Buy website traffic cheap


فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک

فلسطین ، بلفور سے ڈونلڈ ٹرمپ تک
تحریر : رانا عبدالباق
برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بلفور کی جانب سے نومبر 1917 میں فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کے اعلان سے شروع ہونے والی فلسطینی عربوں پر ظلم و ستم کی داستان امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی رائے عامہ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے امریکی سفارت خانہ یروشلم ( بیت المقدس) منتقل کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے جس بہیمانہ طور پر فلسطینی بچوں ، عورتوں اور مردوں کا قتل عام شروع کیا ہے اُس سے دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ جمہوری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کے موجودہ جدید دور میں نازی جرمنی کے فاشسٹ ایجنڈے پر عمل کرنے والی اگر کوئی دوسری قوت ہے تو وہ صیہونی فاشسٹ قوت اسرائیل ہی ہے جسے قتل و غارت گری سے روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ البتہ اسرائیلی بہیمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے ترکی کی حکومت نے اسلامی سربراہ کانفرنس میں اسرائیلی فاشسٹ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے ۔ برطانوی حکومت نے 1917 میں اعلان بل فور کے ذریعے فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا وعدہ کیا اور اِس اعلان کیساتھ ہی صیہونی لابی نے دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا ۔ بین الاقوامی امور میں مغربی ملکوں کی بدنیتی اور منافقت اِس اَمر سے واضح ہو جاتی ہے کہ برطانیہ نے ماضی میں سازشی ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو اپنے ایک سیکریٹ ایجنٹ لارنس آف عربیا کے ذریعے پہلی جنگ عظیم کے دوران 1915/1916 میں عرب رہنماؤں سے بات چیت کے ذریعے ایک خفیہ معاہدے کیمطابق عثمانی ترک سلطنت کے خلاف مزاحمت کرنے کے وعدے پر عرب ملکوں کو آزادی دینے کا وعدہ کیا لیکن اِس کیساتھ ہی برطانیہ نے یورپ کی دوسری بڑی قوت فرانس کیساتھ ایک اور خفیہ معاہدہ کیا جسے تاریخ میں سائیکی پیکٹ معاہدے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس کے تحت عثمانی ترکوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں فتح یاب عرب علاقوں میں عربوں کو آزادی دینے کے بجائے عرب ریاستوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی گئی۔چنانچہ سائیکی پیکٹ معاہدے کیساتھ ساتھ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم میں یہودیوں کی صیہونی تحریک کی جانب سے برطانیہ کی مالی اور اخلاقی حمایت کی بنیاد پر نومبر 1917 میں فلسطین میں یہودیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان بھی کر دیا ۔
درحقیقت یہودیوں کی مالی امداد اتنی تیر بہدف ثابت ہوئی کہ عرب علاقوں کو آزادی دینے کے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بل خصوص فلسطین میں برطانیہ نے لیگ آف نیشنز کی حمایت سے برطانوی مینڈیٹ ( انتداب )کے حوالے سے اپنا قبضہ جاری رکھا تاکہ برطانوی سرپرستی میں فلسطینی عربوں کو صیہونیوں کے پُر تشدد واقعات کے ذریعے زمینوں سے بیدخل کرکے دنیا بھر سے لائے جانے والے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جائے جو فلسطینی علاقوں میں ظلم و ستم کی کیفیت میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے آج بھی جاری و ساری ہے ۔ بہرحال فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی غیر قانونی قبضے ، قتل و غارت گری اور بے پناہ ظلم و ستم سہنے کے باوجود فلسطینی عربوں نے بیت المقدس کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے آزادی کی اُمنگ کو بدترین حالات میں زندہ رکھا ہے اور بے پناہ قربانیوں کے باوجود فلسطینی اتھارٹی دریائے اُردن کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر اندرونی خود مختاری کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔
فلسطین کی تاریخ میں 29 نومبر 2012 فلسطین کی سرزمین کیلئے ظلمات کے گہرے اندھیروں میں اُمید کی نئی کرن لیکر آئی جب امریکہ اور اسرائیل کی پُرزور مخالفت کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 9 ووٹوں کے مقابلے میں 138 ووٹوں کی کثیر اکثریت سے فلسطین کو نان ممبر مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں نشست دینے کا اعلان کیا ۔ جنرل اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل اسرائیل کے چند اتحادیوں جن میں امریکہ اور برطانیہ پیش پیش تھے فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس پر شدید دباؤ ڈالتے ہوئے قرارداد کے ڈرافٹ میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جن میں اسرائیل کیساتھ غیر مشروط گفتگو کرنے کی حامی بھرنے اور اسرائیلی مشاورت کے بغیر اقوام متحدہ کے دیگر سب سڈیری اداروں کی ممبر شپ کیلئے درخوست نہ دینے کے مطالبے شامل تھے ۔ اسرائیل کے حامی مغربی ممالک فلسطین کی قرارداد کے متن میں اِن تبدیلیوں کے اِس لئے بھی خواہش مند تھے کیونکہ اِن ممالک کو یہ خدشات تھے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کے تاریخ ساز جنم لئے جانے کے بعد فلسطینی مبصر ریاست ، فلسطین کی علاقائی حدود کے تعین کیلئے 1967 سے قبل کی حدود بحال کرانے کی جدو جہد کو مہمیز دینے کے علاوہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور وقتاً فوقتاً تباہ کن ہتھیاروں بشمول فاسفورس دھماکہ خیز مواد کے ذریعے بمباری سے بے گناہ فلسطینیوں جن میں شیر خوار بچوں، طلباء و طالبات سے لیکر عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں کے قتل عام کے خلاف اقوام متحدہ کے اداروں میں قانونی جنگ لڑنے کے قابل ہو جائیگی لہذا ، امریکہ اور اسرائیل کیلئے یہ اَمر انتہائی پریشان کن ہے کہ فلسطینی نان ممبر مبصر ریاست اب اسرائیل کی اِن انسانیت سوز کاروائیوں کو منظر عام پر لانے کیلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں داد رسی کیلئے آواز بلند کر سکتی ہے ۔ یہ درست ہے کہ فلسطین کو مبصر ریاست کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں ووٹ دینے کا حق تو حاصل نہیں ہوگا لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مبصر ریاست کی حیثیت سے فلسطینی نمائندے کی موجودگی اسرائیل کیلئے اقوام متحدہ کے اداروں میں اچھائی کی آواز بلند کرنے کا ایک ذریعہ ضرور بن چکی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یکطرفہ طور پر امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینوں کے سینے حساس اسلحہ سے چھلنی کرنے پر جس میں سینکڑوں فلسطینی بچے مرد اور عورتیں شہید ہوچکی ہیں اور ہزاروں زخمی دنیا کے ضمیر کو جگانے کے منتظر ہیں پر کچھ مغربی یورپی ملکوں کا ضمیر ضرور جاگا ہے جنہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ کے باوجود اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اندریں حالات فلسطین کے حوالے سے اِن بنیادی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئیے کہ 1917 میں جب برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں تو اُس وقت فلسطین کی کل آبادی تقریباً سات لاکھ افراد پر مثتمل تھی جن میں پانچ لاکھ چوہتر ہزار فلسطینی مسلمان ، ستر ہزار فلسطینی عیسائی اور صرف چھپن ہزار فلسطینی یہودی تھے ۔ تیس برس تک فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جانے ، اُنکی پراپرٹی پر حیلے بہانوں سے قبضہ کرنے اور دنیا بھر سے لائے گئے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے بعد بھی 1947 میں بھی مسلمان اکثریت میں تھے جبکہ یہودی کل آبادی کا محض 33 فی صد تھے ، اِس کے باوجود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نومبر 1947 کی قرارداد میں تقسیم فلسطین کے حوالے سے فلسطین کے بہترین بڑے حصے پر یہودی ریاست بنانے اور کم تر حصے پر چند ٹکڑوں میں بٹی فلسطینی ریاست بنانے کا اعلان کیا لیکن اقوام متحدہ کی منظور کی گئی اِس قرارداد کے تحت بھی فلسطینی ریاست کو قائم نہیں ہونے دیا گیا اور اسرائیل نے طاقت کے زور پر فلسطین کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا چنانچہ امریکی ویٹو آج بھی اسرائیلی وجود کیلئے اہم ترین بین الاقوامی فیکٹر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ برطانیہ اور چند دیگر یورپی ملکوں میں بل خصوص امریکہ میں یہودیوں کی آبادی محض پانچ چھ فی صد ہونے کے باوجود یہودی لابی امریکی میڈیا اور اقتصادی اداروں پر اپنی مضبوط گرفت قائم رکھے ہوئے ہے جس کے اثرات امریکا کے صدارتی انتخابات پر بھی ثبت ہوتے ہیں چنانچہ 1947 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کی غیر منصفانہ قرارداد کی منظوری میں بھی کچھ امریکی شہریوں کی بد نیتی کا تذکرہ امریکی کانگریس میں بھی ہوا جب امریکی کانگریس کے ایک باضمیر امریکی رکن پارلیمنٹ لارنس ایچ سمتھ نے 18 دسمبر 1947 میں کانگریس میں اپنے خطاب میں کہا کہ کچھ امریکی شہریوں ( یہودی لابی) نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اِس متنازعہ قرارداد کی منظوری کیلئے فلپائن ، لائبیریا اور ہیٹی کے حکومتوں پر دباؤ ڈالا تھا کیونکہ اِس سے قبل ہونے والی رائے شماری میں اِن حکومتوں نے اسرائیل کے قیام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً تیس برسوں سے ہر منتخب امریکی صدر مسئلہ فلسطین حل کرانے کے نام پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت کا ڈول لٹکا کر فلسطینی لیڈر شپ پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے اُنہیں اسرائیلی مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے لیکن فلسطینی قیادت کی جانب سے متعدد معاملات پر نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود اسرائیل جدید اسلحہ کے بل بوتے پر فلسطینی آبادی کے خلاف شدت پسند فوجی اقدامات میں مصروف ہے جبکہ سفارتی بہانہ سازی سے آج بھی اقوام متحدی کی سیکورٹی کونسل میں امریکی ویٹو فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
درحقیقت گزشتہ کئی عشروں سے اسرائیل فلسطین تنازعہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں فلسطین کے حق میں قراردادوں کو امریکا کی جانب سے ویٹو کئے جانے کے باعث دو آزاد ملکوں کی بنیاد پر مستقل حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اِسی حوالے سے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ کے اہم ملک کویت کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے سبب بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف پیش کی جانے ولی قرارداد کو امریکا نے نہ صرف ویٹو کردیا بلکہ اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اسرائیل کو نام نہاد مظلوم قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے حق میں نئی قرارداد پیش کی جسے سیکیورٹی کونسل کے بیشتر اراکین نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مسائل کو بات چیت سے حل کرنا ہمیشہ ہی سے ایک بہتر آپشن ہے۔ پا پا ئے روم بھی اپنے حالیہ بیانات میں مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان بقائے باہمی اور بات چیت کے ذریعے غلط فہمیوں کے تدارک پر زور دیتے رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظہور اسلام کے وقت سے ہی عربوں اور یہودیوں کے مابین ایک قسم کا سماجی توازن قائم ہو گیا تھا۔ فلسطین میں بنو امیّہ کے دور میں بھی عیسائیوں اور یہودیوں کی مذہبی رسومات میں مداخلت نہیں کی گئی اور وہ اپنے اپنے مذاہب کے ضابطہ اخلاق کے مطابق اپنی سماجی زندگی گزارتے رہے۔ بنو عباس کے زمانے میں یہودیوں نے اہم حکومتی منصبوں پر کام کیا۔ بہت سے یہودی دانشوروں نے عربی زبان پر بھی عبور حاصل کیا اور اپنی تخلیقات کے زریعے نام پیدا کیا۔ ان دانشوروں میں موسی میمونائڈز کا نام قابل ذکر ہے۔ عربوں اور یہودیوں کے مابین شمالی افریقہ اور مسلم سپین میں بھی دوستانہ تعلقات عروج پر رہے۔ یہودیوں پر سپین اور یورپ میں مظالم ہوئے تو مشرق وسطی کے ممالک ہی اُن کے لئے بہترین پناگاہ سمجھے جاتے تھے۔ لیکن دونوں مذاہب کے مابین صدیوں سے قائم یہ سماجی رابطہ اُس وقت ٹوٹ گیا جب یہودیت پر صیہونیت کے سائے منڈلانے لگے۔ یہودیوں پر ظلم و ستم تو یورپ میں فاشسٹ نازی جرمنی نے کیا لیکن اُس کا بدلہ فلسطین میں لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں یہودی لابی اینگلو امریکن حوصلہ افزائی کے باعث دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک سماجی فکر و نظر رکھنے والے وہ یہودی ہیں جنہوں نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں میںیہودی مذہبی ضابطہ اخلاق کو قائم رکھتے ہوئے اِن ملکوں کے قوانین اور رسم و رواج کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیا ہے اور دوسرے وہ جنہوں نے صیہونیت یا سیاسی یہودیت یعنی صیہونی فلاسفی کی فاشسٹ نظیروں کے مطابق فلسطین میں ایک انتہا پسند مذہبی ریاست اسرائیل کے قیام کے لئے شدّت پسند سیاسی تحریک شروع کی تھی۔پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت برطانیہ نے صیہونی اداروں کی سیاسی اور مالی حمایت حاصل کرنے کے لئے فلسطین میں یہو دیوں کا قومی گھر بنانے کا اعلان کیا جس کے باعث مشرق وسطیٰ میں شدت پسندی کو فروغ حاصل ہوا ۔ اس لئے 1917 کے اعلانِ بلفور کے ساتھ ہی عربوں اور یہودیوں کے درمیان دوستی کے بجائے دشمنی کے جذبات بیدار ہونے شروع ہو ئے۔ چنانچہ صیہونی تحریک نے فلسطین میں برطانوی انتداب کی فوجی موجودگی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جس ظالمانہ انداز میں فلسطینیوں کو اُن کی ز مینوں سے بے دخل کرنے اور اوریہودیوں اُنکی جگہ بسانے کا سلسلہ شروع کیااُس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
درج بالا تناظر میں مشرق وسطیٰ میں امریکی گیس و تیل کے مفادات کے پیش نظر گذشتہ تقریباً تیس برسوں سے ہر منتخب امریکی صدر مسئلہ فلسطین حل کرنے کے نام پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان بات چیت کا ڈول لٹکا کر فلسطینی لیڈر شپ پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے اُنہیں اسرائیلی مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے لیکن فلسطینی قیادت کی جانب سے متعدد معاملات پر نرم رویہ اختیار کرنے کے باوجود اسرائیل جدید اسلحہ کے بل بوتے پر فلسطینی آبادی کے خلاف انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرتے ہوئے بہیمانہ فوجی اقدامات میں مصروف ہے جبکہ سفارتی بہانہ سازی کی آڑ میں امریکی صدور بل خصوص ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی امریکی ویٹو کو اسرائیل کے حق میں سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے فلسطین میں دو ریاستی حل کے حوالے سے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مغربی ملکوں میں یہودی لابی مغربی عوام کے ذہنوں کو مسخر کرنے کیلئے مغرب کے کچھ مفکرین کے ذریعے ڈِس انفارمیشن کو حربے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے نام نہاد تحقیقی مقالوں اور کتابوں کے ذریعے اسلامی تہذیب کے اقتصادی اور معاشرتی نظام کو مغربی سرمایہ دارانہ نظام کیلئے بڑی رکاوٹ گردانتے ہوئے مسلم ریاستوں کے خلاف تہذیبی کشمکش کو مغربی فکر و نظر کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔ اِن میں 1918 میں شائع ہونے ہونے والی کتاب ” مغرب کا زوال ” کے مصنف اَسوالڈ سیپنگلر جس میں مسلم ریاستوں کو مغربی ممالک کے مبینہ زوال کی وجہ قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے، 1990 میں شائع ہونے والے مقالے ” مسلم برہمی کی جڑیں ” کے مصنف برنارڈ لیوس جنہوں نے اپنے مقالے میں مسلم فکر و نظر کو مغربی ممالک کے خلاف تیزی سے اُبھرنے والی تحریک سے تعبیر کیا ہے اور 1993 میں شائع ہونے والی کتاب ” تہذیبوں کا ٹکراؤ ” کے مصنف سیموئل ہٹنگٹن نے تو افغان جہاد کے بعد پیدا ہونے والی دہشت گردی کو مغرب کے خلاف تہذیبی ٹکراؤ کے مترادف ہی قرار دیدیا ہے ۔
حقیقت یہی ہے کہ موجودہ جمہوری یورپ ، امریکا اورآسٹریلیا کی نئی نسلیں یہ نہیں جانتی ہیں کہ اُن کی عمل داری قائم کرنے کیلئے امریکہ اور آسٹریلیا میں تیس ملین مقامی لوگوں کا قتل عام کیا گیا تھا ۔ مغربی استعمار نے دیگر ملکوں پر قبضہ کرتے ہوئے بھی تقریباً چالیس ملین لوگوں کا قتل عام کیا اور افریقہ کے پچیس ملین لوگوں کو امریکہ میں غلاموں کی تجارت کے ذریعے بدترین زندگی گذارنے پر مجبور کیا گیا چنانچہ جنوبی افریقہ میں نسلی بنیادوں پر کالوں کے حقوق کی پامالی بیسویں صدی تک جاری رہی ۔لہذا مغربی دانشور اپنے مقالوں میں اپنا گِلٹ چھپانے کیلئے اسلام پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اسلام نے قرآن حکیم میں یہ کہہ کر معاشرتی توازن قائم کرنے کی بنیاد رکھ دی تھی کہ “آپ کا مذہب آپ کیلئے اور میر ے لئے میرا مذہب ” لہذا دیگر مذاہب کے خلاف اسلام شدت پسندی کی تلقین نہیں کرتا۔ اِس کی مثال خلافت عثمانیہ کے زمانے میں بھی دیکھی جا سکتی کہ اگر کسی عیسائی یا یہودی کو زبردستی مسلمان بنانے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے مسلمان کے خلاف تادیبی کاروائی کی گئی ۔ جنگوں کے دوران بھی عام شہریوں کے خلاف مسلم رواداری کا جذبہ ہمیشہ ہی موجزن رہا ۔ اِس کے برعکس جب عیسائی فاتحین نے 1099 میں فلسطین پر قبضہ کیا تو تیس ہزار مسلمانوں اور یہودیوں کا قتل عام کیا گیا لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں فلسطین فتح کیا تو اُنہوں نے نہ صرف مقامی عیسائیوں اور یہودیوں کو تحفظ فراہم کیابلکہ اُن کے مذہبی مقامات کی بھی حفاظت کی گئی۔لیکن فلسطین پر 1917 میں برطانوی قبضے کے بعد نہ صرف اکثریتی مسلمان آبادی کے حقوق کی پامالی کرتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کا وطن بنانے کی سازش کی گئی بلکہ آج تک فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ آج کے دور میں کسی بھی مسلم اکثریتی ملک میں اقلیتوں کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا رہا ہے کیونکہ کسی بھی مسلمان ملک میں اقلیتی آبادی کا تناسب تبدیل نہیں ہوا ہے جبکہ امریکہ اور یورپی ملکوں میں دیگر مذاہب کے لوگ آزادانہ طور پر اسلام قبول کر رہے ہیں جس کی ایک جھلک اِن ممالک میں آبادی کے تناسب سے محسوس کی جاسکتی ہے لہذا ، سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام دباؤ یا قتل و غارت گری کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے آفاقی اصولوں کی بناہ پر پھیلا ہے اور اِسے کسی طرح بھی اسلام کی بے مقصد جنگجوانہ تہذیبی کشمکش کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اگر اِسے تہذیبی کشمکش سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اِس کی ایک وجہ مسلم ممالک پر مغرب کے بے پایاں کنٹرول ،سیاسی غلبے اور گلوبل بالادستی قائم کرنے کی پالیسی ہے جسے کچھ مسلم ممالک میں مغرب کے خلاف نفرت اور شدت پسندی کے جذبات کے اُبھار کی اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ مغرب کے منفی پراپیگنڈے نے مذہبی بنیاد پرستی اور مغرب مخالف اندرونی سیاسی دباؤ میں بتدریج ا ضافے کو ہوا دی ہے جس کا تدارک مذاہب کے مابین روابط اور ڈائیلاگ کو فروغ دیکر کیا جا سکتا ہے ۔ بہرحال برطانوی لارڈ بلفور سے لیکر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک فلسطین میں مذہبی توازن کی پالیسی قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کے باعث دنیا میں دہشت گرد ی کو فروغ حاصل ہوا ہے۔
مسئلہ فلسطین کے تاریخی پس منظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ برّصغیر ہندوستان میں تحریکِ خلافت کے بعد مسلمانانِ ہند کیلئے مسلمانوں کے قبلہ اوّل کے حوالے سے فلسطین میں جبر و تشدد کی پالیسی کے پیش نظر یہودی ریاست کا قیام کسی پہلو سے بھی ایک لمحہ فکریہ سے کم نہیں تھاجبکہ قائداعظم محمد علی جناح ماضی میں برٹش انڈیا کے شہری ہونے کے باوجود فلسطین میں ہونے والے ظلم و ستم پر ہمیشہ ہی مضطرب رہے ۔ 2 نومبر 1917 برطانوی فوجیں فلسطین میں داخل ہوئیں اور بعد میں لیگ آف نیشنز کے حکم پر دسمبر 1947 تک برطانوی مینڈیٹ فلسطین میں قائم رہا جب اینگلو امریکن منصوبے کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کو دو غیر متوازن ریاستوں اسرئیل اور فلسطین میں تقسیم کر دیا گیا جبکہ فلسطین کی آزاد ریاست کو قائم نہ ہونے دیا گیا اور فلسطین کے بیشتر علاقوں پر اسرائیل نے جنگ مسلط کرکے طاقت کے زور پر قبضہ کرلیا ۔
فلسطینی عربوں پر ظلم و ستم اور برطانوی حکومت کی عربوں کو آزادی دینے کے وعدے کی خلاف ورزی اور فلسطین کی غیر متوازن تقسیم کی پیش گوئی قائداعظم نے 1937 اور 1938 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاسوں میں خطبہ صدرات پیش کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے چنانچہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے فلسطینیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہماری تمام تر ہمدردیاں اُن بہادر غازیوں کیساتھ ہیں جو غاصبوں کے خلاف حریت کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ 15 اکتوبر1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح نے لکھأو میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت کے حوالے سے کہا تھا : ” اب میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جس کا مسلمانانِ ہند پر گہرا اثر پڑا ہے۔ برطانیہ کی پالیسی شروع سے آخر تک عربوں کو دھوکہ دینے کی رہی ہے۔ برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران عربوں سے کئے گئے اُس وعدے کو پورا نہیں کیا جس میں عربوں کو مکمل آزادی کی گارنٹی دی گئی تھی۔ عربوں کے ساتھ جھوٹے وعدے کر کے بر طانیہ نے بد نام زمانہ اعلانِ بل فور کے ذریعے یہودیوں کیساتھ مل کر اپنے آپ کو عربوں پر مسلط کر دیا تھا اور اب یہودیوں کے لئے ایک قومی وطن بنانے کی پالیسی کے اعلان کے بعد اب برطانیہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اگر اس پالیسی کو نافذ کر دیا گیا تو عربوں کے اپنے وطن میں ان کی آرزوؤں اور تمناؤں کا خون ہو جائے گا۔ میں صرف مسلمانانِ ہند کی ہی نہیں بلکہ مسلمانانِ عالم کی ترجمانی کر رہا ہوں اور تمام انصاف پسند اور فکرو نظر رکھنے والے لوگ میری تائید کریں گے جب میں یہ کہوں گا کہ اگر برطانیہ نے عربوں سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ برطانیہ اسلامی دنیا میں اپنی قبر خود کھود رہا ہے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ برطانوی حکومت فلسطینی عربوں کے خلاف تشدد پر اُتر آئی ہے ۔ چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے میں اُن کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ مسلمانانِ ہند اس منصفانہ اور جرأت مندانہ جدوجہد میں فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد کریں گے” ۔26 دسمبر 1938 میں قائد اعظم نے پٹنہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : ” دوسرا اہم مسئلہ جو سبجیکٹ کمیٹی میں پیش ہو گا وہ فلسطین کا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس مسئلے نے مسلمانوں میں کس قدر اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عربوں کے ساتھ بے شرمانہ سلوک کیا گیا ہے۔اُنہیں سنگین کی نوک پر مارشل لاء جاری کر کے دبایا جا رہا ہے۔ فلسطینی عرب قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری تمام ہمدردیاں ان بہادر غازیوں کے ساتھ ہیں جو غاصبوں سے حریت کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں” ۔فلسطین کے موضوع پر اِسی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے قائد اعظم نے 5 جون 1946 میں دہلی میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس میں فرمایا: ” اینگلو امریکن کمیٹی نے فلسطین میں ایک لاکھ یہودی بھیجنے کی سفارش کی ہے جو قابل مذمت ہے۔ یہ انتہائی بے ایمانہ فیصلہ ہے اور اس میں انصاف کا خون کیا گیا ہے۔عربوں کو چاہیے کہ وہ ان غیر منصفانہ سفا ر شات کا مقابلہ کریں اور غیر ملکی یہودیوں کو فلسطین میں داخل نہ ہونے دیں ۔
قیام پاکستان کے بعد بھی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی یہی پالیسی قائم و دائم رہی۔ 19 دسمبر 1947 میں گورنر جنرل پاکستان کی حیثیت سے قائد اعظم نے بی بی سی کے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اقوا م متحدہ کے غیر منصفانہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی دوست ملک امریکہ یا دیگر کسی ملک کو ناراض کرنا نہیں چاہتا لیکن ہماری انصاف کی فطرت ہمیں مجبور کر رہی ہے کہ ہم ہر ممکن طریقے سے فلسطین میں عربوں کی کاز کی مدد کریں۔ چنانچہ یمن کے بادشاہ کے نام ایک ٹیلی گرافک پیغام میں قائد اعظم نے کہا کہ اُنہیں فلسطین کے بارے میں اقوام متحدہ کے غلط فیصلے سے حیرت ہوئی ہے اور صدمہ پہنچا ہے۔ میں اپنے عرب بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہے اور انکی ہر ممکن مدد کریگا۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان چونکہ خود کشمیر میں جارحیت اور بے انصافیوں کا شکار رہا ہے اور ماضی میں عرب ملکوں کی اکثریت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ اوراسلامی کانفرنس کے ایوانوں میں پاکستان کی بھر پور حمایت کرتی رہی ہے اس لئے پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین کی حمایت مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہنے کے علاوہ حق و انصاف کے اصولوں پر ہی مبنی رہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے خارجہ پالیسی کی بنیاد تو قائد اعظم نے جراتِ رندانہ اختیار کرتے ہوئے برطانوی حکومت ہند کے دور میں ہی رکھ دی تھی جب برطانوی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف رائے رکھنے پر ہندوستانی سیاسی رہنماؤں کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جاتا تھا۔ چنانچہ قائداعظم کی بنائی گئی اِسی پالیسی کو قیام پاکستان کے بعد بھی عملاً اختیار کیا گیا ۔ بہرحال ، پاکستان میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی کو ہر دورِ حکومت میں جاری و ساری رکھا گیا ہے اور خصوصیت سے ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں بھی مسلمانوں کے قبلہ اوّل کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اِسی پالیسی کا بھرپور اعادہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ جب 1969 میں اُس وقت دنیا بھر میں مسلم امّہ کے جذبات انتہائی مجروح ہوئے جب انتہا پسند صیہونیوں نے مسلمانوں کے قبلہ اوّل مسجد اقصیٰ میں آگ لگانے کی بھیانک واردارت کی چنانچہ اِس مرحلے پر دیوار گریہ کی کھدائی کے صیہونی منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کے ارد گرد موجود اسلامی ورثہ کی تباہی کا پلان بھی نوٹس میں آیا تو جولائی 1979 میں مراکش کے شاہ حسن دوم کی قیادت میں القدص کمیٹی قائم کی گئی اور ا،س کمیٹی نے عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کی توجہ اسرائیل کے اِن غیر انسانی منصوبوں کی جانب مبذول کرائی تو پھر القدس کی مجموئی صورتحال میں بھی تبدیلی کا عنصر دیکھنے میں آیا ۔ صد افسوس کہ بیت المقدس اور فلسطین کے دوریاستی حل کے حوالے سے معاملہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہونے کے باوجود امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قبلہ اوّل کی پاک سرزمین پر اسرائیلی جارحیت کو مہمیز دینے کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس کی سرزمین پر منتقل کر دیا ہے جس کے فوراً بعد اسرائیل نے پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں کو خون میں نہلا کر رکھ دیا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔ یہ اَمر قابل اطمینان ہے کہ پاکستان کے بجائے اِس مرتبہ خود ترک حکومت نے فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف اسلامی ملکوں کی کانفرنس کا انعقاد ترکی میں کیا جہاں صدر ٹرمپ اور اسرائیل کی فاشسٹ پالیسیوں کی سخت مذمت کی گئی۔حقیقت یہی ہے کہ عراق، شام اور لبنان میں اسرائیل، امریکا اور برطانیہ کی مداخلت کے سبب عرب ممالک سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور مسئلہ فلسطین پر مضبوط موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ اندریں حالات ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ پاکستان کو ترکی کے ساتھ مل کر مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن و امان کی فضا قائم کی جا سکے جس کے منفی اثرات پاکستان پر بھی ثبت ہوتے رہے ہیں ۔ ۔ختم شد۔