کیلئے سوشل میڈیا سے بہتر کوئی چیز مددگار ثابت نہیں ہو سکتی، پاکستان کی عوام آپ کے ساتھ ہیں، عمران خان صاحب آپ کو اس عوام سے کئے وعدے پورے کرنا ہوں گے، عوام بہت مایوس ہو چکی ہے اور آپ سے عوام عوام کو بہت امیدیں وابستہ ہیں، سوشل میڈیا پر ایکٹو ہونے کے ناطے میں اس بات سے با خوبی آگاہ ہوں کہ لوگ سوشل میڈیا کو تبدیلی کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں، لوگ اپنے ارد گرد کسی بھی قسم کی منفی صورتحال کو ویڈیوز، تصاویر کے ذریعے فوراً سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کرتے ہیں تا کہ ان ظالموں کے خلاف فوراً کارروائی کی جا سکے، بہت سی ایسی زیادتی، رشوت خوری، مار کٹائی کی ویڈیوز دیکھ چکا ہوں جن پر فوری اعلیٰ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے معاملے میں شامل ملزمان کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا۔
جناب عمران خان صاحب!
ڈویژن یا سٹی لیول پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو سوشل میڈیا پر ہونیوالی تمام سرگرمیوں کو پورے دھیان سے مانیٹر کریں، جہاں کہیں کوئی گڑ بڑ انہیں نظر آئے تو فوراً اعلیٰ حکام کو اطلاع کریں، عمران خان صاحب جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ پیسہ بچانا ہے اور ملک سنوارنا ہے، ڈویژن یا سٹی لیول پر سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیموں میں بیسیوں لوگوں کی بجائے ایک دو لوگ رکھیں جو حکام کو فوری اطلاع دے کر ملزمان تک پہنچنے میں معاونت کریں، یہاں ایک اور تجویز دینا بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں بہت سے لوگ ڈر پوک ہیں جو کسی بھی معاملے کی ویڈیو یا تصاویر یا دیگر مواد سوشل میڈیا پر اس وجہ سے اَپ لوڈ نہیں کرتے کہ اُن کا نام آجائے گا، اور انہیں قتل کر دیا جائے گا یا پھر ملزمان کی طرف سے کسی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا بھی حل ہے، عمران خان صاحب آپ سٹی لیول پر ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنوائیں جہاں اَپ لوڈ کرنے والے کا نام، پتہ و دیگر معلومات کسی کو بھی دکھائی نہ دے، آپ کے ایسا کرنے سے کرپشن، برائی ، ملاوٹ، حرام خوری اور نا جانے کیا کچھ گلی گلی کوچے کوچے سے نکل کر آپ کے سامنے آجائے گا اور آپ کو ملک میں برق رفتاری سے تبدیلی لانے میں برقی معاونت حاصل ہو گی۔
جناب عمران خان صاحب!
وطن عزیز کے نوجوان اپنے ملک پر جان نثار کرنے کو بھی تیار ہیں، جس گلی ، جس محلے سے گزرتا ہوں وہاں یہ گانا ’’روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے‘‘ سننے کو ملتا ہے، اللہ کی قسم ! جب سے ہوش سنبھالا ہے عوام کو اتنا خوش کسی اور وزیر اعظم کے منتخب ہونے پر نہیں دیکھا جتنا آپ کے وزیر اعظم منتخب ہونے پر خوش دیکھا ہے، عمران خان صاحب سوشل میڈیا ایسی چیز ہے جسے امیر سے امیر اور غریب سے غریب انسان ضرور استعمال کرتا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے شہروں کے ساتھ ساتھ گاؤں، قصبے اور جہاں تک دیگر میڈیا کی رسائی نہیں ہے وہاں تک کے مسائل آپ کے سامنے آجائیں گے، وہ مسائل جنہیں آپ تک آنے نہیں دیا جا رہا، وہ مسائل جو رشوت کی آڑ میں ڈھکے چھپے ہوئے ہیں، وہ مسائل جو وطن عزیز کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں، وہ مسائل جن کی وجہ سے غریب خودکشیاں کر رہے ہیں، وہ مسائل جن کی وجہ سے کسان اور زراعت تباہ ہو رہی ہے، وہ مسائل جن سے خواتین کی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہی، وہ لوگ جو سرکاری اداروں میں بیٹھ کر مفت کی تنخواہیں بٹور رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
جناب عمران خان صاحب!
برسوں سے تبدیلی کو ترستی عوام کو ملک میں تبدیلی دیکھنے کی بہت جلدی ہے، عوام مزید صبر کرنے سے قاصر ہیں اور ملک میں تیز ترین تبدیلی لانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کارآمد ثابت ہو گا، پاکستانی عوام کو پاکستان میں تبدیلی لانے کیلئے سوشل میڈیا پر مکمل مثبت آزادی دی جائے، بہتر یہی ہو گا کہ سٹی لیول پر سرکاری ’’فیس بک‘‘ آکاؤنٹس یا ایسی ویب سائٹس بنائیں جائیں جن میں ہر عام و خاص کو کوئی بھی چیز اَپ لوڈ کرنے کی مکمل اجازت ہو اور یہ بات سونے پر سہاگہ ثابت ہو گی کہ اگر اَپ لوڈنگ کرنے والے کا نام، پتہ و دیگر سب کچھ ان فیس بک اکاؤنٹس یا ویب سائٹس پر دکھائی نہ دے، عوام کو مکمل چھوٹ دیں، مکمل سکیورٹی دیں، عوام آپ کے و دیگر اعلیٰ حکام کے تعاون اور فوراً ایکشن لینے سے ملک میں تبدیلی لے آئیں گے، تبدیلی کا خواہشمند ہوں اس لئے اگر کہیں مجھ ناچیز کی ضرورت ہو تو اپنے وطن کی بھلائی کی خاطر آپ کا اور دیگر محب وطنوں کا ساتھ دینے کو تیار ہوں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے تبدیلی لانے کی تجاویز تو ڈھیروں ہیں لیکن تحریر کیلئے جگہ تھوڑی ہے۔