Buy website traffic cheap


عدالتی فیصلوں اور اندرونی وبیرونی دباؤ کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ کرلیا

لاہور(ویب ڈیسک): الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلے کی وجہ سے انتخابات تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے اور عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی حلقہ بندیوں پر عدالتی فیصلوں کے آئینی و قانونی پہلووں کا جائزہ لے لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ عدالت حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 60 روز کے اندر الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے، حلقہ بندیوں سے متعلق عدالتی فیصلوں کی وجہ سیعام انتخابات تاخیر کا شکارنہیں ہوں گے،عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے،الیکشن کمیشن چند روز تک عام انتخابات کا شیڈول جاری کرے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے جہلم، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور لوئر دیر سمیت 8اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو سن کر دوبارہ حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا تھا۔ پنجاب کے 6 اور خیبر پختونخوا کے 2 اضلاع شامل تھے۔ آٹھ اضلاع میں حلقہ بندیاں کالعدم کرنے کا فیصلہ جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل بنچ نے 40 سے زائد درخواستوں پر سنایا۔ عدالت نے بہاولپور، رحیم یار خان، جھنگ، جہلم، چکوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، لوئر دیر اور بٹگرام کے اضلاع کی حلقہ بندیاں کو خلاف قاعدہ قرار دیا۔