Buy website traffic cheap

کلین

شہدا کی قربانی قوم کی زندگانی ہے

شہدا کی قربانی قوم کی زندگانی ہے
ظفر نامہ
ظفر اقبال ظفر
موت یوں تو سوگ اور غم کا سماں پیدا کرتی ہے مگر شہادت موت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے خود موت بھی اس زندگی پہ ناز کرتی ہے جس کا خاتمہ شہادت پر ہو۔عام موت سے ذہنوں پر درج ہوتا ہے۔ جانے والا ہمیشہ کے لیے چلا گیا مگر شہادت یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ جانے والا ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ شہادت کی موت ورثا کو روحانی احساس دیتی ہے غم دکھ، صبراور شکر میں بدل جاتا ہے کیونکہ ملک کے لیے جانوں کے نذرانے دینے والے شہادت کے بھی اعلی درجے میں شمار ہوتے ہیں شہید جان دے کر زندہ ہوتا ہے مگر ملک کے لیے جان دینے والے شہید کی جان جاتی ہے تو اس کی قوم ہمیشہ کی زندگی پاتی ہے ۔ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو کبھی فرموش نہیں کرتی بلکہ ان کی یا دکو ہمیشہ زندہ رکھ کر شہادت کا زوق بیدار کرتی ہیں تاکہ جب بھی اس ملک کو ہماری جان کی ضرورت پڑے ہم جوش و جذبے کے ساتھ ملک و قوم کی زندگی کے لیے اپنی زندگی کا نذرانہ پیش کریں ملک و اسلام کے لیے شہادت کا رتبہ پانے والے مجاہد اور ان تمام مجاہدوں کے امام شہادت صحابہ اکرامؓ شہیدوں کی روحانی محفلیں سجائے تا قیامت امت محمدیہﷺ کے شہیدوں کا آخرت کے جہان میں استقبال کرتے ہیں لہو کے بہتے قطروں سے بننے والے پھولوں کا ہار پہنایا جاتا ہے قیامت کے دن شہادت کا انعام پانے والے واحد انسان ہوں گے جو دوبارہ دنیا میں آنے کی خواہش کریں گے کہ کاش ایک زندگی اور مل جائے تو اسے خدا کی راہ میں خدا کے بندوں کے لیے قربان کرنے کا پھر موقع مل جائے تو ہم پھر شہید ہو کر اللہ کے حضور پیش ہوں۔ حضرت سیدنا حمزہؓ جو کہ حضور ﷺ کے چچا تھے جنگ کے زمانے میں ہمیشہ بغیر زرہ کے جنگ میں شامل ہوتے حالانکہ جوانی کے زمانے میں وہ ہمیشہ زرہ پہن کر ہی میدان جنگ میں اترتے تھے ۔لوگوں نے عرض کی کہ اے حضور ﷺ کے چچا آپ اپنی جان کو ہلاکت میں کیوں ڈالتے ہیں؟جب آپؓ جوان تھے اس وقت آپ اپنی حفاطت کیا کرتے تھے آپ جانتے ہیں تلوار یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے مقابل جوان ہے یا بوڈھا۔کہیں ایسا نا ہو کہ آپ کو قتل کر دیا جائے؟تو حضرت سیدنا حمزہؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہونے سے قبل میں موت کو صرف موت ہی سمجھتا تھامگر اب میں شہادت وموت کو ابدی زندگی سمجھتا ہوں مجھے آخرت کے مقابلے میں یہ دنیا کی زندگی حقیر نظر آتی ہے۔ اب میں عالم غیب کا میدان دیکھتا ہوں جس میں خیمہ در خیمہ اللہ عزوجل کے نور کے سپاہی مقیم ہیں۔میں حضور ﷺ کی زات کا شکر گزار ہوں جن کی وجہ سے مجھے عالم غیب کے اسرار نظر آتے ہیں۔ایسے بے شمار حقیقت پر مبنی واقعات ہیں جن میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے شہادت کے ظاہری اور پوشیدہ منظر بیان فرمائے ہیں۔جو ہماری دینی دنیاوی زندگی کے خاتمے کو شہادت کے عمل سے جوڑ کر ہمیشہ کے لیے اللہ کے آخرت کے جہان کی ابتدا بنا دیتے ہیں مجھے فخر ہے کہ میرے اللہ کریم نے دین اسلام کا میرے ملک پاکستان کو حصہ بنایا رسول اللہ ﷺ کے نام مبارک پہ بنا ملک جس میں امت محمدیہ ﷺکی کثیر تعداد بستی ہے جو ملک کے لیے قربانی دیتی ہے تو شمار ہوتا ہے اسلام کے لیے ہی عمل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی زندگی شہادتوں کی بدولت وجود میں آئی ہے یہ ملک رہتی دنیا تک زندہ ہو گیا ہے اور وہ بھی جن کو اللہ نے شہادت کے لیے قبول فرمایا ہے پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے اُن شہدا کو جن کے نام قوم کی زبانوں پر ہیں اور اُن کو بھی جن کو گمنامی کی شہادت ملی۔ عظیم ہیں وہ گمنام شہدا جن کو شہرت نا ملی مگر شہادت ملی اور عظیم ہے وہ صبر جو لاحاصل چیزوں پہ شکر بنتا ہے میرے وطن عزیز کا زرہ زرہ گواہ ہے شہیدوں کی لازوال قربانیوں کا اور یہ زرہ زرہ زمین کا وجود رکھتا ہے اور فخر کرتا ہے کہ یہ اپنے اندر شہیدوں کو دل کی ماند رکھ کر اپنے وجود پہ قوم کو بسائے زندگی کا احساس دیتا ہے آج کا دن چھ ستمبر پاک فوج کی قربانیوں کو سلام پیش کرنے کے حوالے سے رکھا گیا مگر شہدا کی قربانی قوم کی ہر سانس میں یاد بن کر بسی ہوئی ہے وہ قربانیوں کا جہاں تھا جس نے قوم کے لیے آسانیوں کاجہان بسایا ۔وطن عزیز وجود پا چکا ہے اور فوجی جوانوں کی ہمت کو سلام جنہوں نے قربانی شہادت کو اپنی نوکری بنا کر ہمیشہ کے لیے قبول کیا پاک فوج نام ہی قربانی کا ہے وہ چاہے سرحدوں پہ دشمنوں کا سبق سیکھائیں یا ملک کے اندر سسٹم میں چھپے دشمن ہوں ہر طرح سے اس ملک و قوم کی حفاظت کرنا پاک فوج کا حسن عمل ہے اور کیا ہی بات ہے اُن شہیدوں کی جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا وہ شہادت کے ماتھے کا تاج ہیں اور ہر دن ان کوخراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے۔