Buy website traffic cheap


عوام کوطوفان کی طرح‌ نکلنے کی ہدایت، مخالفین ہکے بکے رہ گئے

عوام کوطوفان کی طرح‌ نکلنے کی ہدایت، مخالفین ہکے بکے رہ گئے……مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، انھیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کر دیا گیا، عوام اپنے لیڈر کیخلاف سازش کو ناکام بنا دیں۔مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے پاکستان سے دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، انھیں پاناما ڈرامے سے کوئی فرق نہیں پڑا، انھیں عوام کے دلوں سے ان کا نام کوئی نہیں مٹا سکتا۔عوام کو 25 جولائی کے روز آندھی اور طوفان کی طرح نکلیں اور امیدوار دیکھے بغیر شیر پر مہر لگائیں

——————-
یہ خبر بھی پڑھیئے

جموں وکشمیر کے لوگ مالی پیکیج کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں،عمر عبداللہ
روزگار کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں، یہ لوگ اپنے سیاسی حقوق کیلئے احتجاج کررہے
سری نگر÷÷÷ مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ خدارا کشمیر میں امن و امان کی بحالی کیلئے کچھ کیجئے، جموں وکشمیر کے لوگ مالی پیکیج کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں، روزگار کیلئے احتجاج نہیں کررہے ہیں، یہ لوگ اپنے سیاسی حقوق کیلئے احتجاج کررہے ، یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ ان سے کئے گئے وعدوں کا ایفاء کیا جائے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ 1947سے لیکر آج تک وعدے کئے گئے لیکن کبھی پورا نہیں کیاگیا۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں لوگ آج سڑکوں پر آکر اپنے آپ کو گولیوں اور بندوقوں کا شکار بنا رہے ہیں، لیکن اس وقت بھی بھارت کی نیند نہیں ٹوٹی۔ ریاستی اور بھارتی حکومتوں کو غلط فہمی تھی کہ 2016جائیگا اور 2017کے بعد حالات خود بہ خود ٹھیک ہوجائیں گے۔ عمر عبداللہ نے بارہمولہ میں یک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ بات چیت کیلئے تیار ہیں ، وزیر خارجہ اس کے برعکس بیان دیتی ہے، وزیر دفاع کوئی اور کہانی سناتی ہے اور بچی کچھی کسر وزیر اعظم کے دفتر میں بیٹھے ایک اور وزیر پوری کرجاتے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا صاف موقف اور ایک آواز میں کوئی بات کرنے کیلئے تیار نہیں، جب آپ ایک آواز میں بات نہیں کرسکتے تو ہم حریت کو بات کرنے کیلئے کیسے قائل کرسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کیلئے بھارت کے متضاد بیانات نے کنفیوژن پیدا کیا ہے، حریت سے مثبت جواب کی کیسے امید کی جاسکتی ہے؟ہمارے پڑھے لکھے نوجوان اپنی نوکریاں چھوڑ کر بندوق اٹھا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا ایک پروفیسر جمعہ کے دن بچوں کو پڑھاتا ہے، سنیچر کو غائب ہوتا ہے، اتوار کو ملی ٹنٹ بنتا ہے اور اگلے روز اس کی لاش ملتی ہے۔ ایسے ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر یہاں آکر بندوق اٹھاتا ہے، ایک اور نوجوان، جس نے آرمی کی نوکری کیلئے امتحان پاس کیا تھا، بھی بندوق اٹھانے کو ترجیح دیتا ہے۔اس طرح کی کتنی مثالیں ہیں جہاں نوجوانوں نے تعلیم، روزگار، کارخانے، نوکری اور ایک بہتر کل کو چھوڑ کر بندوق اٹھایا۔ اس سب کیلئے ہم کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟2014تک تو ایسے حالات بالکل نہیں تھے؟یہ مایوسی، یہ ناراضگی، یہ بے بسی کہاں سے پیدا ہوئی،یہ حالات اگر بنے تو 2014کے بعد ہی بنے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ آج پی ڈی پی والے کہتے ہیں ہم نے سیز فائر کروایا اور ہم سے کہتے ہیں کہ آپ نے 2009سے 2014تک حکومت کی لیکن سیز فائر نہیں کرواسکے، ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم نے سیز فائر اس لئے نہیں کیا کیونکہ اس وقت ایسا کچھ نہیں تھا، اس وقت ضرورت ہی نہیں پڑی، اس وقت بندوق اٹھانے والا ہی کوئی نہیں تھا،اس وقت IEDدھماکے نہیں ہوتے تھے، اس وقت آج کی طرح ہفتے میں ڈیڑھ درجن گرینیڈ نہیں پھٹتے تھے، اس وقت ایسے حالات نہیں تھے۔آج یہاں حالات ایسے ہیں کہ یہاں انکاؤنٹر کے دوران احتجاج کررہے لوگوں پر گولیاں برسائیں جارہی ہیں اور ایک ایک انکاؤنٹر میں 5پانچ لوگ مارے جاتے ہیں۔ میرے دور میں ایسے حالات تو نہیں تھے۔اگر آپ نے سیز فائر کیا ہے تو یہ آپ کی مجبوری تھی کیونکہ آپ کی حکومت میں حالات اتنے خراب ہوگئے تھے کہ آپ کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا اور اس میں بھی اس میں دیری کی۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ ہم لگاتار 2016سے آپ سے کہتے آرہے ہیں کہ حالات کو سدھارنے کیلئے کچھ قدم اٹھایئے۔