Buy website traffic cheap

امت کی وحدانیت

فلسفہء حیات!

ٓآہستہ آہستہ
آصف ظہوری
ہمیں یہ زندگی ایک خاص مقصد کے تحت عطاءکی گئی ہے، اس مقصد کو تلاش کرنا اور پانا ہماری اوّل خواہش ہونی چاہیے اس کے لئے دو باتیں ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں پہلی بات یہ کہ دنیا میں ذرے ذرے کاا نحصار اللہ تعالیٰ کے اشارہ پر ہے جبکہ دوسری بات یہ ہے کہ ہم پوری طرح بااختیار ہیں ۔ا س کے ساتھ اگر ایک تیسری بات اور شامل کرلیں تو سونے پہ سہاگہ ہوگاوہ یہ کہ کامیاب زندگی کا معیار کچھ لینا نہیںکچھ دینا بنالیں ،آپ کی قسمت بدل جائے گی بہرحال یہ تبھی ممکن ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں سے کام لیں گے۔صلاحتیں پہچاننے کا واحدذریعہ صرف ایمان کی پختگی اور عبارت ہی ہیں جو انسانی عمل کی بنیاد ہونا چاہیے تاکہ آپ کی زندگی کی عمارت تعمیر ہونے میں کوئی کسر نہ رہ جائے اگرایک بارآپ ا پنی صلاحیتوں سے آگہی حاصل کرگے تب اب کو آگے بڑھنے سے کوئی طاقت نہیں رک سکتی۔موجودہ دور میں میرے مشاہدے میں جوبات وحالات سب زیادہ دیکھنے میں آئے ہیںوہ ہیںحالات کی ناخوشگواری ،جس کا شکوہ بہر کوئی کرتا پھرتا ہے سو میری نظر میںجو لوگ اپنے حالات کی ناخوشگواری کو قبول کر کے اپنا راستہ خود نکالنے کی کوشش کرنے کی بجائے اپنی قسمت پر روتے ہیںمیرے خیال میں ایسے لوگ کسی قسم کی ہمددری کے قابل نہیں، بلکہ جو لوگ اپنے اوپر زندگی کا زیادہ بوجھ محسوس کرتے ہیں (جو ان کا اپنا خیال ہوتا ہے) وہی زیادہ خوش قسمت ہیں کیونکہ اگروہ اس بوجھ کوقبول کرلیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ انسانی مسرت کی گہرائی اسی قدر زیادہ ہوتی ہے جس قدر زیادہ تلخ مصائب کے تجربات سے اسکو واسطہ پڑتاہے ،ہر شخص کا میابی پر حاصل ہونے والی مسرت کی نوعیت سے واقف ہے لیکن یہ مسرت ہمیشہ اسی قدر گہری اور بھرپور ہوتی ہے جس قدر رکا وٹوںسے اس کامیابی تک پہنچے سے قبل واسطہ پڑچکا ہو، اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے باغ میںبہار کی کلیاں نکلنے سے قبل ہر درخت کو خزاں کی ویراینوں کے تجربہ سے گزرنا ضروری ہوتاہے اسلئے اگرہمیں یہ یقین ہو کہ ہمارے اندر ایک ایسی قوت موجود ہے جس سے ہم ضرورت کے وقت کام لے سکتے ہیں تو اسکے بعد رکاوٹیں جس قدر زیادہ اور بھاری ہوں گی اسی قدر برکت اور بہتری کا باعث بنیں گی کیونکہ اسے کوئی نام بھی دیاجائے لیکن اصل بات یہی ہے کہ زندگی میں رکارٹوں اور مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کرتے وقت ہی انسان کی اصل پوشید ہ صلا حتیں ظاہر ہوتی ہیںاور اس طریقہ سے آدمی اپنے آپ کو پہچان سکتا ہے میں جب اپنے اندر اپنی صلاحیتوں کے بارے میں سوچتا ہوںتو جو نظر یہ پختہ ہو کرمیرے سامنے واضح ہوتاہے وہ یہ ہے کہ ہماری صلاحیتوں ہمارے تحفظ اوربقاءکے لئے ہمارے ہتھیار ہیںان کے ذریعے ہمیں ہمیشگی کی حامل بقاءحاصل ہوسکتی ہے یعنی انسان کو اپنے مقاصد ،جواس کے ذمے لگا دیئے گئے ہیں ،کی تکمیل کے لئے بھرپور صلاحیتوں سے مسلح کرکے اس دنیا میں بھیج دیا گیالہذا کامیابی اور ناکامی کے درمیان قلابازی کھاتی اس زندگی کو غور سے دیکھیں مثلاََ ہر شخص کی زندگی میں کامیابی کے بعد کا وقفہ موجود ہوتاہے جس کا مقصد صرف یہ ہوتاہے کہ آدمی ذرادیر ٹھہر کر ا پنی ترقی کی رفتا رکا اندازہ لگا سکے لیکن یہ بات واضح ہے کہ دنیا میںایسی کوئی کامیابی نہیں جس کے بعد انسان کو مزید آگے بڑھنے کی ضرورت پیش نہ آئے کیونکہ انسانی کامیابیوں کے امکانات بے اندازہ ہیں اور ان کی کوئی حد مقر نہیں کی جاسکتی۔
ایک مشہورقول ہے کہ جو کوئی تمنا کرتاہے لیکن عمل سے عاری رہتاہے وہ خرابی پھیلا تاہے یعنی جن خیالوںکا کوئی مدّ عا، کوئی منزل نہیں وہ خطرناک ہوتے ہیں ،عمل کا بندہ زندگی کی پیچید گیوں سے نہیں گھبراتاہے وہ ان سے وقت آنے پر براہ راست نپٹ لیتا ہے ، مگر عمل بالذات کافی نہیں، ہمارا ہر کام اس سماج کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے جس کے ہم رکن ہیں مثلاََ اگر آپ انقلابی ہیں تو انقلابیوں کی سنگت ہی مناسب رہے گی سو یہ یاد رکھیں انسانی مسائل اور معاملوں میں کبھی مشکل توازن کا امکان نہیں ہو سکتا یقین محکم، دانش اورآرٹ ۔۔کچھ عرصے کے لئے انسانی مسائل میں توزان کی کیفیت پیدا کردیتے ہیں پھر خارجی حالات اور انسانی روح کی بے چینیاں، اس توازن کو تلپٹ کر دیتی ہےں ۔پھر نئے سرے سے یہی کچھ کرنا پڑتا ہے ۔گویا ایک نقطے کے گرد یہ لرزش ہی زندگی ہے۔