Buy website traffic cheap

شیخ المشائخ

شیخ المشائخ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ

شیخ المشائخ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ
روشن پہلو
صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال تونسوی
یارانِ طریقت اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وطنِ عزیز پاکستا ن میں سلسلہ چشتیہ کے تین بڑے بزرگوں میں پہلے نمبر پر حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر ؒ ہیں جبکہ دوسرے قبلہ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ (چشتیاں شریف)اور تیسرے نمبر پر غوثِ زماں حضرت خواجہ شاہ محمد سلیمان تونسوی المعروف پیر پٹھان ؒ (تونسہ شریف ) کا اسم شریف چمکتا ہوا نظر آتا ہے ۔ کہ جن کی نگاہِ فیض وکرم سے سلسلہ چشتیہ کو خوب فروغ ملا،اور متلاشیانِ حق فیض پارہے ہیں۔
بلا شبہ ربِ قدوس کے پیارے حبیب ؐ ،صحابہ کرامؓ اور اُس کے بعد یہ اولیاء کرام و بزرگانِ دینؒ کا ہی فیضانِ خاص ہے کہ آج ہم کو قریہ قریہ نگر نگر ’’صدائے عظیم ‘‘ سننے کو ملتی ہے اور دیا سے دیا جلانے کے مصداق ،انہی بزرگانِ دین کے روحانی چراغوں سے روشنی پھوٹتی ہوئی نظر آرہی ہے اور جس کے سبب آج ہم خوش قسمتی سے دائرہ اسلام میں داخل ہیں ۔
خواجگانِ چشت کے عظیم بزرگ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر ؒ کی ولادت باسعادت رمضان شریف کے آغاز میں ملتان شریف کے ایک قصبہ کہوت وال میں ہوئی آپؒ کے والدِ محترم کا اسمِ گرامی کمال الدین ؒ تھا ،جن کا تعلق کابل کے ایک شاہی خاندان سے تھا۔آپؒ کا سلسلہ نسب خلیفہٗ دوئم دعائے رسول ؐ کا ثمر سید نا حضرت عمر فاروق ؓ بن خطاب سے ملتا ہے۔
فرید الدین گنج شکر ؒ کی تعلیم و تربیت میں آپ ؒ کی والدہ محترمہ بی بی قرسم خاتون کا بڑا ہاتھ ہے جو کہ رابعہ عصراور بہت بڑی عابدہ و زاہدہ تھیں ،آپؒ کی دعائیں’’مستجا ب الدعوات‘‘ کا درجہ رکھتی تھیں آپؒ نے بارہ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور پھر بعد میں دینی تعلیم کی غرض سے کہو ت وال سے ملتان کا رخ کیا، ملتان چونکہ اُس وقت بغداد شریف کی طرح علماء ، فضلاء اور مشائخ عظام کا مرکز تھا۔
ملتان کے محلہ سرائے حلوائی میں مولانا منہاج الدین ترمذیؒ کی مسجد میں آپؒ نے دینی تعلیم شروع کی اور کتاب نافع (فقہ کی ایک کتاب ہے ) سے استفادہ کرنے لگے، آپؒ بڑے ذہین و فطین تھے اور علم دین سیکھنے کا جذبہ جاں گزیں تھا ،یہی وجہ ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں آپؒ نے قرآن پاک حفظ کیا اور عربی کی دیگر کتابیں پڑھ لیں ۔
اس مسجد میں ایک دن حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ تشریف لائے،کیا دیکھتے ہیں کہ فرید الدین مسعود دل جمعی کے ساتھ کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف ہیں ، خواجہ بختیار کاکی ؒ نے فرمایا کیا پڑھ رہے ہو ،آپؒ نے جواباََ عرض کیا کہ ’’کتاب نافع‘‘،خواجہ بختیار کاکی ؒ نے فرمایا کہ ’’ تم جانتے ہو کہ نافع سے تمہیں کیا نفع ہو گا۔؟‘‘ آپؒ نے عرض کی کہ نہیں ،’’ میں تو بس آپ ؒ کی نظرِ کیمیا کا متمنی اور محتاج ہوں اور نفع تو مجھے آپؒ کی قدم بوسی اور فیضانِ نظر سے ہی ہوگا۔‘‘یہ کہہ کر آپؒ خواجہ بختیار کاکی ؒ کے قدموں میں گر گئے ، خواجہ صاحب اس اظہارِ خیال سے بے حد خوش ہوئے ،اٹھایا سینے سے لگایا اور بیعت فرمائی اور ساتھ فرمایا ’’ظاہری تعلیم کی تکمیل بھی ضروری ہے ۔‘‘ بعض روایات میں ملتا ہے کہ وقتِ بیعت سلسلہ سہروردیہ کے سرخیل حضرت شیخ بہا والدین ذکریاؒ ملتانی بھی مجلس میں تشریف فرما تھے ، بعد از بیعت جب آپؒ کے پیر و مرشد خواجہ بختیار کاکی ؒ واپس دہلی جانے لگے تو فرید الدینؒ نے بھی دہلی آنے کی خواہش ظاہر کی ، لیکن خواجہ صاحب نے ابھی تکمیل علوم و فنون کی تلقین کی اور فرمایا کہ ’’بے علم درویش بعض اوقات نہائت خطر ناک اور نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔‘‘
تکمیلِ علوم کے بعد آپ ؒ غزنی ،بغداد شریف ، افغانستان اور بدخشاں وغیرہ کی سیاحت کرتے رہے اور بغداد شریف میں پیرانِ پیر سیدنا شیخ عبدا لقادر جیلانی ؒ کے مزارِ اقدس پر خصوصی طور پر حاضری دی اور روحانی فیض حاصل کیا ۔
دورانِ سیاحت مختلف علاقہ کے اولیاء کرام ، علماء ، فضلا ء سے ملاقاتیں کرتے رہے اور ظاہری و باطنی علوم سے استفادہ حاصل کرتے رہے ، اسی زمانہ میں آپ نے شیخ شہاب الدین سہروردیؒ ، خواجہ اجل سنجریؒ ، شیخ سیف الدین باخردیؒ ، شیخ سیف الدین خضرویؒ ، شیخ فرید الدینؒ عطار نیشا پور ی ایسے اولیاء کرام و بزرگانِ دین سے شرفِ ملاقات حاصل کیا ۔
اس کے بعد آپؒ دہلی میں اپنے شیخ حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ کی خدمتِ اقدس میں قدم بوسی کے لئے حاضر ہوئے ، آپ ؒ کے آنے سے خواجہ صاحبؒ کو انتہائی خوشی و مسرت ہوئی اور آپؒ کو حجرہ خاص سے نوازا گیا اور خواجہ صاحب ؒ آپ ؒ کی روحانی تربیت ، باطنی اصلاح اور سلوک کی منازل طے کروانے کے لئے مصروف ہوگئے ۔
آپؒ کو حقِ بندگی اور خدا ئے واحد کی عبادت و ریاضت کے پیش نظر زہد الانبیاء کا لقب عطا کیا گیا ، عبادت و ریاضت میں مشغول ہونے کے حوالہ سے ایک نہیں سینکڑوں صفحات درکار ہیں ، لیکن یہاں مختصر ایک واقعہ پیش کرتے ہیں ’’ جب حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر ؒ دہلی میں اپنے مرشد کے ہاں مقیم اور عباد ت و مجاہدہ میں مصروف تھے تو آپؒ کے دادا مرشد نائبِ رسول ؐ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ ،قطب الاقطاب حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ سے ملنے کے لئے دہلی تشریف لائے تو حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر ؒ سے ملاقات کے لئے آپؒ خود اُن کے حجرہ میں تشریف لے گئے ،بابا صاحب ؒ کثرتِ عبادت کی وجہ سے اس قدر کمزور اور ناتواں ہوگئے تھے کہ اپنے دادا مرشد کی تعظیم کے لئے کھڑے نہ ہوسکے ۔
خواجہ معین الدین چشتی ؒ آپؒ کی یہ کیفیت دیکھ کر بے حد متاثر و خو ش ہوئے اور اُن کے لئے بارگاہِ ربِ قدوس کے ہاں دعا فرمائی ، غیب سے خوش خبری ملی کہ ہم نے فرید الدین مسعود ؒ کو دین اسلام کی تبلیغ کے لئے منتخب کر لیا ہے اور اس کو برگزیدہ کیا ،یہی وہ موقعہ تھا ،کہ جب معین الدین چشتی ؒ نے آپؒ کو خلعتِ درویشی عطا کرتے ہوئے روحانی فیض سے بھر پور کیا اور پھر خواجہ بختیار کاکی ؒ نے بھی خلافت دستاراپنے دستِ مبارک سے شفقت و محبت کے ساتھ آپ ؒ کے سر مبارک پررکھی ، خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے حضرت خواجہ بختیار کاکی ؒ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’ قطب الدین ! تم نے ایک عظیم شہباز پکڑا ہوا ہے کہ جس کا آشیانہ سدرۃ المنتیٰ کے علاوہ اور نہیں بن سکتا ۔‘‘
دہلی میں آپؒ کی شہرت اس قدر بڑھ گئی کہ آپ ؒ کے حجرہ مبارک کے باہر آپؒ کی زیارت کے لئے لوگوں کا اچھا خاصا ہجوم ہونے لگا، آپؒ نے اس ہجوم اور شہرت کو پسند نہ کیا اور ہانسی تشریف لے آئے ، آپؒ نے کچھ عرصہ اوچ شریف میں بھی قیام فرمایا،رخصت کرتے وقت آپؒ کے مرشد خواجہ بختیا ر کاکی ؒ نے آپؒ سے فرمایا کہ ’’تم میرے وصال کے وقت پر میرے پاس نہیں ہو گے،لیکن دو تین روز کے بعد فاتحہ خوانی کے لئے ضرور آؤ گے۔‘‘
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خواجہ صاحب ؒ کے وقتِ وصال آپؒ ہانسی میں ہی قیام فرما تھے ، وصال کی خبر ملی تو فوری دہلی تشریف لائے ، فاتحہ خوانی کی اور مزارِ اقدس کی زیارت کر چکے تو قاضی حمید الدین ناگوری ؒ نے حضرت خواجہ بختیارکاکی ؒ کی وصیت کے مطابق امانتیں، جس میں خرقہ خلافت ، عصا،نعلین اور مصلحے وغیرہ تھے ، فرید الدین ؒ سرکار کو عطا کیں۔
ان دنوں دیپال پور اور اس سے ملحقہ علاقے کفر و شر کے گڑھ بنے ہوئے تھے ، حکمران اسلام سے کوسوں دور اور لوگ بے راہ روی کا شکار اور فقراء اور مشائخ عظام کے سخت خلاف تھے ، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکر ؒ نے ظلم و ستم کے خاتمہ اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے اور دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے دیپال پور کے قریب علاقہ ’’اجودہن‘‘ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قیام فرمایا، یہاں آپؒ نے مکان اور مسجد تعمیر کروائی اور یہیں مستقل سکونت اختیار کی ۔
ایک یہاں بہتے ہوئے دریا کی روانی دیکھ کر آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ سبحان اللہ ! کیا کیسا پاک پتن ہے ۔‘‘ اس دن سے یہ علاقہ پاک پتن شریف کے نام سے مشہور ہو گیا ۔
شروع شروع میں آپؒ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہاں کی اکثریت کٹر قسم کے ہندو افراد کی تھی جنہوں نے آپؒ کو بہت ستایا اور بے رخی کا مظاہرہ کیا ، مگر آپؒ نے ہمت نہ ہاری اور استقامت کے ساتھ اپنے کام پر ڈٹے رہے کیونکہ آپؒ کا مقصود صرف اور صرف رضائے الہٰی تھا ناکہ جاہ و حشمت و شہرت ۔
آپؒ نے عبادت و ریاضت ، علمی تدبر ،فہم و فراست اور حسنِ اخلاق سے لوگوں کو اپنا گرویدہ کر لیا ،یقیناًکسی کو اپنا بنانے کے لئے ’’بے لوث محبت‘‘ اور ’’حسنِ اخلاق ‘‘ سے بڑا کوئی اور نسخہ نہیں ۔ دینِ اسلام کے سلسلہ میں مسلسل جدو جہد کے بعد آخر کار ایک وقت ایسا آیا کہ اس قدر ’’متلاشیانِ حق‘‘آپؒ کے درِ دولت پر حاضر ہوتے کہ آدھی را ت تک آپؒ کے ہاں ہجوم رہتا ، آپ ؒ سب کے ساتھ محبت و اخلاص ،خندہ پیشانی ،مساوات سے پیش آتے ، سب کو طرح طرح کے کھانے کھلاتے ، غرباء و مساکین کی مدد کرتے ،اپنے در سے کسی کو خالی نہ جانے دیتے ،آپؒ کے اسی حسنِ عمل سے متاثر ہو کر لوگ جوق در جوق آپ ؒ کی خدمتِ اقد س میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہونے لگے ، روایات میں ملتا ہے کہ آپؒ نے پنجاب میں 35ذاتوں اور گوتوں کو مسلمان کیا ۔
یہ سبھی کچھ تب ہی ممکن ہوا کہ آپ نے صرف گفتار سے ہی نہیں ، بلکہ ’’عملی نمونہ ‘‘ پیش کرتے ہوئے دینِ اسلام کی تبلیغ کا بیڑہ اٹھایا،آپ ؒ اپنے مریدین سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر دو آدمی بھی ہوں تو نماز با جماعت ہی ادا کرنی چاہیے،اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا کہ اٹھارہ ہزار عالم میں جو دینی و دنیاوی نعمت ربِ قدوس نے پیدا فرمائی ہے ، وہ دراصل نماز ہی ہے ۔
آخر میں آپؒ کے چند ملفوظات پیشِ خدمت ہیں کہ یہی مضمون کا اصل حاصل ہیں ، آپؒ نے فرمایا کہ
*جو تم سے ڈرتا ہے تم اُس سے ڈرو۔
*اپنے عیب کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھو ۔
*اگر عزت اور سر بلندی کے متمنی ہو تو مفلسوں اور شکستہ دلوں کے پاس بیٹھو۔
*اگر تم ذلیل و رسواء نہیں ہونا چاہتے تو کبھی کسی سے جھگڑا نہ کرو ۔
*جب اہلِ دولت لوگوں کے پاس بیٹھو تو دینِ اسلام کو فراموش نہ کرو۔
*دنیاوی جاہ و مال کے لئے اندیشہ و فکر نہ ہو۔
*جاہل اور نادان کو زندہ خیال نہ کر ۔
*باطن ،ظاہر سے عمدہ اور بہتر رکھو ۔
*خدا ترس وزیر کی سپردگی میں ملک دینا چاہیے۔
*علمِ دین کی حفاظت و نگہداشت کرو۔
*آپ ؒ نے فرمایا کہ’’ چار چیزیں ایسی ہیں جن کے بابت سات سو مشائخ عظام اور بزرگوں سے جب سوال کیا تو سب نے ایک ہی جواب دیا،اولاََ: یہ کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عقلمند کون ہے ؟ جواب دیا گیا کہ دنیا کو ترک کرنے والا ، ثانیاََ: یہ کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ بزرگ کون ہے ؟ جواب دیا گیا جو کسی چیز سے متغیر نہ ہو یعنی تسلیم و رضا کا پیکر ہو ، ثالثاََ: یہ کہ تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ دولت مند اور مالدار کون ہے ؟ جواب دیا گیا کہ قناعت کرنے والا ، اربعاََ: یہ کہ سب لوگوں میں محتاج کون شخص ہے ؟ جواب ملا جو قناعت کو ترک کرتا ہے ۔
*ایک مجلس میں آپؒ نے ’’صوفی‘‘ کے متعلق فرمایا کہ ’’حقیقت میں صوفی وہ ہے کہ جس کی برکت کی وجہ سے تمام چیزیں صفائی قبول کریں اور اسے کوئی چیز زنگ آلود نہ کرسکے،فرمایا کہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو دل کو غافل کردیتی ہیں،اگر بات اول آخر اللہ تعالیٰ کیلئے ہو تو زبان سے نکالے ورنہ خاموشی بہتر ہے۔
*جب خدا کی مقرر کردہ تکلیف ہو تو اُس پر اعتراض نہ کرو۔
*طریقت کے ساتھ ساتھ احکامِ شریعت کی پابندی بھی ضروری ہے۔
5 محرم الحرام 668ھ کو آپؒ پر بیماری کا غلبہ ہوا ،آپؒ نے نمازِ عشاء باجماعت ادا کی اور نماز سے فارغ ہوکر سجدے میں سر رکھتے ہوئے ’’یاحیی یاقیوم‘‘کا ورد کرنے لگے،اور اسی حالت آپؒ نے دنیائے فانی سے رختِ سفر باندھتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آپؒ کا سالانہ عرسِ مقدس5محرم الحرام کو انتہائی عقیدت و احترام اور شایانِ شان طریقے سے منایا جاتا ہے۔اس موقع پر آپؒ کے مزارِ اقدس سے ملحقہ ’’بہشتی دروازہ‘‘ کھولا جاتا ہے جس میں سے گزرنا لوگ اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔عرس کی تقریبات میں نہ صرف پاکستان بھر سے،بلکہ بیرون ممالک سے زائرین آپؒ کے آستانہ پر حاضری دیتے ہیں اور فیض پاتے ہیں۔
پروردگارِ عالم کی بارگاہِ مقدس میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے اسلام میں پورا پورا داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور خرافات سے بچتے ہوئے اولیاء کرام کے ساتھ محبت اور انکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔یاحی یا قیوم۔۔۔صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم