Buy website traffic cheap

بجلی

ماہ محرم میں حکومت کیساتھ عوام بھی اپنی ذمہ داری نبھائے

اسلام سے پہلے بھی یہ مہینہ ان چار مہینوں میں شامل تھا جس میں مشرکین عرب جنگ و جدال اور قتل و قتال نہیں کرتے تھے۔خاص طور پر محرم الحرام کی دسویں تاریخ جسے عاشوراکہا جاتا ہے ،اسلامی لحاظ سے پہلے بھی یہ ایک مقدس دن سمجھا جاتا تھااصل میں اس دن کے محترم ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس دن حضر ت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و جبر سے نجات ملی تھی اس لیے وہ آزادی حاصل ہونے کی خوشی میں شکرانہ کے طور پرعاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے تک یہ روزہ مسلمانوں پر فر ض تھا لیکن جیسے ہی رمضان کی فرضیت کا حکم نازل ہوا تو عاشورہ کے روزہ کی فرضیت منسوخ ہو گئی۔لیکن آپ ﷺنے اس دن کا روزہ رکھنا سنت اور مستحب قرار دیا۔دراصل محرم الحرام ہمیں آپس میں پیار محبت و یگانگت اور قربانی کا درس دیتا ہے، اس اسلامی سال کے ماہ مقدس کے آتے ہی جگہ جگہ امن و امان قائم کرنے اور فضاءپر امن بنانے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں اور اپنا مذہب نہ چھوڑو اور دوسرے کے مذہب کو نہ چھیڑو کے سلوگن پر عمل درآمد کے وعدے کئے جاتے ہیں اس ماہ میں ہماری دینی و ملی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے علاقوں میں امن و امان کیلئے سرگرم ہو جائیں امن ہو گا تو ہم بھی پرسکون ہونگے۔ لاو¿ڈ سپیکر کے استعمال کو قانون کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ نیز افواہوں پر ہرگز کان نہ دھرا جائے۔ تمام مکاتب فکر کے پیر کاروں کو چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہوا نہ دیں کیونکہ چھوٹی باتوں کو ہوا دینے سے ملکی استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ شرپسندوں پر کڑی نگاہ رکھیں اور کسی کو اپنی صفوں میں اختلاف پیدا کرنے کا موقع نہ دیں کیونکہ صفوں میں اتحاد ہی سے اسلام دشمن طاقتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جاسکتا ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ اگر اسے کہیں مشکوک شخص یا کوئی شے نظر آئے تو اس کی فوری اطلاع مقامی انتظامیہ یا قریبی پولیس اسٹیشن کو دیں تاکہ اس کے خلاف بروقت کاروائی کی جاسکے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب اپنے اختلافات کو پش پشت ڈال کر پیار و محبت ، مذہبی ہم آہنگی، اتحاد و یگانگت اور بھائی چارے کی فضا ءکو فروغ دیں تاکہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے سنہری اقوال کی روشنی میں پاکستان کی اسلامی، فلاحی اور جمہوری مملکت کے طور پر اجاگر کیا جاسکے۔بریں ازاں ہمیں فرقہ ورانہ کشیدگی کے تمام مظاہر کو ختم کرنے کیلئے میدان عمل میں نکلنا ہو گا ۔ حکم خدا وندی ہے کہ” تم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور جدا جدا نہ ہو۔“ رب العزت سے دلی دعا ہے کہ محرم الحرام امن و امان اور خیریت سے گزر جائے اور اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان کو دشمنوں کے ناپاک عزائم اور فرقہ واریت کے ناسور سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اس کی سلامتی اور بقاءاستحکام کیلئے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین