Buy website traffic cheap


سوچ مار دیتی ہے !

سوچ مار دیتی ہے !
شعوریات
شہزاد روشن گیلانی
پپو کافی دنوں سے کچھ کام کے سلسلے میں لاہور تھا وہاں پر وہ ایک کاروباری دوست کے ہتھے چڑھ گیا چونکہ بیچارہ اپنے فائنل ائیر پروگرام کی وجہ سے بہت پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ ربوٹک ہینڈ بنا لے کاروباری دوست چونکہ پہلے سے ہی ایسے کچھ پروجیکٹس کر چکا تھالہذا اس نے پپو کو بتایا بھائی یہ تمہارے پائے کا کام نہیں یہ تو میں بنانے بیٹھوں تو مشکل میں پڑ جاوں تم تو پھر ٹھہرے پینڈو پپو۔۔۔پپو کو تپ تو بہت چڑھی لیکن ضبط اس وجہ سے کر گیا کہ دوست صرف کاروباری نہیں تکنینکی لحاظ سے بھی ماہر تھا پپو کو دوست نے بتایا کہ جو کام تم کرنے جا رہے ہو اس پر کوئی قریب 50 ہزار خرچہ آجائے گا اور ہے بھی بہت مشکل نوعیت کا کام اب پپو کا چونکہ وائی وا بھی تھا اب پپو کی جان پر بنی تھی کہ کرے تو کیا کرے۔۔۔۔ پپو ممی ڈیڈی تو نہیں تھا لیکن ری ایکٹ کچھ اسی طرح سے کرتا تھا۔۔ اب حالات سنگین تھے اور حالات کی موجوں کا رُخ کاروباری دوست کی جانب تھا۔۔دوست نے کہا بھائی سیدھی سی بات ہے میں نے ایف وائی پی میں سی این سی مشین بنائی تھی 20 ہزار میں وہ بن جائے گی تم بے فکر ہو جاو اور واپس چلے جاو میں تیار کر کے بھجوا دوں گا پپو بیچارے کی جان پر آئی تھی اور اوپر سے پپو اتنا شریف آدمی تھا کہ گروپ میں موجود خواتین ممبران سے پیسے لینے کے حق میں قطعی طور پر رضامند نہیں تھا وجہ تھی ایک اسی دوست تھی اور دوسری اسکی دوست کی دوست کی اب پیسے سارے پپو نے ہی خرچ کرنے تھے۔۔بات بیس ہزار سے چلی تھی اور دس ہزار پر آن پہنچی تھی پپو بارہاں کہہ رہا تھا کہ میں تمہارا بھائی ہوں کر دو اب مجھ سے پیسے لو گے لیکن کاروباری دوست یہ کہہ کر تسلی دے رہا تھا کہ کام آسان نہیں ہے وقت اور محنت دونوں لگیں گے تو ویسے ہی کیسے بنا کر دوں۔۔۔چونکہ میں بھی وہاں پر موجود تھا اب پپو نے میرا سہارا لینے کی بھی کوشش کی کہ ویکھو شاہ جی ہُن میں وہ پیسے دیواں گا۔۔۔۔میں نے کہا یار بات تو ٹھیک ہے دیکھیں کاروباری بھائی پیسے تو نہیں کچھ دعوت شاوت پر کام چلا لیں اب کاروباری صاحب خاموش تھے سوچنے کا وقت لیا خیر میں یونیورسٹی چلا گیا اور واپس آیا تو دیکھا سامان آچکا ہے اور ڈیل ڈن ہو طکی تھی دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ شاہ جی روز ایک پیزا اور ایک فلم پر ڈیل ڈن ہوئی ہیمیں نے کہا چلو شکر ہے پپو تھوڑا ریلیکس ہوا ورنہ پپو ہر وقت فون پر اپنی خواتین ممبران کو آگاہ کر رہا تھا جان چلی جائے گی لیکن میں تم لوگوں کو فیل نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ میں بھی چونکہ کاروائی کا پورا حصہ لہذا میرے لیے بھی وہی مینو تھا جو کاروباری بھائی کے لیے طے پایا تھا۔۔۔کام کا آغاز ہوا پپو نے بھی معاونت کی قصہ مختصر 4 دن مسلسل پیزا کھانے اور فلم دیکھنے کے بعد پپو بیچارا کنگال ہو چکا تھا جیب خالی تھی اور کام کوئی 30 فیصد باقی تھا جس پر کاروباری دوست چاہتے تھے کہ جوراسک ورلڈ دیکھ کر ہی مکمل ہو گا اب پپو بار بار میرے پاسْ آتا تھا کہ شاہ جی ہن ویکھ لو۔۔۔ لیکن کیا بھی کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔ پپو کا کام مکمل ہو گیا تھا جب کہ پپو کا کوئی 8000 کے قریب خرچہ آچکا تھا اور صرف واپس جانے کے لیے کل ملا کر کرایہ ہی باقی تھا۔۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ لنڈے سے شرٹ کوئی تیس،چالیس یا پچاس پاکستانی ڈالرز کی مل جاتی ہے اور یہ بات مجھے میرے ایک دوست جو کہ ایک بہت بڑے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں انہوں نے بتائی تھی کہ آپ لوگوں کی عمر میں میں یہ شرٹس پہنا کرتا تھا۔۔۔۔جو شرٹ تم نے میرے پہنی ہوئی ہے لگ بھگ 50 ڈالرز پاکستانی کی ہو گی پپو کو رشک آ رہا تھا کہ کیا سٹف ہے 2500 روپے لگانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ پپو نے اپنا وولٹ کھولا اور بولا شاہ جی پیسے کم رہ گئے ہیں یہ پیسے رکھیں میرے لیے بھی کچھ شرٹس لے لیجئے گا۔۔۔۔میں نے پیسے گنے تو وہ ایک سو چالیس روپے تھے پپو میرے بات کو بہت سیریس لے گیا تھا اب پرسو لنڈے پر جاوں گا دیکھتا ہوں کہ ایک سو چالیس روپے ہاکستانی میں کتنی انٹرنیشل برانڈز کی شرٹس آتی ہیں۔۔ نوٹ: یہ کہانی دو آئی طلبہ کی ہے ایک وہ جس کو کام آتا وہ عزت میں ہے اور پیسا بھی آرہا ہے دوسرا وہ جس کو کام نہیں آتا یا کم آتا ہے اس نے پیسے دیے کام ہو گیا۔۔۔ایف وائی پی بنانے کے لیے سافٹ ویر ہاوس موجود ہیں بچے بنا کر ڈگری لیتے ہیں اور پھر آفیشل جاب لیس ہوتے ہیں۔۔۔ لنڈے کے کپڑے کچھ نہیں کہتے لنڈے کی سوچ مار دیتی ہے