Buy website traffic cheap

فضیلت انبیاءعلیہم السلام

فضیلت انبیاءعلیہم السلام بیان کرنے کا قرآنی انداز

فضیلت انبیاءعلیہم السلام بیان کرنے کا قرآنی انداز
مولانا محمد اکرم اعوان:
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ یہ رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں (بعض سے اللہ نے کلام کیا اور ان میں سے بعض کے درجات بلند کیے اور ہم نے مریم ؑکے بیٹے عیسیٰ ؑ کو کھلی نشانیاں دیں‘ اور ہم نے روح القدسؑ سے اس کی تائید کی اور اگر اللہ چاہتا تو جو ان کے بعد ہوئے وہ باہم نہ لڑتے اس کے بعد جب کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آ گئیں لیکن انہوں نے اختلاف کیا‘ پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا اور ان میں سے کسی نے کفر کیا‘ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ باہم نہ لڑتے‘ لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی مقدس جماعت ہے اوربعض کو ہم نے بعض پر فضیلت اور فوقیت عطا فرمائی۔ اس مقدس جماعت میں ایسے لوگ بھی ہیں جن سے اللہ کریم نے براہ راست کلام فرمایا۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو درجوں میں دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی۔ یہاں قرآن حکیم کا اندازِ خطاب انبیاءو مرسلین کی فضیلت کے باب میں ہے۔ یہ انبیاءاور رسل مخلوق کے لیے اللہ کی رحمت کا واحد سبب ہوتے ہیں۔ہدایت کا فیصلہ کرنے میں اللہ کے نبی اور رسول انسان کی مدد فرماتے ہیں،رہنمائی فرماتے ہیں۔ فیصلے کو آسان کر دیتے ہیں اور یہی نبیوں اور رسولوں کا منصب جلیلہ ہوتا ہے کہ انسان دنیا کی رنگینی دیکھ کر ،دنیاوی لذتیں دیکھ کر اس میں کھو نہ جائے۔ وہ اسے بتاتے ہیں کہ تیرا منصب اس سے بلند ہے۔ دنیا تجھے استعمال نہ کرے بلکہ دنیا تیرے استعمال کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ نہ ہو کہ دنیا تجھ پر سوار ہو جائے۔ تو اللہ کے لیے ہے اور دنیا تیری خاطر ہے۔ جو لوگ دنیا چھوڑ کر اللہ کے قرب کا فیصلہ کرتے ہیں، دنیا ان کے پیچھے بھاگتی ہے۔ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دنیا کو چنتے ہیں، دنیا ان کے آگے بھاگتی ہے اور وہ ساری عمر پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے پاس دنیا غلام بن کر آتی ہے اور دنیاداروں کی حکمران بن کر رہتی ہے۔ وہ ان سے خدمت لیتی ہے اور اللہ والوں کی خدمت کرتی ہے۔ دنیا کو برا یا فضول کہنا غلط بات ہے۔ دنیا اللہ کی مخلوق ہے اور اس نے اتنی خوبصورت بنائی ہے کہ دنیا کو اپنے مقابلے میں رکھ کر فیصلہ انسان پر چھوڑ دیا ہے۔
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
میرا محبوب اتنا حسین ہے کہ اس نے اپنے رخ روشن کے آگے شمع جلا کر رکھ دی اور پروانے کا امتحان لے رہا ہے کہ وہ شمع پہ نثار ہوتا ہے یا اس کے رخ روشن پہ نثار ہوتا ہے۔ قدرت کا نظام بھی ایسا ہے کہ یہ دنیا ایک شمع ہے اور دوسری طرف جمال الٰہی ہے۔ اب یہ فیصلہ انسان نے کرنا ہے اور اسی پر اس کی جزا سزا کا مدار ہے۔ وہ اس فیصلے میں مجبور نہیں ہے۔ ہم نے انسان کو راستہ کھول کر بتا دیا ہے، وہ شکر کی راہ اختیار کرتا ہے یا ناشکری کی، اب یہ اس کی پسند ہے۔ شکر کا راستہ، و صول الٰہی کا راستہ ہے حضور حق کی بات ہے جو ہر نبی نے بتائی ہے۔ ہر نبی جس قوم کی طرف مبعوث ہوا، جتنے علاقے کی طرف مبعوث ہوا اور جتنے عرصے کے لیے مبعوث ہوا ، اس عرصے میں اس علاقے اور ان لوگوں کے لیے رحمت حق کا دروازہ صرف اللہ کا نبی او ر رسول تھا۔ فرمایا: رسولوں کو عام نہ سمجھو۔ یہ اللہ کے خاص بندے ہیں۔ اللہ کی بات بندوں کو بتاتے ہیں۔ اللہ کا راستہ بندوں کو بتاتے ہیں۔ بندوں کو اللہ تک پہنچنے کی ہمت دلاتے ہیں اور اس کا سبب بنتے ہیں۔
اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ بات کرنے کا ایک اندازہوتا ہے۔ کسی بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے سارے دانت گر گئے۔ تعبیر کرنے والے نے کہا کہ آپ کے سارے عزیز و اقارب آپ کے سامنے مر جائیں گے۔ بادشاہ اس پر ناراض ہوا اور اسے سزا دے دی۔ کسی اور نے خواب کی تعبیر یہ کی کہ جہاں پناہ کی عمر سب سے طویل ہو گی۔ اس پر بادشاہ خوش ہوا اور اسے انعام دیا۔ بات تو ایک ہی تھی لیکن اسلوب مختلف تھا۔ قرآن حکیم کا انبیاءو رسل کی فضیلت بیان کرنے کا اسلوب یہ نہیں ہے کہ کوئی نبی کسی نبی سے درجے میں کم ہے ،بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی۔ سارے فضیلت والے ہیں اور بعض زیادہ فضیلت والے ہیں۔ اب اگر کوئی زیادہ ہے تو دوسرا کم ہو گا لیکن انبیاءکے معاملے میں یہ لفظ استعمال کرنا گستاخی ہے اور قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ سب اچھے ہیں، اچھوں میں کچھ بہت اچھے ہیں۔
اس سے علماءنے اخذ فرمایا ہے کہ اللہ کے بندوں کا‘ اولیاءاللہ کا ذکر خیر ہو تو کبھی یہ مت کہو کہ فلاں ولی اللہ درجے میں فلاں سے کم تھا۔ یہ قرآنی اسلوب نہیں ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہو کہ سارے اچھے تھے، فلاں ان میں بھی بہت اچھا تھا۔ سب سے اللہ کی رحمتیں تقسیم ہوئیں، سب نے اللہ کے بندوں کو ہدایت کا درس دیا لیکن فلاں بزرگ نے بہت اچھا دیا۔ یعنی سب اچھے تھے ، بعض اچھوں میں اور بھی اچھے تھے لیکن آپ کسی کو کم نہیں کہہ سکتے کہ رب العٰلمین نے اس قانون کا لحاظ رکھا اور اپنے کسی نبی کو کم نہیں کہا۔
ہر نبی اللہ کی رحمت کا امین تھا، ہر نبی ہدایت کا سبب اور ہادی تھا۔ ہر نبی نے اللہ کی مخلوق کو اللہ سے ملانے کی کوشش کی لیکن ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن سے اللہ نے براہ راست کلام فرمایا۔ کلام متکلم کے مزاج اور اس کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے۔ آپ کسی شخص کی بات روز سنتے رہی، اس کی عادات آپ میں آ جائیں گی۔ آپ کسی بندے کو جواریوں کے ساتھ بٹھا دیں۔ وہ جوا نہ بھی کھیلے لیکن ان کی باتیں سنتا رہے تو آخر اسے جوئے میں دلچسپی پیدا ہو جائے گی۔ آپ نیکوں کی محفل میں بیٹھیں، بھلی باتیں سنتے رہیں، آپ کا بھی نیکی کرنے کو دل چاہے گا۔ آپ کسی بری مجلس میں بیٹھیں، آپ پر بھی برائی غالب آنے لگ جائے گی۔ متکلم کا سننے والے کی ذات پرایک اثر پڑتا ہے۔ پھر ان ہستیوں کو دیکھو جو اللہ کے رسول تھے اور پھر اللہ نے ان سے ذاتی طور پر کلام بھی فرمایا۔ پہلے ہی اللہ کے رسول تھے‘ منتخب بندے تھے پھر اللہ نے ذاتی طور پر انہیں اپنے کلام سے مستفید فرمایا تو ان پر کیا کیفیات وارد ہوتی ہوں گی۔ ان پر کتنی روشنیاں کتنا جمال اور اللہ کی کتنی برکات ہوں گی۔ ان کے وجود کتنے بابرکت ہوں گے! ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ اللہ فرماتا ہے میں نے اپنے رسولوں میں اس سے بھی بہت بلند درجات تقسیم فرمائے۔ہر ریڈیو سٹیشن یا ٹیلی ویژن سٹیشن میں ایک طاقت ہوتی ہے جسے Frequency کہتے ہیں اور صرف وہ سیٹ اسے وصول کرے گا جس میں اتنی Frequency کی طاقت موجود ہو۔ دوسرا ٹی وی یا ریڈیو جس کی وہ Frequency نہیں ہے وہ نہیں سنے گا۔ اب اس ٹی وی کو اس Frequency سے ہٹا کر دوسری پر کر دیں تو وہ یہ تصویر نہیں دیکھے گا۔ ایک خاص قوت، ایک خاص طاقت، ایک Frequency چاہیے جو بات کو سنے۔ میں نے نبیوں میں وہ قوت رکھی کہ انھوں نے میری ذاتی باتیں سنیں۔ اب اس کو آپ کس پیمانے سے ناپیں گے کہ وہ فریکونسی کیا ہے جو اللہ کا کلام سنتی ہے۔ کوئی پیمانہ، کوئی اندازہ ہو سکتا ہے! عقل کچھ سوچ سکتی ہے، سائنس کچھ بتا سکتی ہے کہ اللہ کی ذات کس فریکونسی پہ آتی ہے اور سننے والے میں کیا Frequency موجود ہے! یہ عقل سے بالا تر ہے۔ ہاں!عظمت رسالت پہ دلیل ہے کہ نبی اتنا امین ہوتا ہے، نبی میں اتنی استعداد ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا کلام بھی سن لیتا ہے۔ اللہ سب کی سنتا ہے لیکن اللہ کی سننا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
ہماری یہ سعادت ہے کہ ہمارے پاس اتنی بڑی کتاب ہے۔ یہ ساری اللہ کی باتیں ہیں اور اس کی ذاتی باتیں ہیں۔ کس نے براہ راست سنیں؟ سوائے ایک ہستی‘ اصدق الصادقین حضرت محمد رسول اللہﷺ کے، وحی الٰہی کا کوئی گواہ نہیںہے۔ ابو بکر صدیق ؓ جو افضل البشر بعد از انبیاءہیں، وحی الٰہی سننے کے گواہ نہیں۔ وحی صرف محمد رسول اللہﷺ نے سنی۔ یہ صرف ایک ہستی کا مقام ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے تو قیامت تک آنے والا ہر انسان اسے اللہ کا کلام ماننے کا مکلف ہے۔ نہیں مانے گا توکافر ہو جائے گا۔ اب لے آو¿ کوئی پیمانہ اور ماپ کر دکھاو¿ عظمت نبوت کو!کوئی ایسا پیمانہ نہیں ہے جس سے عظمت نبوت کو ماپا جا سکے۔