Buy website traffic cheap


سیاسی ثقافتی تاریخ اورموجودہ دور

سیاسی ثقافتی تاریخ اورموجودہ دور
تحریر: ڈاکٹر عثمان غنی
نئی چیزوں سے آگاہی معلوما ت میں ا ضافہ بھی کرتی ہے اور کچھ حیران بھی کرڈالتی ہے ، کچھ واقعات خوف زدہ کر دیتے ہیں اور کچھ تو نوشتہ دیوار کی سرحدوں تک کی سیرکرا ڈالتے ہیں،اگر ہوش وحواس سے کام لیا جائے تو ہر چیز ہر پہلو کے ساتھ روز روشن کی طرح عیاں ہے ، منیر نیازی کی منظر کشی دیکھیے۔
چمن کا زور فصیلوں کی انتہاء تک ہے
یہ شور برگ بہاراں کا بس ہوا تک ہے
گو کہ عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے تمام سیاسی پارٹیاں دل کو کشادہ کر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پوری نشان وشوکت کے ساتھ تیاربیٹھی ہیں ، امسال عام انتخابات 25جولائی کو ہونا ہیں اورہر گزرتے ہوئے لمحوں کے ساتھ وعدوں اور نعروں کے جشن بہاراں کا انتظام ہورہا ہے ، وعدوں اور نعروں کی تاریخ کوئی نئی نہیں یہ ہاتھوں میں ہاتھ جوڑے سیاسی تاریخ کے ساتھ ساتھ سفر کر تی رہی ہے ، روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ پیپلزپارٹی نے متعارف کر ایا تھا ، یہ صرف نعرہ ہی نہیں تھا ، وعدہ بھی تھا جو بھٹو صاحب نے پاکستان کے مجبور اور محکوم عوام کے ساتھ پورا کر نے کے لیے کیا تھا مگر ’’وہ وعدہ ہی کیاجو وفا ہوگیا ‘‘ اب وعدوں اور نعروں سے بات کہیں آگے نکل گئی ہے موجودہ دور میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی توجہ وعدوں اور نعروں کی بجائے پارٹی ترانوں اور مختلف انواع کے سیاسی نغموں تک محدود ہے ، عوام بھی جی بھر کے اس نایاب سہولت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔
کسی زمانے میں مخصوص انتخابی نشان ، جس پر مہر لگا کر عوام کو اپنی رائے کا اظہار کر نا ہوتا ہے ، کی سیاسی میدان میں بڑی اہمیت ہوا کر تی تھی ، ساری زندگی کی جمع پونجی اکٹھی کر کے اپنی ’’من پسند‘‘پارٹی کا ٹکٹ حاصل کیا جاتا ہے ،لفظ من پسند پر زور اس لیے دیا گیا ہے کہ اس سیاسی جماعت کی ان مخصوص لمحات میں یہی من پسندی ہی انتخابات میں کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی ، لوگ آؤ دیکھا نہ تاؤ ہوا کی اس مخصوص لمحاتی سمت میں رقص کرنے والی لہروں کا اندازہ لگا لیتے تھے،انہی لہروں کی تال میل کو مدنظر رکھ کر اپنے رائے کا اظہار کیا جاتا تھا ، ستر کی دہا ئی میں ہونے والے عام انتخابات میں اس انتخابی نشان کو بھٹو صاحب کی بڑی غلطی گرانا گیا تھا جو انھوں نے ’’جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخاردیکھ کر ‘‘ والی جذباتی کیفیت کے سرور سے سرشار ہوتے ہوئے نوستارہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو آلاٹ کر دیا تھا ، اس سے آگے کی تاریخ سے آپ سب واقف ہیں ۔ پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان ’تلوار‘ پر پابندی لگا دی گئی تھی ، اب چالیس سالوں بعد دوبارہ تلوار کا انتخابی نشان پیپلزپارٹی کو مل گیا ہے وہ تلوار یا تیر میں سے کسی ایک انتخابی نشان پر الیکشن لڑ سکتی ہے ، گویا دو انتخابی نشان اورجیالوں کی تعداد ’’چھٹے اسیر تو بدلہ ہوازمانہ تھا ‘‘کی عملی تصویر نظر آتی ہے ۔
جلسے جلوسوں کی روایت برقرار ہے مگر ان سیاسی پیغامات اور الیکشن کمپین کو جس چیز نے سونے پہ سہاگہ والا کام کیا ہے وہ ہے سوشل میڈیا ،جس کا استعمال گھر وں کے پرسکون لان نے میں بیٹھ کر کارکنان کھلے دل سے کرتے ہیں ، اس استعمال میں سبقت جس سیاسی جماعت کو حاصل ہے وہ ہے پی ٹی آئی ، جس کے کارکن اپنے مزاج کے مطابق جو شہر دل پہ گزرتی ہے کا کھلم کھلا اظہار کر ڈالاتے ہیں ، ان کے کپتان بھی کبھی کبھار کچھ سفارشات پر نظر کرم کر ڈالتے ہیں ۔پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر’’ اعتراض ‘‘بھی سوشل میڈیا ہی کے پلیٹ فارم کے ذریعے نظر آیا تھا جس پر پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا نام بدل دیا گیا تھا ۔
نوجوان طبقہ اور خواتین کو پارٹی ٹکٹ کے ساتھ سیاسی میدان میں ہر ممکن تعاون کے یقین کو عملی جامہ پہنانا ہر دو رمیں ایک مشکل عمل رہا ہے ، خواتین کی تعداد کچھ مخصوص نشستوں تک ہے اور آبادی میں تقریباً نصف کی تعداد رکھنے والا نوجوان طبقہ بھی سیاسی پارٹیوں کی بے رُخی کا شکار نظرآتا ہے ، اس معاملہ میں پی ٹی آئی کی آزمائش کو دور ہے کہ آیا وہ نوجوانوں کو ان کے آبادی میں نصف تناسب کے حساب سے ٹکٹ جاری کر پاتی ہے یا نہیں ، باقی سیاسی پارٹیوں کے لیے راوی اس معاملہ میں چین چین ہی لکھتا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے مختلف رنگوں سے مزین جھنڈوں کے کلچر بھی تبدیلی آگئی ہے ، پہلے یہ جھنڈے گھروں کی چھتوں پر شان وشوکت سے لہرائے جاتے تھے ، اب صر ف یہ جھنڈے جلسے جلسے ، جلوس جلوس تک محدود ہیں ، ماضی میں سائیکل والے انتخابی نشان والی جماعت نے اس دو پہیوں والی گاڑی کو گھر کی چھت پر لٹکا کر سیاسی روایات کی نئی تاریخ رقم کر ڈالی تھی یعنی جسے ہو غرور آئے کرے شکار مجھے ،اس کے علاوہ پلاسٹک سے بنے ہوئے شیر بھی سیاسی میدانوں کی زینت بنتے ہوئے نظر آتے ہیں ،ایک مشہور سیاسی پتنگ جس کی بلندی میں کسی حبس بے جاکے موسم میں بھی کمی واقع نہیں ہوتی تھی ، سیاسی پیچہ میں ’’کٹ ‘‘چکی ہے ، البتہ بلے کا زور صرف میدانوں میں ہی نہیں تنگ وتاریک گلیوں میں بھی خوب چل رہا ہے ۔
مخالفین کو ’’راہ راست ‘‘ پر لانے کے لیے انتظامیہ کا استعمال گھر کی لونڈی سمجھ کر کیا جاتا ہے اس معاملہ میں ’’دیدہ ورطبقہ‘‘بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا یہ روایت آج بھی جاری وساری ہے ، افسوس یہ کہ سیاسی ثقافتی تاریخ میں ’نظریہ ‘نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ،موجودہ دور من پسند کنٹرول کی ہوئی جمہوریت کا دور ہے ۔