Buy website traffic cheap


شاعرِ موٹروے،ہیلتھ ایجوکیشن کا اور ماحولیات کا شاعر،شاعر مزدور

رب جیہڑے دسے نے خزانے قرآن وچ
ہک ہک چیز اے ساڈے پاکستان وچ

ترتیب و اضافہ: حسیب اعجاز عاشرؔ
بڑی محافل میں بڑے شاعروں کی سنائی جانے والی شاعری ضروری بھی نہیں کہ بڑی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اِن محافل کی چکا چوند سے دور کہیں دورگوشہ نشین شاعر کی شاعری کسی بھی معیار سے کم ہو۔مگر سوشل میڈیا کے اِس دور میں اب وہ وقت نہیں رہا کہ کوئی بھی ہنرمند، فنکار،شاعرنظروں سے اوجھل رہے ،ہاں۔تقسیم در تقسیم ہوتے ادبی حلقوں کے باعث اُس کو وہ مقام نہیں مل رہا جس کا وہ حقدار ہے وہ ایک الگ بات ہے ۔
مشاعروں، نشستوں، ادبی محافل کے مرکز شہرلاہور سے کہیں دور چکوال میں بسے فوجی سپاہی کا مزدور شاعر بیٹا’’محمد جاوید اقبال‘‘ نے اپنی ایک الگ ہی دنیا بسائی ہوئی ہے ۔ جہاں اُن کے کلام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔اِن کی تخلیقی صلاحیتوں سے کسے انکار ہے ،اِن کے کلام میں جدیدیت،انفرادیت، احساسیت،سادگی اور منفرد لب و لہجہ دیگر میں ممتاز کرتے ہیں ، پاکستان کے بڑے شہروں میں منعقد ہونے والے بڑے مشاعروں میں انہیں شاید اس لئے کسی حد تک نظرانداز کر دیا جاتا ہے کہ یہ کسی لابی سے منسلک نہیں ۔ مگر ’’معیار‘‘بولتا ہے۔عطاء الحق قاسمی، امجدالسلام امجد، انعام جاویدجیسی بڑی نامورادبی شخصیات نے اِنکے کلام سنُا تو خوب سراہا ۔۔
محمد جاوید اقبا ل اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی جس کا عکس ان کی شاعری میں باخوبی چھلکتا ہے ۔ جس زندہ دلی اور خوش طبعی سے جاوید کا شعری آہنگ شوخی و ظرافت کے لہجہ میں تشکیل ہوتا ہے وہ لائقِ داد ہ وتحسین ہے ۔ جاوید اقبال کا تعلق کو ڈنڈوت سے ہے۔ابتدائی تعلیم ناکس بلوچستان،پیل ضلع خوشاب اور ڈنڈوت کے سکول سے حاصل کر کے حیدرآباد میں زیل پاک ماڈل سکول سے میٹرک کیا جبکہ دینی تعلیم عبدالعلیم ندوی سے حاصل کی ۔بعدازاں نیشنل سمینٹ (ڈالمیاں،کراچی) میں ملازمت اختیار کی اور 1988میں ڈنڈوت سیمنٹ میں تبادلہ کرا کے آبائی علاقے میں رہائش پذیر ہوئے۔
آپ کی تصانیف میں شعری مجموعہ’’خوشحال پاکستان‘‘ 2004میں شائع ہوا جس سے آپ کو شاعروں اور ادیبوں نے ’’شاعرِ موٹروے‘‘کا خطاب عطا کیا گیا۔جس مشاعرہ میں اس خطاب سے نوازا گیا اس کی صدارت ممتاز دانشور سرمدصبہائی کر رہے تھے جبکہ بخاری سے پہلے حفاظتی تدابیر پر شاعری کر کے پاکستان بھر میں پہلے شاعر ہونے کا اعزاز حاصل کیا جس کے اعتراف میں آپ کو ’’ہیلتھ ایجوکیشن کا اور ماحولیات کا شاعر‘‘قرار دیاگیا اور پاکستان کی مزدور تنظیموں کی طرف سے ’’شاعر مزدور‘‘ کا سہرا بھی آپ کے سر سجا، ’’اوزون‘‘ کی حفاظت پر پہلی منظوم تحریر لکھ کر آپ نے پاکستان میں لیکچر دیا جس کو بہت زیادہ پسند کیا گیا ۔ 2001میں کراچی عالمی مشاعرے دبستان لوح و قلم میں پنجاب کی نمائندگی کی
آپ کی نظمیں ’’اچھے بچے، غصہ، تعلیم، اور چکوال نامہ‘‘سکول کے نوٹس بک کے کور پر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہیں ۔ آپ چکوال کی ادبی تنظیم بزم ادبیات پاکستان کے پلیٹ فارم سے شاعری چوآسیدنشاہ پریس کلب، چکوال فورم سے صحافت اور کالم نگاری ’وچلی گل’‘کے نام سے کر رہے ہیں ۔ آپ کی کتاب ’’خوشحال پاکستان‘‘پر اب تک ساٹھ تبصرے لکھے جاچکے ہیں ۔ حال ہی میں ڈی سی او جناب جاوید محمود بھٹی صاحب کی طرف سے کمیونٹی سنٹر چکوال میں کل پاکستان مشاعرہ میں جناب امجد اسلام امجد، انعام جاوید اور دیگر تمام شرکاء نے بہت پذیرائی بخشی
آپ کی علاقہ کی خدمات کے اعتراف میں ممتاز نعت خوان عبدالرزاق جامی آف بھرپور کے اظہار خواہش پر راجہ راشد اقبال نے آپ کو عمرہ کرایا جبکہ بطور شاعر متعارف کرانے میں راجہ مجاہد افسر، سید فاروق شاہ ، خواجہ بابر سلیم، شاہد لطیف، سجاول رانجھا اور دیگر دووستوں نے بھرپور مدد کی۔۔آپ کا منتخب کلام قارئین کے ذوق کیلئے شیئر کیا جا رہا ہے ۔ (بشکریہ: سخن ورانِ چکوال)
رب جیہڑے دسے نے خزانے قرآن وچ
ہک ہک چیز اے ساڈے پاکستان وچ
کیوں اَسیں پچھاں واں دنیا جہان وچ
اجے ساڈا ایکا نئیں، کچے آں ایمان وچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلالی سبز پرچم جو شہیدوں کی امانت ہے
قیامت کو یہ بولے گا کہ کس نے کی خیانت ہے
شہیدوں سے خیانت پر خدا کب معاف کرتا ہ ے
جہنم در جہنم دے کے جب انصاف کرتا ہے