Buy website traffic cheap

سی پیک

سی پیک کو کسی دشمن سے خطرہ نہیں۔۔۔

سی پیک کو کسی دشمن سے خطرہ نہیں۔۔۔
کالم سرِ دست
شہباز سعیدآسی
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے دعویٰ کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان میں معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے،منصوبوں اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن زیر غور ہیں۔جبکہ مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داﺅدبھی کہتے ہیں کہ فی الحال تمام سی پیک منصوبوں پر ایک سال کے لیے عمل روک دینا چاہیے، ایسے معاہدے از سر نو کیے جائیں گے جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے، پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال بھی کہہ چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ”رول بیک“ کرنے کی کوشش کی گئی تو صرف اس کی مخالفت نہیں بلکہ حکومت کا ہاتھ پکڑیں گے۔ بہرحال مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داﺅکابرطانوی اخبار کو سی پیک کے حوالے سے انٹرویو نے ایک بارپھرملک میں سیاسی ہلچل شروع کرا دی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ چین نے اس وقت پاکستان میں سرمایہ لگایا جب کوئی بھی ملک پاکستان میں 10 روپے کی سرمایہ کاری کرنا نہیں چاہتا تھا، اس منصوبے نے پاکستانی معیشت کو سنبھالا دیا۔لیکن ایک جانب تاجرحضرات بھی شکوہ کرتے نظر آتے تھے کہ چینی سرمایہ داروں کو ملک میں زیادہ رعائیتیں دی جا ری ہیں۔ کچھ حلقوں کا توخیال تھا کہ چین سی پیک کی سرمایہ داری کی آڑ میں پاکستان سے تجارتی فوائد حاصل کر رہا ہے اور ملک میں چینی برآمدات کی بہتات ہوگئی ہے۔ پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ نو بلین ڈالرز سے بھی تجاوز کر چکاہے۔ لیکن کئی ناقدین کے خیال میں یہ اہم مسائل نہیں ،اور ان کی نظر میں سی پیک کی وجہ سے ملک کو فائد ہ ہو گا۔گزشتہ دور حکومت میں سی پیک پر تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ہی صفحے پر تھے۔اور سی پیک کی وجہ سے ترکی سمیت دوسرے ممالک بھی سرمایہ کاری کے لئے آنا شروع ہو گئے تھے۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ سی پیک پر میرے انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کئے گئے۔ چین کے وزیر خارجہ کے دور ے میں اسٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ہوا، سی پیک منصوبوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا گیاتھا۔چینی سفارت خانے نے بھی سی پیک سے متعلق فنانشل ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں بھی کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے ہے کہ یہ پراجیکٹ دونوں ممالک کے لیے سودمند ہے اور دونوں حکومتیں اس کو پاکستان کی ضروریات کے مطابق اور ترقی کے لیے آگے لے کر بڑھیں گی۔
دلچسپ بات ہے کہ موجودہ حکومت بھی مسلم لیگ نواز کی حکومت کی طرح سی پیک کو گیم چینجر قرار دیتی ہے اور نئی معاشی ترجیحات پر کام کرنے کا اعلان کرنے کے باوجود ملکی معیشت اور سیاست کے لیے سب سے اہم سی پیک منصوبے پر نظرثانی کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ اس کے برعکس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد کا دورہ کرنے والے چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی کو یقین دلایا ہے کہ سی پیک ملک کی نئی حکومت کی بھی اولین ترجیح ہے۔اس کی بنیادی وجہ تحریک انصاف کے ماہرین کا معاشی یا سیاسی تجزیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کی طرح اس منصوبہ کو ملکی معیشت کے لیے لازم و ملزوم سمجھنے پر مجبور ہے۔پاک فوج کے موجودہ اور سابقہ سربراہ متعدد بار اعلان کرچکے ہیں کہ سی پیک منصوبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے پر میرٹ کی بنیاد پر مباحث کی حوصلہ افزائی نہیں ہو سکی۔ نہ ہی یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ سے دوری اور دیگر معاشی مجبوریوں کی وجہ سے پاکستان اگرچہ سی پیک سے استفادہ کرسکتا ہے لیکن اس منصوبے کے حوالے سے چین کو حتمی اختیار دینا بھی کسی طرح قومی مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ چین کو پاکستان سے بھی زیادہ سی پیک مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر اس کا ون روڈ ون بیلٹ کا منصوبہ تشنہ تکمیل رہے گا۔ چین اور پاکستان نے گزشتہ روز دونوں ملکوں کے مشترکہ دوستوں کو بھی ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے پر اتفاق کر کے شکوک و شبہات کا دروازہ بند کرنے کی مو¿ثر کوشش کی ہے۔
بہرحال سی پیک کا منصوبہ قومی منصوبہ ہے اور اسے متنازع کرنا مستقبل سے کھیلنے کی بات ہے۔ سی پیک کے متنازع ہونے سے دونوں ممالک کونقصان ہوگا، حکومت منصوبے کو متنازع بنانے والی کالی بھیڑوں کوتلاش کرے، سی پیک معاملے پر وزراءسوچ سمجھ کربیان دیں۔اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق الزامات لگانا درست نہیں ،حکومت وقت کو چاہیئے کہ سی پیک کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن بنائے۔اورحکومت سی پیک کے معاملے پر عوام کو اعتماد میں لے اور منصوبے کو روکنے سے متعلق افواہوں پھیلاکر قوم کو گمراہ کرنے والے عناصر کا قلہ کما کرے۔