Buy website traffic cheap

مڈٹرم الیکشن

صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ‌ آیا .. تحریک انصاف کو اپنا فیصلہ ہی مہنگا پڑ گیا

صبح کو بھولا شام کو گھر لوٹ‌ آیا .. تحریک انصاف کو اپنا فیصلہ ہی مہنگا پڑ گیا…بیس روز قبل پی ٹی آئی میں‌جانے والے شاہد بھٹو نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔شاہد بھٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی نے این اے 200 پر ٹکٹ دینے کا کہنا تو انکار کر دیا کیونکہ میں بلاول بھٹو کیخلاف الیکشن نہیں لڑ سکتا

——————————
یہ خبر بھی پڑھیئے

کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ اغوا، آبروریزی اور قتل کیس کے سات ملزمان پرفردِ جرم عائد
کٹھوعہ میں 10جنوری کو انتہا پسندوں نے آٹھ سالہ مسلمان لڑکی کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا تھا
بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی کاروائی ان کیمرہ ہورہی ہے
پٹھانکوٹ÷÷÷÷پٹھانکوٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ اغوا، آبروریزی اور قتل کیس کے سات ملزمان پرفردِ جرم عائد کر دی گئی ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمہ کٹھوعہ سے پٹھانکوٹ منتقل کیا گیا ہے ۔جموں کے کٹھوعہ علاقے میں 10جنوری کو انتہاپسند ہندووں نے آٹھ سالہ گوجر مسلمان لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد عصمت دری کے بعد قتل کر دیا تھا۔ اس مقدمے کی کارروائی کے دوران آٹھ میں سے سات ملزمان کیخلاف فرد جرم عائد کی گئی جب کہ آٹھویں ملزم کو نابالغ بتایا جارہا ہے۔ اس سے قبل مئی کو کارروائی کے دوران تمام ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی کاروائی ان کیمرہ ہورہی ہے۔ عدالت نے 17گواہاں کو اپنے بیانات درج کروانے کے لئے عدالت میں طلب کر لیا ہے ۔ دریں اثنا صفائی وکلا نے عدالت ہذا میں ایک درخواست دائر کر کے دعوی کیا ہے کہ معاملہ میں ملزم بنایا گیا پرویش کمار عرف منو نامی نوجوان بھی نابالغ ہے ، قابل ذکر ہے کہ ایک دیگر نابالغ کی عمر کا تنازعہ ابھی بھی جموں ہائی کورٹ میں چل رہا ہے ۔ صفائی وکلا کا ماننا ہے کہ وہ ملزم نابالغ ہے جب کہ کرائم برانچ کا دعوی ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق ملزم کی عمر 19سے 23سال کے بیچ ہے ۔ پرویش کمار کو نابالغ قرار دینے کے لئے عدالت سے رجوع کرنے میں تاخیر کے بارے میں پوچھے جانے پر وکیل صفائی انکور شرما نے بتایا کہ یہ ان کی حکمت عملی ہے ۔ پرویش کمار کے خلاف دفعہ 376D/511کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ عدالت عظمی نے کٹھوعہ سے پٹھانکوٹ ضلع عدالت میں منتقل کیا ہے جو کہ کٹھوعہ سے قریب 20کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے ۔ پٹھانکوٹ میں کیس کی سماعت31مئی سے ان کیمرہ شروع ہو ئی تھی جس کے مطابق وکلا، ملزمان اور گواہان کے علاوہ کسی کو بھی کمرہ عدالت میں موجود رہنے کی اجازت نہیں ۔اگر چہ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اِن کیمرہ سماعت کے دوران کارروائی کے ہر لمحہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جاتی ہے لیکن فی الحقیقت اس کے معنی کھلی عدالت کے بجائے بند کمرہ میں سماعت ہوتی ہے جس میں کسی بھی غیر متعلق شخص کے داخلہ کی اجازت نہیں ہوتی۔