Buy website traffic cheap

ضرورت اس امر کی ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ۔۔۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ۔۔۔
اک ذرا سی بات
نصرت عزیز
یہ الیکشن ۸۱سے چند دن پہلے کی بات ہے عوامی نمائندگان جہاں اپنی قومی صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کررہے تھے وہاں ہی ان نمائندگان کے چاہنے والے اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کررہے تھے کہ ان کا پسندیدہ نمائندہ یا ان کی پسندیدہ جماعت کامیاب ہو۔ دلیلیں دینے والوں نے قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کے لیے دین اسلام کو بھی بنیاد بنایا ، حب الوطنی کو بھی دلائل میں شامل کیا ، مسلکی و صوبائیت کو بھی ہوا دی اور ملک و قوم کے لیے کی جانے والی خدمات کو بھی عوام کے سامنے پیش کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ جس نقطہ کو دلیل بناکرعوام کے سامنے پیش کیا نشست حاصل کرنے کے بعد اس کابول بالا کرنے کا بھی وعدہ کیا ،جیسے دین اسلام کو بنیاد بنا کر اپنی الیکشن مہم کو چلانے والوں نے ملک خداداد میں دین اسلام کی تدوین و ترویج کاوعدہ کیا، حب الوطنی کو بنیاد بنا کرالیکشن مہم چلانے والوں نے جیتنے کی صورت میں وطن کے لیے جان تک نچھاور کرنے کا وعدہ کیا، عوام کے لیے انفرادی، اجتماعی یا حکومتی طور پر فلاحی خدمات کرنے والوں نے اپنے جیتنے کے بعد فلاحی خدمات کو پھیلانے کا وعدہ کیاوغیرہ وغیرہ ۔ عوامی نمائندگان اور ان کے چاہنے والوں کی یہ سب کوششیں قومی یا صوبائی اسمبلی کی نشست حاصل کرنے کے لیے تھیں ۔عوام کو بھی ےک دم تبدیل ہوتے عوامی نمائندگان کے اس رویہ پر حیرت توخیر نہ ہوئی مگر سب جانتے تھے کہ حقیقت کیا ہے ۔خیر عوامی نمائندگان کی کتھا سن کر عوام نے بھی سنا کچھ اور کیا کچھ اور ۔
ٰالیکشن ۸۱ سے پہلے کا یہ احوال تو عوامی نمائندگان کا تھا اب ذرا ان کے چاہنے والوں کا بھی ذکر ہوجائے تو اصل مدعا کی طرف آنے میں آسانی ہوگی ۔عوام اپنے نمائندوں یا اپنی پسندیدہ پارٹی کو الیکشن میںجیتوانے کے لیے جہاں عملی طور پر پرجوش نظر آئے وہاں ہی انھوں نے سوشل میڈیا کا سہارہ لیا اور لعن طعن کے ساتھ ساتھ، الزامات، جھوٹ اور تہمت کا وہ سلسلہ جاری تھا کہ سوشل میڈیا کا جائزہ لینے پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے ۔سمجھانے والوں نے بارہا کوشش بھی کی جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے مگربات نہ بنی تو سوشل میڈیا کوہی چھوڑنا پڑا۔دلائل کو ثابت کرنے کے لیے جہاں فوٹو ایڈیٹنگ (جھوٹ،الزام تراشی ) کا سہارہ لیا گیا وہاںہی ماضی کو کرید کرید کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ۔مخالفین پر الزام تراشی ، جھوٹ ، لعن طعن اور تہمت زنی کے ساتھ ساتھ فوٹو ایڈیٹنگ کا بھی سہارہ لیا گیا ۔اسی کش مکش میں جہاں باہمی تعلقات بگڑے وہاں ہی لڑائی جھگڑے بھی ہوئے ۔باہمی تعلقات کی خرابی اس اُمت کے لیے بہت بڑامسئلہ ہے جوشاید یہ اُمت نہیں جانتی ہے تب ہی خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کو نصیحت کی کہ جو تم سے توڑے تم اس سے جوڑوں ۔مگر اس سیاسی پسند وناپسند میں ہم اتنے آگے چلے گئے کہ بھا ئی بھائی سے قطع تعلق کربیٹھا ۔
سیاسی پسند و ناپسند اپنی جگہ مگر باہمی تعلقات ختم کرنے کی مذکوہ بالا وجہ کسی صورت بھی اس امت کے لیے فائدہ مند نہیں ۔ جب باہمی تعلقات ختم ہوں گے تو لازمی بات ہے اتفاق واتحاد کا عنصر ختم ہوگا اور اتفاق و اتحاد ہی وہ عنصرہے جس سے روگردانی کر کے آج ہم فلسطین پر بھی روتے ہیں تو برما پر بھی ،آہ وبکا شام پر کرتے ہیں توسسکی کشمیر کے لیے نکلتی ہے ۔ تعلقات توڑنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ اپنے مخالفین دوستوں یا رشتہ داروں سے کہہ دیں کہ سیاسی بحث ان سے نہ کریں ہاں اگر پھر بھی کوئی اپنی اس شیطانی خصلت پر مَصر ہے تو آسان سا حل یہ ہے کہ اسے سیاسی باتوں کاجواب ہی نہ دیں بلکہ ”اللہ بہتر کرے “ کی دعاسے بات ٹال جائیں ۔یہ ٹالنا ہرگز کمزوری یا ڈرپوکی نہیں ہے بلکہ یہ بہت بڑی بہادری اور امت کے باہمی پیار ومحبت اور اتفاق کی ضامن ہے ۔
اس سیاسی لاےعنی اور فضول باتوں یا دلائل کو مضبوط بنانے کے لیے اتنا آگے کی طرف بڑھا گیا کہ کانوں کے اندر انگلیاں دھنسانے کو دل کرتاتھا کہ یہ دلائل کانوں یا آنکھوں تک پہنچے ہی نہیں ۔الیکشن سے چند دن پہلے اسی طرح فیس بک پر ایک پوسٹ پر سیاسی بحث جاری تھی میں نے وہاں اپنے خیالات کا اظہار تو نہ کیا مگر لوگوں کے خیالات کو پڑھ کر کانوں کو ہاتھ لگانا شروع ہوگیا ۔اسی بحث میں ایک شخص نے اپنی بات کو مزید طاقت ور بنانے کے لیے ایک گستاخ رسول کی ٹویٹ شیئر کردی جس میں ایک سیاسی پارٹی اور فوج کے خلاف بکواس درج تھی۔ٹویٹ شیئر کرنے والے کو میں نے اس بات کی یاد دہانی کروائی تو موصوف نے بات کو اہمیت نہ دی ۔مگر میں سوچتا رہا کہ کیا ہماری محبت اتنی گھٹیاہوگئی ہے کہ ہم اپنی پسند کی سیاسی پارٹیوں کے غلط ملط کاموں کو صحیح منوانے کے لیے گستاخ رسول کی ٹویٹس بھی شیئر کر کے دوسروں کونیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسی طرح میرے ایک قریبی دوست اپنے ایک جاننے والے کا قصہ سناتے ہیں کہ میں نے اپنے اس جاننے والے سے اس کی سیاسی پسند و ناپسند کا پوچھا تو جس سیاسی فرد کا نام اس نے بتایا میں نے کہا کہ وہ شخص تو کرپشن میں بدنام ہوچکا ہے تو وہ جاننے والا بولا کہ اگر وہ خانہ کعبہ کے نیچے بیٹھ کر بھی کرپشن کرے تو میں اسے ہی ووٹ دوں گا۔الامان ۔کہنے والے کہتے ہیں یہ اندھی محبت ہے مگر یہ اندھی محبت نہیں غلامانہ سوچ اور جاہلیت ہے ۔
سیاسی پارٹیوں اور سیاسی افراد سے ضرور محبت کریں مگر ایک حد تک ۔۔۔اگر ان میں بری بات ہے تو دل سے مانیں اگر اچھی بات ہے تو ہم خیال لوگوں سے شیئر کریں اور کوشش کریں کہ ایسے افراد جو آپ کی سیاسی پسند و ناپسند سے تضاد رکھتے ہیں ان سے شیئر مت کریں تاکہ تعلقات میں فرق نہ آئے ۔اگر دین اسلام سے ان کی شخصیت یا قو ل تضاد کرتا ہے تو اپنی سیاسی پسند کو دین اسلام سے معتبر نہ سمجھیں بلکہ جو غلط ہے اس کو غلط ہی جانیں اور درمیانہ راستہ یا فہم وفراست مت سمجھیں کیوں کہ ایمان چلا گیاتو کچھ نہیں رہا اور نہ ہی ایمان سے بڑی کوئی سیاسی شخصیت ہے چاہے وہ کسی اسلامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتی ہے چاہے کسی لبرل سیاسی جماعت سے تعلق رکھتی ہے ۔برے کو برا سمجھیں اچھے کو اچھا سمجھیں چاہے وہ آپ کے مخالفین کی طرف سے ہو ےا چاہے آپ کے اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کی طرف سے ہو۔یہ غلامانہ ذہنیت کی علامت ہے کہ دوسروں کے اچھے کاموں میں بھی نقطہ چینی اور منفی سوچ کو بروئے کار لاکر تشہیر کرنا اور اپنی پسندیدہ سیاسی شخصیت کے غلط کام کی بھی طرف داری کرنا اوراسے لوگوں کے سامنے اچھا بیان کرنا ۔اپنے دین کا سوچیں اپنے ملک و ملت کا سوچیں ۔ دین اسلام ،ملک و ملت کے لیے جو اچھاہے وہ ہمیں اچھا لگے اور جس کے قول وفعل سے دین اسلام اور ملک و ملت کو نقصان کا احتمال ہوتو چاہے وہ ہماری پسندیدہ سیاسی شخصیت ہی کیوںنہ ہوہمیں مخالفت کرنی چاہیے نہ کہ دلائل دے کر طرف داری کرنی چاہیے ۔
قوم کی اخلاقی پستی کا عالم اگر دیکھنا ہوتو سوشل میڈیا پر جاکر دیکھیں ۔ایسے ایسے اخلاقی پستی کے نمونے ملیں گے کہ بندہ حیران ہوجاتاہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسلمان افراد کی طرف سے استعمال ہوا سوشل میڈیا ہے ۔ابھی ہفتہ پہلے کی بات ہے سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ طویل علالت کے بعدانتقال فرماگئیں ۔سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلی توایسے ایسے خیالات پڑھنے کو ملے کہ جیسے لگتا تھا کہ ان گھٹیاخیالات کا اظہار سوشل میڈیاپر کرنے والوں نے مرنا ہی نہیں ہے یا ان کے کسی عزیزواقارب کو مرنا ہی نہیں ہے ۔اگر مرحومہ کے ساتھ کسی کی کوئی سیاسی ناپسندیدگی ہے تو موت پر اس کا اظہار مت کریں بلکہ دعادیں کہ اللہ تعالیٰ وہ جہان اچھاکریں ہاں اگر دل نہیں مانتاہے اور دل سیاسی پسند وناپسند کی وجہ سے پتھر کا ہوچکا ہے تو خاموشی اختیارکریں ۔کیوں کہ مردے پرلوگوں کے خیالات نہ صرف مردے کے لیے باعث عذاب ہیں بلکہ زندوں پر بھی مصیبت کا باعث ہیں ۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : فوت ہوچکے لوگوں کو برامت کہو، کیوں کہ وہ اس تک پہنچ چکے ہیں جو کچھ انھوں نے آگے بھیجا تھا(صحیح بخاری )۔ شعبہ بن مغیرہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مرچکے لوگوں کو برا مت کہو کہ (ایسا کرنے سے کہیں ) تم لوگ زندہ لوگوں کو تکلیف نہ پہنچاﺅ(سنن ترمذی)۔
موجودہ حالات کے تناظر میںضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کی اخلاقی تربیت کی جائے جس کے لیے معاشرے کے سبھی معتبر طبقات(علمائے کرام، اساتذہ، والدین ، اچھے دوست وغیرہ ) کو اس میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگاورنہ یہ قوم اپنے ذہنوں کو ان ”علوم اورفہم وفراست “ سے تر کررہی ہے جو نہ صرف اس قوم کو ذہنی غلامی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل رہی ہے بلکہ اپنے مذہب اوراپنے مرکز سے بھی دور کررہی ہے۔