Buy website traffic cheap


عہدے اور مراعات

عہدے اور مراعات
تحریر عبدالجبار خان دریشک
جب سارے اختیارات کی چھڑی اپنے ہاتھ میں ہواورجب دل کرے اس چھڑی کو جیسے گھوما دو ، اتنا بڑا عہدہ اور منصبکسی کے ہاتھ میں ہو تو کون سوال کرنے والا ہے وہ جیسے رعایا پر حکومت کرے ان اپنی مر ضی ساری طاقت اور اختیار ات کے وہ اکیلے مالک کہلاتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ اعلی بھی سمجھتے ہیں اور پارسا بھی ، یہ صورت حال آج کے دور میں بنتی جا رہی ہے ،ہمارے سیاست دان سیاہ سفید کے مالک ہیں ، قومی خزانہ ان کا ہے اس سے جتنا مال لوٹ کر کھا جائیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ، ملک میں جتنا بڑا عہدہ جس کے پاس ہو سب سے زیادہ مر عات بھی اسے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ ایک بچارہ مز دور سارا دن دھو پ میں اپنے خون کو جلاکر مزدوری کر تا ہے بدلے میں اس بچارے کو تین سو سے پانچ سو ملتا ہے ‘آج کے دور میں سیاست میں آنے اور عہدے حاصل کر نے کا مقصد اپنی عوام کی خدمت نہیں بلکہ اپنے لئے سہولیات حاصل کرنا اور اپنی تجوریوں کو بھر نا ان کا مقصد ہے پانچ سال کے لئے منتخب ہو نے والے سیاست دان چاہتے ہیں ہم ساری زندگی مراعا ت حاصل کر تے رہیں ‘ ہمار ا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا جسے ہم فلاحی اسلامی ریاست کہتے ہیں لیکن ہمارے حکمران جب عہدے حاصل کر لیتے ہیں تو اسلام میں حکمران کے لئے کیا احکامات ہیں اپنے ملک کے باشندوں کے کیا حقوق ہیں یہ سب احکامات کو نظر انداز کر کے سب سے پہلے اپنی فلا ح کا سوچتے ہیں خلفہ راشدین کا دور ہو یا صحا بہ کرامؓ کا ہمیں جنہوں نے خود کو بھوکا اور پیا سا رکھا پر اپنی رعایا کی ہر مشکل کو آسان کیا رو اں سال کے بجٹ میں ملک کے صدر کی تنخوا ہ میں لاکھوں روپے کا آضافہ کیا گیااور حکو مت یہ نیک کا م اپنے مدت ختم ہونے سے پہلے کر گئی
اس تنخواہ میں آضافے کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دور کا ایک واقعہ بیان کرنا چاہوں گا۔ حضرت عمرؓ جب خلیفہ وقت تھے تو آپ نے جب حضرت سعید بن عامرؓ کو حمص کا گورنر مقرر کیا تو آپؓ دوڑتے ہوئے حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ آپ کو خدا کا واسطہ ہے مجھے اس سے محفوظ رکھیں‘حضرت عمرؓ نے غصے سے کہا کہ تم خود اس سے بچنا چاہتے ہو‘ اللہ کی قسم تمہیں یہ ضرور قبول کرنا پڑے گا‘حضرت عمرؓ کے حکم سے آپؓ نے وہ عہد ہ قبول فرما لیا ‘ جب حضرت سعید بن عامرؓ گورنر بن کر حمص جانے لگے تو حضرت عمرؓ نے آپؓ کی تنخواہ مقرر کرنے سے متعلق رائے لی جس پر آپؓ نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے بیت المال سے ملنے والے وظیفے سے میرا گزارا ہوجاتا ہے بلکہ اس سے بھی کچھ رقم بچ بھی جاتی ہے۔
اب اس واقعہ کو یہیں پر روکنا چاہوں گا اور اب اس خبر کے بارے میں آپ کو آگاہ کرتا ہوں کہ گزشتہ ماہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صدرپاکستان کی تنخواہ میں 7 لاکھ 66 ہزار 550 روپے اضافے کی منظوری دی گئی ‘ملک کے صدر کی تنخواہ ایک لاکھ 33 ہزار 3 سو 33 روپے سے بڑھاکر 8 لاکھ 46 ہزار 5 سو 50 روپے مقرر کرنے کا بل کا بینہ میں پیش کیا گیاتھا ‘ جبکہ صدر کی تنخواہ میںآخری مرتبہ 2004 میں اضافہ کیا گیا تھا اور 80 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 3 سو 33 روپے کردی گئی تھی۔اس سمری کے نافذالعمل ہونے کے لیے صدر کی تنخواہ اور الاؤنسز سے متعلق ایکٹ 1975 کے سیکشن 3 میں ترمیم کرنی ہوگی۔ کابینہ کو یہ بتایا گیا کہ مہنگائی کے تناظر میں ہر سال صدر کی تنخواہ میں اضافے کیلئے بھی قانون میں ترمیم کی جائے گی‘اس نئی تنخواہ کے مطابق صدر پاکستان کی تنخواہ کسی بھی سرکاری عہدیدار کی تنخواہ سے زیادہ ہوجائے گی‘جبکہ حالیہ ہونے والا آضافہ 950فیصد ہے ۔ہمارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس میں جمہوریت کے ساتھ نظام حکومت بھی اسلام کی تعلیمات کے مطابق چلانا چاہیے تھا لیکن شاید ہمارے حکمران طبقہ صرف حکومت اپنے فائدے حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں جن کو جتنی مرعات اور تنخواہ ملے ان کی نظر میں کم ہے
حضرت سعید بن عامرؓ کے واقعہ کو دوبارہ جوڑتا ہوں ‘ حضرت سعید بن عامرؓ کے گورنر بننے کے کچھ ہی دنوں کے بعد اہل حمص کے کچھ قابل اعتماد لوگوں پر مشتمل ایک وفد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس وفد سے فرمایا کہ مجھے اپنے یہاں کے فقرا اور حاجت مندوں کے نام لکھ کر دے دو تاکہ میں ان کی ضروریات کا کوئی بندوبست کردوں۔ انہوں نے خلیفہ کے سامنے جو فہرست پیش کی اس میں تھا فلاں ابن فلاں اور فلاں ابن فلاں اور سعید بن عامر سعید بن عامرؓ؟ کون سعید بن عامرؓ؟ حضرت عمرؓ نے حیرت سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا ہمارے “ہمارے گورنر” تمہارا گورنر؟ کیا تمہارا گورنر فقیر ہے؟ حضرت عمرؓ نے مزید حیرت سے پوچھا” جی ہاں امیر المومنینؓ! خدا کی قسم کتنے ہی دن ایسے گزر جاتے ہیں کہ ان کے گھر میں آگ نہیں جلتی وفد نے مزید وضاحت کی یہ سن کر حضرت عمرؓ رو پڑے‘ وہ دیر تک روتے رہے حتٰی کہ آپؓ کی داڑھی مبارک آنسووں سے تر ہو گئی‘آپؓ اٹھے اور ایک ہزار دینار ایک تھیلی میں رکھ کر اسے وفد کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا سعیدؓ سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ امیر المومنینؓ نے یہ مال آپؓ کے لیے بھیجا ہے تاکہ آپؓ اس سے اپنی ضرورتیں پوری کرسکیں۔
جب وفد کے لوگ دیناروں کی وہ تھیلی لے کر حضرت سعید بن عامرؓکی خدمت میں پہنچے اور وہ تھیلی آپؓ کو پیش کر دی۔ آپؓنے اس تھیلی اور اس میں رکھے ہوئے دیناروں کو دور ہٹاتے ہوئے کہا اِنا للہ وَاِنا الیہ راجعون‘یہ آواز سن کر آپؓ کی بیوی گھبرائی ہوئی آپؓکے پاس آئیں اور بولیں سعیدؓ کیا بات ہے؟ کیا امیر المومنینؓ کا انتقال ہو گیا؟ نہیں، اس سے بھی بڑی مصیبت آن پڑی ہے حضرت سعید بن عامرؓ نے جواب دیا‘ اس سے بڑی افتاد کیا ہوسکتی ہے آپؓ زوجہ محترمہ نے پوچھاآپؓ نے جواب دیا دنیا میرے گھر میں داخل ہو گئی ہے اور یہ میری آخرت کو تباہ کر دے گی۔ حضرت سعید بن عامرؓ نے تشویشناک لہجے میں یہ جواب دیا۔ آپؓ اس سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔آپؓ کی زوجہ محترمہ نے ہمدردانہ مشورہ دیا تمام دیناروں کو غریب اور حاجتمندمسلمانوں میں تقسیم کروا دیں۔ حضرت سعید بن عامرؓ نے تمام دینار اسی وقت حاجت مندوں میں تقسیم کردیے۔
یہ ہے وہ طرز حکمرانی جس کی تعلیمات ہمارا دین اسلام میں دیتا ہے لیکن آج کے دور میں ہمارے حکمران ایسا عمل کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے وہ چا ہتے جب وہ کہیں جائیں توپروٹوکول کے لئے درجنوں گاڑیوں کا قافلہ ان کے ہمراہ ہو ں اور خوشماندی ہر وقت مکھیوں کی طرح اڑ رہے ہوں جو ان کے ہرِ عمل پر واہ واہ کر تے نہ تھکیں ۔