Buy website traffic cheap

لب پہ تو ترقی کا نغمہ ہے

لب پہ تو ترقی کا نغمہ ہے ،پر روٹی قوم کے پاس نہیں … ؟

لب پہ تو ترقی کا نغمہ ہے ،پر روٹی قوم کے پاس نہیں … ؟
محمداعظم عظیم اعظم
آج مہنگائی نے تو قوم کا ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے ۔ ، قوم اپنی زمین پر پیداہونے والی سبزیوں تک کوتو مہنگے داموں خریدنے پر مجبورہے۔ اور مُلک کا ایک بڑاغریب طبقہ اِس مہنگائی کے ظالم دورمیں اِن مہنگی ترین سبزیوں کو بھی خریدنے سے قاصر ہے۔ آج پھل اورسبزیوں کی قیمتوںکوتوجیسے پَر لگ گئے ہیں۔ یہ آسمانوں کی بلندیوں سے بھی اُونچااُڑرہے ہیں؛ اور آلو ، پیاز جو زمین کے اندرپیداہوتے ہیں زائد قیمت کے بوجھ سے وہ زمین سے بھی باہرنہیں آرہے ہیں۔ اِن کا مصنوعی بحران پیداکرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ اِس حکومت کے چندمفادپرست اِس کے اِس بحران سے فائدہ اُٹھاسکیں؛ اور آلو پیاز کی ذخیرہ اندوزی کرکے مارکیٹ سے زائد منافع کماسکیں۔ بہرحال..!کسی وجہ سے مُلک میں آلواور پیاز کا بحران پیداہونے سے رہ گیااوراگر ایساہوجاتاتو یقینااُن لوگوں کو ہی فائدہ پہنچتاجو اِس کا مُلک میں مصنوعی بحران پیدا کرناچاہ رہے تھے۔
اِن حالات میں اَب حکمرانوں کو کون یہ بتلائے کہ قوم تو بیچاری بھوکی پیاسی ہے۔ اوریہ رُوکھی سُوکھی روٹی کو بھی ترس رہی ہے ، آج اِس عالم میں اِس کا کوئی پرسانِ حال بھی نہیں ہے ، یہ بیچاری توبس جیسے تیسے ایڑیاں رگڑرگڑاور اپنے منہ سے مکھیاں ہکاں ہکاں کر اپنے دن پورے کررہی ہے ۔
مگراُدھرہمارے حکمران ہیں کہ یہ اپنی مفلوک الحال قوم کی فکرکرنے اور اِس کی حالتِ زندگی سنوارنے کے بجائے، اپنے لبوں پہ دنیادِکھاوے کے لئے مُلکی ترقی اور عوامی خوشحالی کا ہی نغمہ سجائے قومی خزانے سے سرکاری خرچے پر کبھی اپنے وزراءتواکثراپنی فیملی ممبران کے ساتھ دیس دیس کے سیرسپاٹے کرتے ہی نہیں تھک رہے ہیں۔
حالانکہ گیارہ مئی کے عام انتخابات سے پہلے اپنی معرکہ آرا(معرکتہ الآرا یہ امِلا غلط العام ہے )انتخابی مہم جوئی کے دوران اور پھر اِس کے بعد برسرِ اقتدارآنے والی جماعت پاکستان مُسلم لیگ(ن) اور اِس کے سربراہ اور ہمارے سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف اور موجودہ وزیراعظم شاہد قاخان عباسی سمیت ن لیگ کے ہر رُکن نے قوم کو خوشحالی اور ترقی کے جیسے خواب دِکھلائے ؛ آج اگروہ سب کے سب پہلے ہی روز سے حقیقت میں سچ ثابت ہونا شروع ہوجاتے تویقینا اِن پانچ سات مہینوں میں مُلک میں کچھ نہیں توتھوڑی بہت ہی سہی ترقی ضرور نظرآتی اور عوام کے چہروں پر برسوں سے اٹّی مایوسی اور نااُمیدی کی گرد بھی ضرورصاف ہوتی جاتی اور عوام کے چہرے خوشیوں سے ٹمٹمااُٹھتے۔
آج مگرافسوس ہے کہ اَب تک ایساکچھ نہیں ہواہے۔ جس کا ہماری سابق حکمران جماعت پی ایم ایل (ن)کے سربراہ ا ور نااہل وزیراعظم میاں محمدنوازشریف نے اپنی معرکہ آراانتخابی مہم جوئی کے دوران عوام سے کرنے کے وعدے اور دعوے کئے تھے ۔ آج ن لیگ کو اقتدارسنبھالے اتناعرصہ گزرجانے کے باوجود بھی عوام کے حصے میں پہلے سے کہیں زیادہ نامرادی اورمایوسیاں ہی آئی ہیں، اِس کی کیا کیاوجوہات ہیں..؟، مجھے اِن کی تفصیلات میںاپنے اِس محدودسے کالم میں جانے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ میں یہ سمجھتاہوں کہ آج جو میرے قارئین میرایہ کالم پڑھ رہے یا پڑھیں گے وہ اُن تمام وجوہات کو خُوب جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے حکمران ایساکچھ کیوں نہیں کررہے ہیں؟ کہ جس کے کرنے سے عوا م کو مہنگائی اور توانا ئی اور پانی جیسے بحرانوں سے نجات ملے، اور عوام کو اِس بات کا احساس ہو چلے کہ چلو کوئی تو ایساحکمران پیداہواہے جِسے عوامی مسائل اور پریشانیوں کا دردہے،اور وہ عوام کو اِن کے مسائل اور پریشانیوں سے نجات دلانے کے لئے کمربستہ ہے ۔
جبکہ دوسری طرف ہمارے حکمران ہیں کہ مایوسیوں اور نااُمیدوں کے گہرے سمندرکی تہہ سے جالگنے والے اپنے عوام کو ترقی و خوشحالی کے ترانے تو سُناتے نہیں تھک رہے ہیں،مگریہ عوام کومہنگائی اور بجلی و پا نی اور دیگر سنگین نوعیت کے بحرانوں سے نجات دلانے اور کسی بھی معاملے میں ریلیف دینے یا دلانے والے اقدامات و احکامات بھی توجاری نہیں کررہے ہیں ۔ آج اگراِس صُورت حال میں بالفرض عوام یہ مان بھی جائیں کے مُلک میںمہنگائی اِس لئے بے لگام ہوچکی ہے کہ مُلکی اور عالمی سطح پر ڈالرزکی قیمت بڑھ گئی ہے؛ اِس وجہ سے بیرونِ ممالک سے جوروزمرہ استعمال کی اشیائے خوددونوش مُلک میں آتی ہیں۔ حکومت کو وہ بین الاقوامی منڈی سے مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہیں۔ اِس لئے اشیائے خودونوش مہنگی ہوجاتی ہیں ۔
مگر آج تو اِس عوام دوست ن لیگ حکومت کے دعویداروں نے تو اپنی ہٹ دھرمی اور بے حسی کی حد ہی کردی ہے، اِنہوں نے تو اپنے یہاں پیداہونے والی ہرغریب وامیرکی روزمرہ کھانے پینے والی استعمال کی اشیاجن میں ٹماٹر، آلو، پیاز اور چینی اور پھولوں جیسی دیگرروزمرہ استعمال کی اشیا بھی شامل ہیں۔ اِن کی بھی جو قیمتیں آسمانوں سے بھی زیادہ بلندترین سطح تک بڑھادی ہیں؛ اور آئندہ بھی اِن کی قیمتیں بڑھنے کے خدشات ہیں۔ یہ سب کس کے لئے اور کس کے کہنے پر کی گئی ہیں، اور یہ کونسی ایسی اشیا ہیں، کہ اِن پر براہ راست ڈالرزکے بڑھنے یا گھٹنے کا اثر ہوتاہے یا یہ اشیا باہر سے منگوانی پڑتی ہیں.. ؟ ہاں اِس حکومت میں واہگہ بارڈر کے راستے ہندوستان سے ٹماٹر،پیازاورآلو اِس لئے منگوانے پڑتے ہیں کہ ہندوستان سے ٹریڈاور تعلقات استوارہوجائیں، سابقہ حکومت ہندوستان سے سیاسی تعلقات بہترکرنے کے لئے ٹماٹر،پیازاور آلو وہاں سے منگواتی رہی ہے، ورنہ تو اِس کی بھی کوئی خاص ایسی ضرورت تو نہیں تھی کہ ہندوستان سے یہ اشیافضول میںمنگوائی جاتیں اور ہم ہندوستان اور ہندوستانی بیوپاریوں کے نخرے برداشت کرتے، اور جب ہندوستانی ہم سے ناراض ہوجاتے تو وہ تُرنت ہمیں ٹماٹر، آلواور پیاز دینابندکردیتے ، تو ہمارے حکمران اِسے بہانہ بناکراپنے یہاں ٹماٹر، آلواور پیاز کی قیمتیں بڑھاکر اِسے آسمانوں کی بلندیوںسے بھی اُونچی کردیتے اوریوں عوام کو مہنگائی کے عذاب میں دھکیل دیتے،اِن حکومتی حربوں سے عوام مہنگائی کے جہنم میں ہی بھسم ہوتے رہے ، اور وہ مزے سے مُلک میں ترقی و خوشحالی کے نغمے ہی گاتے رہے ، جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر رُوکھی سُوکھی دووقت کی روٹی سے بھی محروم رہے۔
آج اِس سے بھی کوئی ذی شعورتوکیا کوئی عام ساذہن رکھنے والاپاکستانی بھی ایسانہیں ہوگاجو یہ نہ سوچتااورسمجھتاہوکہ جب سے ن لیگ کے سربراہ اور بزنس مائنڈوزیراعظم میاں محمدنوازشریف کی حکومت آئی تھی تب ہی سے مُلک میں مہنگائی ،بھوک و افلاس ، تنگدستی، اقرباءپروری، لوٹ مار، قتل وغارت گری، کرپشن، خودکشی کے رجحانات اور میرٹ کاقتل ہوناایک عام سی بات ہوگئی تھی، اور آج نوازحکومت کا ایک یہ بھی کارنامہ ہے کہ تب سے نوازلیگ نے اقتدار سنبھالاتھا جب سے ہی مُلک میں توانائی کی شکل میں آئے بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگربحرانوں میں کمی آنے کے بجائے اِن بحران اور اِن بحران زدہ اشیا کی قیمتوں میں روزافزوں اضافہ ہونابھی کوئی اچنبے/اچنبھے کی بات نہیںرہی تھی۔ حکمران جماعت ن لیگ کے سربراہ اور وزیراعظم پاکستان میاں محمدنوازشریف اور وزیرخزانہ اسحاق ڈارسمیت سب حکومتی کارندوں کو یہ پڑی تھی کہ مُلک میں آئی ایم ایف کے گڑے پنچے کوئی نہ اُکھاڑے اور اِس کے یہ پنچے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزیدگڑتے اور پھیلتے جائیں ، چاہئے عوا م کو جتنی تکالیف اُٹھانی پڑیں تو وہ اُٹھائے، مگرمُلکی معیشت کے استحکام اور اقتصادی ڈھانچے کی مضبوطی کے لئے عوام کو گڑوی گولیاں مہنگائی کے زہرکے ساتھ ہر حال میں نگلنی ہوں گی۔ اَب اِسے عوام اپنے حکمرانوں کا حکم سمجھے ،التجایا مشورہ سمجھ کر ایساکرے جیسااِنہیں عوام سے کرانے کے لئے آئی ایم ایف ،ورلڈبینک یا امریکا حکم دیتاہے اور یہ اِن سے حکم ملتے ہی فوراََ اپنے عوام کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔
یہاں یہ امربھی باعث تشویش ضرور ہے کہ سابقہ ن لیگ کی حکومت کے آنے کے بعد مُلک کے غریب طبقے کا یہ حال ہواہے کہ آج وہ سبزی خریدکر کھانے کے بھی قابل نہیں رہاہے،آج مُلک کے غریب طبقے کا اتناحال بُراہوگیاہے کہ عوام کو دووقت کی روٹی سُوکھی روٹی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے اِس سے زیادہ حکمران اِس سے اور کیاتوقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ کیا حکمران یہ چاہتے ہیں کہ دووقت کی رُوکھی سُوکھی روٹی سے بھی محروم مُلک کاغریب طبقہ اِن کی حکومت چلانے کے لئے اپنے جسم میں موجودخون اور روح کا بھی ٹیکس اِنہیں اداکرے، تو اِس سے حکمرانوں کی سیرسپاٹے کی گاڑی اور مُلک کی معیشت کا پہیہ چلے …؟اور ہمارے بے حس حکمران اور اِن کے خاندان کا ہر فردمزے کرے۔ اگرحکمران قوم کے غریبوں سے یہ قربانی چاہتے ہیں؛ تو پہلے یہ بھی ایساکرکے دِکھائیں۔ سابق نااہل وزیراعظم میاں محمدنوازشریف جو پاکستان سمیت ساری دنیامیں آف شور کمپنیاں اور اپناکاروبارجمائے ہوئے ہیں؛ اور اپنی آدھے پاکستان جتنی زمینیں اور جائیدادرکھتے ہیں۔ وہ قومی خزانے کوٹیکس کی مد میں 5000ہزارکیوں دیتے ہیں؟ وہ اور اِن کی جماعت کے تمام کرتادھرتااور حکومتی اراکین سب کے سب اپنی پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے پہلے صحیح ٹیکس اداکریں اور اپنی خرچیاں کم کریں؛ تو پھر اپنی غریب قوم سے بھی گڑوی گولیاں نگلنے کو کہیں، اِن لوگوں نے تو مُلک کو سُونے کی مرغی سمجھ لیا ہے ۔ آج اِن لوگوں نے مُلک اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے بھی قومی خزانے میںکچھ نہیں چھوڑاہے۔ آج یہ قومی اداروں میں اپنی پسندکی شخصیات کو تعینات کرکے مُلک میں اپنی من مانی چلاناچاہتے ہیں اور مُلک میں نج کاری کے عمل کی آڑ میں قومی منافع بخش اداروں کو کوڑیوں کے دام فروخت کرناچاہتے ہیں؛ جو قومی غداری کے مترادف ہوگااواِس طرح ر ہمارے موجودہ بزنس مائنڈڈ حکمران ایسا کرکے مُلک سے سب ہی کچھ لوٹنا چاہتے ہیں، اوریہ اِس بناپرسب ہی کچھ اپنے سیرسپاٹے کے لئے لوٹ کرلے اُڑنے کے چکر میں پڑیںہیں۔ اَب قوم کب جاگے گی ؟ اَب اِس کا فیصلہ اِسے خودکرناہوگا، کہ وہ یہ تو اپنے حکمرانوں سے پوچھے کہ وہ منافع بخش قومی اداروں کو کیوں فروخت کرر ہے ہیں..؟اور اِسے ایساکرنے کو کون کس لئے اور اپنے کِن مقاصد کے حصول کے لئے کہہ رہاہے۔؟آج اتناتو قوم اپنے اِن بزنس مائنڈڈ حکمرانوں سے پوچھ سکتی ہے یا اِس کے لئے بھی کسی کے آنے کا انتظارکررہی ہے کہ کوئی آئے گاتو وہ پوچھے گی…؟