Buy website traffic cheap

شیخ المشائخ

سیرت۔۔۔سیدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ

سیرت۔۔۔سیدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ
صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال تونسوی
رحمتِ عالم ﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ ہی وہ عظیم شخصیات ہیں جنہوں نے حضور اقدس ﷺ سے براۂ راست نورانی فیض حاصل کرتے ہوئے وما علینا اللبلاغ المبین کے مصداق اپنا فرض سمجھ کر پوری ذمہ داری کے ساتھ دینِ اسلام کی عظیم نعمت ہم تک پہنچائی اور ’’ خوش قسمتی ‘‘کا وہ عظیم تمغہ سے نوازا کہ جس کی خواہش انبیاء کرامؑ نے بھی کی کہ اے اللہ ہمیں آپ ﷺ کی امت میں شامل فرما ۔
خلفائے راشدین کا دور اس قدر روشن تھا کہ جس کی مثال نہ تو اسلام سے قبل ملتی ہے اور نہ ہی قیامت تک کوئی مثال دے سکے گا، زندگی کا کوئی ایسا گوشہ اور پہلو نہیں کہ جس کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں ہدایات سے نہ نوازا گیا ہو ۔
۱۳ ہجری میں یارِ غار سیدنا حضر ت صدیق اکبرؓ نے وصال فرمایا تو حضرت عمر فاروقؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ مقرر ہوئے اور مسندِ خلافت سنبھالتے ہی آپؓ نے مسجدِ نبوی شریف میں خطبہ ارشاد فرمایا ’’ اللہ رب العزت نے میرے رفقاء کو مجھ سے جدا کر کے ،مجھے باقی چھوڑ کر میرے ساتھ تمہیں اور تمہارے ساتھ مجھے امتحان میں ڈال دیا ہے ،اللہ کی قسم! میں تمہاری ہر مشکل کو حل کروں گا اور دیانت و امانت کو کسی صورت بھی ہاتھ سے نہ جانے دوں گا، تمہارا ہر آدمی میرے نزدیک اُس وقت تک کمزور ہے جب تک میں اُس سے حق نہ وصو ل کر لوں ،
اے اللہ ! میں سخت ہوں مجھے نرم بنا ، کمزور ہوں قوت عطا فرما،بخیل ہوں سخی بنا۔‘‘ (طبقات) ج ۳ص ۷۳)
سیدنا حضرت عمر فاروق ؓ کی شان و عظمت کی ایک جھلک دیکھئے کہ جب رسولِ عربی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کی بے بسی اور لاچاری اور شہرِ مکہ میں بسنے والے لوگوں کی بے حسی دیکھ کر قدرے رنجیدہ ہوئے تو بارگاہِ خدا وندِ قدوس میں عرض کی کہ ’’ یا میرے اللہ ! دینِ اسلام کو عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے تقویت عطا فرما اور ان دونوں میں سے جو بھی تجھے محبوب ہو ، اُسے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت نصیب فرما ۔‘‘
اب دیکھئے کہ سید حضرت عمر فاروق ؓ کس شان سے مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں ، ابو جہل کے جوش دلانے اور بھڑکانے پر عمر بن خطاب،حضور سیدِ عالم ﷺ کو (نعوذ بااللہ) قتل کرنے کی نیت سے گھر سے نکلے تھے کہ راستے میں کسی نے اُنہیں اطلاع دی کہ تمہارے بہنوئی اور بہن اسلام قبول کر چکے ہیں ، یہ سُن کر آگ بگولا ہوئے اور سیدھے اپنی بہن کے ہاں پہنچے اور وہاں دونوں کو خوب مارا پیٹا اور اسلام چھوڑنے کے لئے کہا مگر وہ نہ مانے ،عمر بن خطاب جب اُن کو مار مار کر تھک ہار گئے اور غصہ قدرے ٹھنڈا ہوگیا تو بہن اور بہنوئی سے فرمائش کرتے ہیں کہ وہ اُنہیں قرآن پاک پڑھ کر سنائیں،انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت شروع ہی کی تھی کہ اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اُن کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ پھر سیدھے گردن جھکائے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ حضرت عمرِ فاروق ؓ مسلمان ہوئے تو مرد مسلمانوں کی تعداد 40ہوگئی، جبکہ 11عورتیں آپؓ سے قبل دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی تھیں ، آپؓ کی اُس وقت عمر مبارک 33سال تھی اور نبوت کا چھٹا سال تھا ۔
آپؓ کے اسلام لانے کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمر بن خطابؓ کا اسلام لانا ہماری کامیابی تھی ، اُن کی ہجرت ہماری نصرت اور اُن کی خلافت ہمارے لئے باعثِ رحمت تھی ، جب تک حضرت عمر فاروق ؓ اسلام نہیں لائے تھے ہم کعبہ شریف میں نماز پڑھنے سے قاصر تھے ،لیکن جب وہ اسلام لائے تو قریش سے لڑ بھڑ کر ہمارا حق تسلیم کرا لیا گیا کہ ہم بھی کعبہ شریف میں نماز ادا کر سکتے ہیں ۔‘‘
جب آپ اسلام لائے تھے تو پہلے سیدھے کعبہ شریف گئے اور بلند آہنگی سے ساکنانِ شہر مکہ کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا ۔’’ جو کوئی اپنی ماں کو ماتم گسار ، اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنانا چاہتا ہے تو وہ آئے اور ہمیں اللہ رب العزت کے گھر میں خدا ئے واحد کی عبادت سے روکے۔‘‘
بس حضرت عمر فاروق ؓ کا اسلام قبول کرنا تھا کہ مسلمانوں کے حالات دنو ں میں بدلنے لگے اور اُن میں خود اعتمادی کی قوت نے جنم لیا اور پھر وہ کھل کر دوسروں کو دین اسلام کی دعوت دینے لگے پھر کیا تھا کہ ہر صبح کو طلوع ہونے والے سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی نورانی شعائیں ،اشاعت اسلام کا پیغام ثابت ہوئیں ، یہی وہ موقع تھا کہ جس پر حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ ربِ قدوس نے عمر ؓ کی زبان اور اُن کے دل کو حق سے سرفراز فرمایا اور وہ ’’ فاروق ‘‘ ہیں ، جن کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان تفریق کی گئی ۔‘‘
حضور سرورِ کائنات ﷺ نے حضرت عمرِ فاروق کے بارے میں متعدد بار مختلف مقامات پر ارشادات فرمائے ، ایک جگہ آپ ؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ شیطان عمرؓ کے سائے سے بھی دور بھاگتا ہے ۔‘‘
پھر ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمرؓ ہوتالیکن میرے بعد بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
ایک اور موقع پر آپ ؐ یوں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ خدا وندِ قدوس (بعض اوقات ) عمرؓ کی زبان سے بولتا ہے۔‘‘
فاروق اعظم ؓ کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق ؓ فرماتے ہیں کہ ’’ میں اُس شخص سے بیزار ہوں جو حضرت عمر فاروق ؓ کی برائی کرے ۔‘‘
تصوف کے مورثِ اعلیٰ حضرت حسن بصریؓ اپنی مجالس کے اندر اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری محفل پاکیزہ اور خوشگوار ہو جائے تو عمر فاروقؓ کی باتیں کیا کرو ۔‘‘
دعائے رسول ﷺ کا ثمر حضرت عمر فاروقؓ کی شان و عظمت اور دورِ خلافت کی اہمیت کو مسلم مورخین نے ہی نہیں بلکہ غیر مسلم مورخین نے بھی تسلیم کرتے ہوئے شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔ گزشتہ سے پیوستہ عشرہ میں مائیکل ہارٹ کی ایک کتاب The Hundredکو بڑی شہرت نصیب ہوئی جس میں مصنف مائیکل ہارٹ نے تاریخِ انسانی کی 100عظیم شخصیات کہ جنہوں نے مذہب ، تاریخ ، سیاست ، سائنس ، اد ب اور تحقیق کے میدان میں کارنامے سر انجام دئیے ہیں اُن 100عظیم شخصیات میں حضرت عمر فاروقؓ کی خدمات کوبھی درج کیا ہے ۔ کتاب کا مصنف اگرچہ یہودی ہے تاہم اُس نے سب سے پہلے نمبر پر پوری انسانیت کے محسن اور حبیبِ ربِ کریم اور حضرت عمر فاروقؓ کے مربی و مولا حضورِ اقدس ﷺ کا ذکرِ خیر کیا ہے۔
آیئے اب ایک جھلک فاروقِ اعظمؓ کی عجز و انکساری کی دیکھتے ہیں ، خلیفتہ المسلمین و امیر المومنین منتخب ہونے کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ خطاب کے لئے منبر پر تشریف لائے تو اُس سیڑھی پر بیٹھ گئے جس پر یارِ غار سیدنا حضرت صدیقِ اکبرؓ اپنے پاؤں مبارک رکھتے تھے ، صحابہ کرامؓ نے فاروقِ اعظمؓ سے عرض کی ’’ اے امیر المومنین ! اُوپر بیٹھ جائیں ، فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا ۔’’ میرے لئے یہی کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر بیٹھنے کو جگہ مل جائے جہاں سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ اپنے پاؤں مبارک رکھتے تھے ۔‘‘
حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ہر فرد کو تنقید اور طلبِ حقوق کی پوری آزادی دے رکھی تھی۔ایک دفعہ آپؓ تقریرفرمارہے تھے کہ دورانِ تقریرایک شخص نے اُٹھ کر بار ہا کہا :اے عمرؓ!اللہ سے ڈر،لوگوں نے اُسے روکا،توآپؓ نے فرمایا کہ’’اگر یہ لوگ آزادی کیساتھ اپنی بات نہ کہیں تو بے مصرف ہیں اور ہم نہ مانیں،تو ہم بے مصرف ہیں۔‘‘
ایک دفعہ آپؓ نے منبرپر کھڑے ہوکرفرمایا:لوگو!اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں ،تو کیا کرو گے؟یہ سنتے ہی ایک شخص نے اپنی تلوار نیام سے کھینچ لی اور کہا’’تمہارا سر اُڑادوں گا،آپؓ نے بھی اس کی دلیری اور جرأت کو آزمانے کیلئے ڈانٹ کر کہا،تو امیر المومنین کی شان میں گستاخی کرتا ہے،تجھے پتہ نہیں کہ تو کس سے بات کررہا ہے؟اُس شخص نے اسی جرأت وبہادری کیساتھ کہا‘ہاں،ہاں میں تمہاری شان میں گستاخی کرتا ہوں ،اگر آپؓ کتاب وسنت کے مطابق حکومت نہیں کرو گے تو آپؓ کا سر اُڑادوں گا۔یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ’’ربِ قدوس کا شکر ہے کہ اس قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگرمیں ٹیڑھا ہوجاؤں،تو وہ مجھے سیدھا کردیں گے۔‘‘
اسی طرح ایک اور جگہ حضرت عمرؓ جب مسلمانوں سے خطاب کرنے کیلئے اُٹھے تو ایک بدو اُٹھا اور کہا،میں نہ آپؓ کی بات سنتا ہوں اور نہ ہی اطاعت کرتا ہوں،حضرت عمرؓ نے استفسار کیا کہ کیوں؟بدو بولا،یمن سے جو چادریں آئی تھیں ان میں سے صرف ایک ایک چادر سب کے حصے میں آئی تھی۔اور اس چادر سے آپؓ کی قمیص نہیں بن سکتی،مگر آپؓ نے اس چادر کی قمیص زیبِ تن کی ہوئی ہے،یقیناًآپؓ نے اپنے حصہ سے زائد کپڑا لیاہے،حضرت عمرؓ نے فرمایا‘اس کا جواب میرا بیٹا عبداللہؓ دے گا،یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرؓ اُٹھے اور کہا’’واقعی میرے ابا جان کی قمیص ایک چادر میں نہ بنتی تھی(کیونکہ آپؓ خاصے قد آور تھے)میں نے اپنے حصے کی چادر انہیں دے دی تھی،اس طرح ان کی یہ قمیص بنی ہے۔‘‘یہ سن کر بدو پھر اُٹھا اور گویا ہوا،اب میں آپؓ کی بات سنتا ہوں اور اطاعت کرتا ہوں۔
حالات معمول پر ہونے کے باوجود آپؓ مدینہ شریف اور اس کے اطراف میں گھوم پھرکر لوگوں کے حالات معلوم کیا کرتے تھے ایک مرتبہ رات کو گشت کرتے ہوئے مدینہ شریف سے تقریباََتین میل دور نکل گئے دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور اس کے ارد گرد بیٹھے دوتین بچے رو رہے ہیں،فاروقِ اعظمؓ نے بچوں کے رونے کا سبب پوچھا تو عورت نے بتایا کہ کئی دنوں سے بچے بھوکے ہیں گھر میں کچھ پکانے کیلئے نہیں ہے ان کو بہلانے کیلئے کنکریوں سے بھری ہنڈیا آگ پہ چڑھادی ہے،یہ سن کر آپؓ رنجیدہ ہوئے اور اسی وقت مدینہ شریف واپس تشریف لائے اور بیت المال سے آٹا،گھی،گوشت اور کھجوریں لیں اور اپنے غلام اسلم سے کہا کہ اس سامان کو میری پیٹھ پر لاد دو،اسلم نے عرض کی یہ میں اُٹھا کر لیے چلتا ہوں،آپؓ نے فرمایا:روزِ قیامت میرا یہ بارکیا تم اُٹھاؤ گے؟سامان خود اُٹھا کر اس عورت کے پاس لے گئے اور جب تک اس عورت نے کھانا تیار کرکے بچوں کا کھلانہیں دیا وہیں تشریف فرمارہے،عورت اس حسن سلوک سے بہت متاثر ہوئی اور کہا کہ امیر المومنین ہونے کے قابل صرف تم ہی ہو،عمرؓ نہیں۔‘‘
اس عورت کو کیا خبر تھی کہ یہی تو وہ عمرؓ ہے کہ جو دریائے نیل پہ اگر کتا بھی بھوکا مرجائے تو اس کی ذمہ داری بھی اپنے سر لیتا ہے۔
حاکمِ وقت امیر المومنین حضرت عمرؓ کی ذرا مفلوک الحالی دیکھیے ۔حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ’’میں نے عمر ابن خطابؓ کے لباس میں اکتیس پیوند چمڑے کے اور ایک پیوند کپڑے کا دیکھا ہے۔‘‘
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ’’میں نے حضرت عمرؓ کی قمیص میں،ان کے مونڈھوں کے درمیان چار پیوند دیکھے ہیں۔‘‘اسی اطرح ایک اور روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ’’میں ایک دن حضرت عمرؓ کے پاس گیا آپؓ گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے میں بھی ساتھ ہو لیا،گدھے کے گلے میں سادہ رسی بندھی ہوئی تھی،حضرت عمرؓ ایک قمیص اور ایک تہبند زیبِ تن کیے ہوئے تھے،تہبند کا یہ عالم تھا کہ وہ پنڈلیوں سے اوپر جارہا تھا میں اسے ایک طرف سے ٹھیک کرتا تو وہ دوسری طرف اوپر چلا جاتا،یہ دیکھ کر آپؓ مسکرائے اور فرمایا،اسے چھوڑ دو،یہ تمہاری بات ماننے والا نہیں۔‘‘
کبھی کبھار ایسا بھی ہوجاتا کہ آپؓ اپنے وقتِ مقررہ پربھی اپنے گھر سے باہر تشریف نہ لاسکتے تھے ایک مرتبہ کسی اس کی وجہ دریافت کی تو فاروقِ اعظمؓ فرمانے لگے’’مقررہ وقت پر نہ نکلنے کی وجہ یا ذمہ دار میرا یہ واحد جوڑا(لباس)ہے جسے میں دھوکر ڈالتا ہوں تو یہ سوکھنے میں دیر لگا دیتا ہے۔‘‘
سیدنا فاروقِ اعظمؓ کا دورِ خلافت بالخصوص عدل وانصاف اور احتساب کے حوالہ سے بے نظیر وبے مثال اور بڑامعروف ٹھہرا ہے آپؓ فرماتے تھے کہ’’اپنا محاسبہ کرو،قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے،کیونکہ تمہارا اپنا کیا ہوا محاسبہ تمہارے اپنے حساب وکتاب کو روزِ محشر آسان کردے گا۔پھر فرمایا کہ ’’اپنا وزن کرتے رہو،قبل اس کے کہ تمہارے لیے میزان کھڑی کی جائے،اپنے آپ کو بڑی عدالت کی پیشی کیلئے تیار رکھوجس دن تمہاری کوئی بات بھی چھپی نہ رہے گی۔‘‘
آپؓ کے دور میں حضرت ابو ہریرہؓ کو بحرین کا گورنر مقرر کیا گیا،جب حضرت ابو ہریرہؓ بحرین جانے لگے تو دس ہزار دینار بھی ساتھ لے لیے،حضرت عمرؓ نے فوراََ اس کا مواخذہ کیا اور پوچھا کہ یہ اتنا مال کہاں سے آیا؟اس کا حساب پیش کیا جائے،حضرت ابو ہریرہؓ نے جواباََفرمایا’’میں نے کچھ گھوڑیاں پال رکھی تھیں جس سے آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ان کا عذر معقول تھا اس لیے قبول کیاگیا۔حضرت عمرؓ نے بحرین جانے کو کہا تو حضرت ابوہریرہؓ نے معذوری کا اظہار کیا اور عرض کی،یہ ذمہ داری بہت سخت ہے اگر اس میں دانستہ بھی کوئی بات خلافِ عدل وقانون ہو گئی تو آپؓ کے مواخذہ سے نہیں بچ سکوں گا۔‘‘
جب آپؓ کوئی گورنر یا عمال مقرر کرتے تو اس کیلئے ایک پروانہ لکھ کر دیتے جس پر ہدایات درج ہوتیں کہ’’باریک کپڑا زیب تن نہ کرنا،چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا،اپنے دروازے عوام کیلئے کھلے رکھنا بند نہ کرنا،کوئی دربان نہ رکھناتاکہ جس وقت بھی کوئی سائل تمہارے پاس آنا چاہے بلا روک ٹوک آجا سکے،بیماروں کی عیادت اور جنازوں میں شرکت کرنا،کبھی کسی بے قصور کو نہ مارناکہ وہ ذلیل ہوجائے اور نہ کسی کی خوشامد کرنا کہ وہ مچل جائے،ترکی النسل گھوڑے پر سوار نہ ہوناکیونکہ اس میں رعونت ونخوت پائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔‘‘
اسی طرح ایک اور موقع پر آپؓ نے گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’یاد رکھو!رعایا اس وقت تک حاکم کی پیروی کرتی ہے جب تک وہ اللہ رب العزت کی اطاعت کرتا ہے،جب وہ احکامِ ربِ قدوس سے روگردانی کرتا ہے یا سرکشی اختیار کرتا ہے تو رعایا بھی اس کے احکام سے سرکشی اختیار کرتی ہے ،جب وہ فسق وفجور کرتا ہے تو رعایا بھی اس سے بڑھ کر فاسق وفاجر ہوجاتی ہے۔‘‘
حکومت تو بندگانِ خدا کی بے لوث خدمت اور خدائے واحد کی رضا حاصل کرنے کا نام ہے،مگر جب اس میں طوالتِ اقتدارکی خواہش اور ذاتیات کو فائدہ پہنچانے اور دیگر لوازمات شامل ہوجائیں تو پھر وہ ’’آمریت‘‘کی شکل اختیار کرجاتی ہے۔
حضرت فاروقِ اعظمؓ نے جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو سپہ سلاری سے معزول کیا تو آپؓ نے چین وچراں کیے بغیر فاروقِ اعظمؓ کے حکم کو من وعن تسلیم کیا،کیونکہ ان کا مقصود صرف اور صرف رضائے الہٰی تھا نہ کہ طلبِ عہدہ واقتدار۔
فاروقِ اعظمؓ کا دورِ خلافت۔۔۔مسلمانوں کی فتوحات،ترقی اور عروج کا دورِ مبارک تھا،مسلمان اس قدر خوش حال ہوگئے تھے کہ لوگ زکوٰۃ لے کر نکلتے تھے اور انہیں زکوٰۃ لینے والے نہ ملتے تھے۔آپؓ کے کار ہائے نمایاں میں تقریباََ3600علاقے فتح ہوئے،900سے قریب جامع اور چار ہزار عام مساجد تعمیر ہوئیں۔بیت المال قائم کیا گیا،عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے،حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور میں فوج کا کوئی باقائدہ محکمہ قائم نہیں ہوا تھا لیکن آپؓ نے 15ہجری میں ولید بن ہشام کے مشورہ سے ایک مستقل اور منظم صیغہء فوج قائم کیا اور ان کی تنخواہیں مقرر کیں،پولیس کا محکمہ قائم کیا،مردم شماری کرائی اور نہریں کھدوائیں،مکہ سے مدینہ شریف تک مسافروں کیلئے سرائیں تعمیر کروائیں،مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کی بھی تنخواہیں مقرر کیں،مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا،ممالک مفتوحہ کو صوبوں میں تقسیم کیا،مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کیلئے روزینے مقرر کیے،پیداوار پر محصلول لگایا اور محاصل مقرر کیے،اور حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی عام اجازت دی،مکاتب ومدارس کا آغاز کیا ،اس کے علاوہ بھی آپؓ نے عوام الناس کی خدمت اور فلاح کیلئے بہت سے احکامات اور اصلاحات جاری کیں،اگر تفصیل میں جائیں توایک نہیں بے شمار صفحات درکار ہیں ۔
۲۶ ذی الحج ۲۳ ہجری کا دن تھا کہ مرادِ نبوت خلیفہء ثانی سیدنا حضرت عمرفاروقؓ سورج طلوع ہونے سے پہلے لوگوں کو نماز پڑھانے کی غرض سے کاشانہء خلافت سے نکل کر مسجد پہنچے ،ادھر کمبخت لعین ابولولودیوار کی اوٹ میں چھپ کر آپؓ کے آنے کا انتظار کررہا تھا جونہی آپؓ اس کے قریب پہنچے تو اس کمبخت نے آپؓ پر زہر آلود خنجر سے پے درپے وار کئے جس سے آپؓ شدید زخمی ہوگئے اور بالآخر یکم محرم الحرام ۲۴ ہجری کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے ۔
آخر میں ہم حکومتِ پاکستان سے مطالبہ اور گزارش کریں گے کہ خلفائے راشدین کے یومِ شہادت اور وصال کو ہرسال سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے اوران کے کارہائے عظیم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے تقریبات کاخصوصی اہتمام کیا جائے ۔اگر ہم دیگر اکابرین ملت کے یومِ پیدائش اوروفات کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کرسکتے ہیں ۔تو پھر کیا وجہ ہے؟کہ ہم دین اسلام کے’’روشن ستاروں‘‘کے یوم شہادت کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام نہیں کرتے۔حالانکہ ہم تو انہی عظیم ہستیوں کے وجودِ مسعود کی برکت ہی سے دین اسلام کے زیور سے آراستہ ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خلفائے راشدین اور صحابہء کرامؓ کی دین اسلام کی خاطر دی ہوئی قربانیوں کی قدر کرتے ہوئے اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق وہمت عطا فرمائے،محبتِ رسول کی عظیم سوغات سے سرفراز فرمائے اور یہ کہ شیطان کے شرسے بچاتے ہوئے ہمارے ایمان کی سلامتی فرمائے ۔آمین۔۔۔یاحی یاقیوم۔۔۔صلی اللہ تعالی علیہ وآلہٖ وسلم