Buy website traffic cheap

شورش زنجیر

شورش زنجیر!بسم اللہ

شورش زنجیر!بسم اللہ
ڈاکٹر عثمان غنی
خوف کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوا کرتا اور یقیناًکنارو ں سے بپھرتا ہوا جنون بھی ، ان دو سو غاتوں سے کیوں چھٹکارا پانے کی کوشش نہیں کی جاتی ،ہاں مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں ظلم کے خلاف ہونے والی مزاحمت کو شہدائے کربلا کافیض حاصل ہے ، فیض نور ہے اور نور کو زوال نہیں ۔
فیض صاحب نے لاہور جیل میں ’’شورش زنجیر بسم اللہ‘‘ کا علم بلند کر ڈالا تھا ،جو مقبوضہ کشمیرمیں بپا ظلم وستم کے حالات کی کیا غضب کی منظر کشی کرتا ہے ، وہ لکھتے ہیں
ہوئی پھر امتحان عشق کی تدبیر بسم اللہ
ہر اک جانب مچا کہرام دار وگیر بسم اللہ
گلی کوچوں میں بکھری شورش زنجیر بسم اللہ
درزنداں پہ بلوائے گئے پھر سے جنوں والے
دریدہ دامنوں والے ، پریشاں گیسوؤں والے
جہاں میں درد دل کی پھر ہوئی توقیر بسم اللہ
ہوئی ہے پھر امتحان عشق کی تدبیر بسم اللہ
گنو سب داغ دل کے ، حسرتیں شوقیں نگاہوں کی
سر دربار پرستش ہورہی ہے پھر گناہوں کی
کرو یاروں شمار نالہ شب گیر بسم اللہ
ستم کی داستاں ، کشتہ دلوں کا ماجرا کہیے
جو زیر لب نہ کہتے تھے ، وہ سب کچھ بر ملا کہیے
مصر ہے مستحب راز شہیدان وفا کہیے
لگی ہے حرف ناگفتہ پر اب تعزیر بسم اللہ
سر مقتل چلوبے زحمت تقصیر بسم اللہ
ہوئی پھر امتحان عشق کی تدبیر بسم اللہ
پانچ برس ہونے کوآئے جب اطلاع ملی کہ ایک غیر سیاسی ونجی تنظیم ، سی پی ڈی آر ، خطہ آزادکشمیر میں نوجوان نسل کو شعور وآگاہی کا ساماں مہیا کر رہی ہے ، یہاں سے نمو پانے والی کرنوں نے یقیناًایک خطہ کو روشن کرنا تھا ، جس میں پالیسی سازی ، فیصلہ سازی کے شعور سے آگاہی ، اس خطہ کی قانونی وسیاسی پیچیدگیاں ومسائل سیجانکاری ، ذمہ دار شہری کے فرائض اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت تجاویز کی کوشش سمیت حالات حاضرہ کے دیگر امور پر نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر ٹریننگ کا آغاز کیا گیا، اس خطہ کے لیے یہ اہم پیش رفت تھی جس کا کریڈٹ اس تنظیم کے منتظمین کو جاتا ہے اس کے علاوہ پڑھے لکھے نوجوانوں کو حکومتی اراکین کے تلخ وشیریں سوالات کے ساتھ رو برو پیش کرد ینا کوئی معمولی بات نہیں تھی ، معاشرتی ناانصافیوں کی وجہ سے نوجوان طبقہ میں ناراضی و غصے کا عنصر نمایاں رہتا ہے جو ایک فطری بات ہے حکومتیں میرٹ اور انصاف کی بحالی کو یقینی نہیں بنا پاتیں جس وجہ سے نوجوان طبقہ مایوسی تک کا شکار ہوجاتا ہے ، بہر حال آج کے حالا ت میں نوجوا ن نسل کے لیے ’’سامنے بیٹھا تھا میرے ‘‘والی کیفیت پیدا کرنا یقیناًایک مشکل کام ہے ، اس تنظیم نے جس سہولت اور آسانی سے نوجوانوں کی ذہنی آبیاری کی ، یہ سب قومی خدمت کے زمرے میں آئے گا ، تربیت وشعور کا یہ سارا انتظام وانصرام اگر ہوٹلوں کی یخ بستہ اور پرسکون آب وہواکی بجائیتعلیمی اداروں کے وسیع دالانوں میں منتقل کردیا جائے تویقینی طور پر نیک شگونی کا باعث بنے گا ۔
بنیادی نکتہ ان تربیتی پروگراموں کا یہ تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثبت تجویز اور آزادحکومت کے مسائل سے کیسے چھٹکارا ممکن ہے اس پر بحث کی جائے ، اس مباحثہ سے نوجوان نسل مسئلہ کشمیر کی تاریخ سے بھی آگاہ ہوئی اور اس کے حل اور بہتری کے لیے مثبت تجاویز اور بہتر پیش رفت کا سامان بھی مہیا ہوا ، نوجوان طبقہ کو پہلی دفعہ آگاہی ہوئی کہ مسئلہ کشمیرکی اصل تاریخ کیا ہے ، دونوں ہمسائے ممالک کا بیانیہ کیا ہے ، آرپار کی قیادت کے رابطے اور ہم آہنگی کتنی ضروری ہے ، عالم اداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجوہات کیا ہیں ، نوجوان طبقہ نے یہ بات محسوس کی کہ اس مسئلہ سے آگاہی کے لیے خشت اول (مسئلہ) کشمیر کی تاریخ کو سٹڈی کرنا اور سٹیک ہولڈرز کے بیانیہ کو سمجھنا پڑے گا ، یوم شہداء سے بلند ہونے والی چنگاری اور معاہدہ امرت سر سے لیکر آج تک کی تاریخ کا سبق کیا ہے ، اس کو سامنے رکھنا پڑے گا، عیاں مگر سب کچھ ہے ا س کی سمجھ بوجھ پر توجہ نہیں دی گئی نوجوان نسل کو دانستہ و غیر دانستہ اس شعور سے دور رکھا گیا ہے ، نصاب کی کتابوں میں اس کے متعلق اصل تاریخ کا کتنا حصہ شامل ہے آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں ، عالمی دنیا میں کشمیریوں کا مضبوط ترین اور حق پر مبنی موقف جس کمزور ی اور لاپرواہی سے پیش کیا گیا اس نوحہ کا کیا کیا جائے ۔
آزادی کو درکار ضروری حالات مثلاً آرپار ویزہ میں آسانیاں ، تجارت ، سیروتفریح ، خوشی وغمی میں شریک ہونے کے مواقعوں کے لیے سنجیدہ کوششوں میں یقیناًعملی طور پر کمی رہی ہے ، عالمی دنیا میں بھی ہم بھرپورآواز نہیں اٹھا سکے اور نوجوان نسل کو آگاہی کا سامان بھی مہیا نہیں کیا جاسکا ، اس سے آگے اور کیا لکھا جائے۔