Buy website traffic cheap

وزیراعظم

مرحبا وزیراعظم پاکستان

سمیرہ عزیز
عمران خان سعودی عرب کا دورہ کرنے سے قبل سینئر میڈیا پرسن کی تجاویز ضرور پڑھ لیں
مجھے یاد ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ایک سابق دورہ سعودی عرب میں مَیں نے پریس کانفرنس میں ان کے ایک بیان کی واضاحت طلب کی تھی ،جس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب تارکین وطن پاکستانیوں کو اپنے ملک سے نکال رہا ہے۔ دراصل ایسا کبھی نہیں ہوا بلکہ سعودی عرب اپنا نظام درت اور مضبوط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے دنیا کے ہر ملک کے ایسے تارکین وطن کو واپس بھیج رہا ہے، جن کی دستاویزات اور اقاموں میں خلل واقع ہے۔ سعودی عرب سکیورٹی اور ترقی کیلئے اگر اپنا نظام مستند کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک قابل ستائش بات ہے۔سعودی عرب پاکستانیوں کو بھائی کا درجہ دیتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات بہترین نہج پر قائم رکھنا سربراہان ملک کی ذمہ داری ہے کیونکہ ان تعلقات کے پس منظر می مسلم امت کی مضبوطی پنہاں ہے۔
میری بات وزیراعظم عمران خان نے برامنائے بغیر غور سے سنی اور اس کا متانت سے جواب بھی دیا۔اس سے اچھی بات کیا ہوگی کہ وزیراعظم بننے کے بعد ان کا اولین دورہ مملکت سعودی عرب کیلئے ہی مختص ہے ۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی پاکستان کیلئے پالیسی میں سعودی عرب کو فوقیت دیتے ہیں ،اور یقینا انہیں اس میں بالکل دیر نہیں کرنی چاہیے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی اقتصادی استعداد کو سراہتے ہوئے پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے اضافے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے بھائی سعودی عرب کی اس پیش قدمی کو سمجھتے ہوئے فوراً افہام و تفہیم کیلئے آنا چاہیے۔
سعودی عرب میں کمیونٹی وزیراعظم عمران خان کے پس منظر سے مکمل طور پر واقف نہیںہے۔یہاں مملکت میں عوام الناس کو نہیں معلوم کہ عمران خان وہ انسان ہے جو سیاست کی چکا چوند میں غوطہ زنی سے قبل ہی کامیابی کی آفتابیوں کو دیکھ چکا تھا۔اس کے پاس سب کچھ تھا لیکن اس نے پاکستان کی فلاحی تبدیلی کی خواہش میں اپنا سب کچھ قربان کیا۔کسی بھی ذہن شعوری کیلئے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ عمران خان جیسے پس منظر کاحامل شخص اگر سیاسی جوگی بنا ہے تو اس کی وجہ اپنے وطن کی خدمت کے جذبے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتی۔وزیراعظم عمران خان کا یہی تدبر و اخلاص اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ اپنے دورہ سعودی عرب میں پاکستان کی قدر مملکت سعودی عرب کے اقتصادی ساتھی کی حیثیت سے اجاگر کریں اور اس تاثر کا قلع قمع کریں کہ پاکستان سعودی عرب کیلئے اقتصادی بوجھ ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تجارتی ،مذہبی ،سیاسی ،ثقافتی اور دفاعی تعلقات استوار رہے ہیں۔سعودی وژن 2030 کو مد نظر رکھتے ہوئے مملکت اپنی پالیسی میں تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دے رہی ہے۔چنانچہ وزیراعظم عمران خان انٹر ٹینمنٹ ڈپلومیسی کے ذریعے دونوں ممالک کے مابین تاریخی تعلقات کے نئے اور اہم دروازے کھول سکتے ہیں۔بطور ماہر ذرئع ابلاغ مَیں انٹر ٹینمنٹ ڈپلومیسی کو اسلئے اہم گرد انتی ہوں کہ انسانی نفسیات اس پر آشوب دور میں پہلے سے کہیں زیادہ تفریح وطبع کو اہمیت دینے لگی ہے۔آج کے ذہنی دباﺅسے بھر پور ماحول میں لوگ خوش ہونا چاہتے ہیں۔سعودی عرب میں سینما کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔پاکستان انڈسٹری بھی اچھی فلمیں بنا رہی ہے ۔ ماہرانہ انداز میں ان میڈیمز کو اگر استعمال میں لایا جائے تو باہمی تعلقات و رابطوں کیلئے کئی شعبوں میں موثر فوائد و نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔فلموں، اسٹیج فیسٹولوں اور کھیل وغیر ہ کے تفریحی منصوبوں کے ذریعے ثقافتوں کے تبادلے انجام دے کر تجارتی و قلبی تعلقات کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کو سعودی عرب سے متوقع سیاحوں کی آمد و رفت میں اضافے کیلئے ویزہ فیس میں کمی بھی کرنی چاہیے۔سعودی عرب میں کئی افراد پر مشتمل فیملی تعطیلات باہر گزارنے کی خواہاں رہتی ہے، لیکن آدھے سے زیادہ سعودی سیاح صرف ویزہ فیس کے زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا رخ نہیں کر رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کو اپنے دورے میں اس جانب توجہ دینی ہوگی۔یاد رہے کہ سیاح ثقافتی ہم آہنگی و تجارتی معاہدوں کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ سعودی اذہان بنیادی طور پر تجارت پسند ہیں اور ان کی اس فطرت کے تحت پاکستان کو چاہیے کہ بزنس ٹورازم کے خصوصی منصوبے متعارف کروائے۔
پاکستان کی سعودی عرب کی جانب سے قطری بائیکاٹ کی مخالفت’ ’پاک سعودی تعلقات‘ ‘ میں خلاءکا باعث بنی۔اس خلاءکو پر کرنے کی سفارتی کاوشیں اہم حیثیت کی حامل ہیں۔ پاکستان انسانی حقوق سے وابستہ ناقدوں کے برخلاف جا کر مملکت کی اینٹی کرپشن کیمپین کا حامی بنائ، نیز ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے نتیجے میں سعودی عرب کے کینیڈاسے تجارتی معاہدوں کی منسوخی کی بھی پاکستان نے حمایت کی۔ اب ایران و قطر سے تعلقات استوار رکھنے کی پالیسی پر گامزن وزیراعظم عمران خان کیلئے اہم ہے کہ سعودی عرب سے خصوصی ثقافتی تعلقات کے عزم کے اظہار کے لئے اس نوعیت کی بھائی چارگی اور حمایتوں کا اعادہ کریں۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے حریف ممالک کی جانب سعودی عرب کے تجارتی جھکاﺅ میں لچک و توازن پیدا ہوگا، بلکہ وزیراعظم عمران خان کو پاکستانی فوج کی اہم سپورٹ بھی حاصل ہوگی۔
مملکت میں مقیم تارکین وطن پاکستانیوں کو میں مشورہ دوں گی کہ وزیراعظم عمران خان کی آمد پر ان سے پردیس میں اپنے مسائل کے انبار پر اس بار بالکل مباحثہ نہ کریں بلکہ وزیراعظم عمران خان کو اپنی کابینہ کے امور پر غور و خوض کرنے، بین الاقوامی پالیسی مرتب کرنے اور ملک کا نظام مستندکرنے کا موقع دیں۔ اس طرح کے اہم بین الاقوامی دوروں کا اصل مقصد و ہدف پورا کرنے دینا بھی ہر عام و خاص تارکین وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔مملکت میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کا فرض ہے کہ وہ قانونی طریقے سے رقوم پاکستان ارسال کریں۔اس سے وہ پاکستان کواہم اقتصادی فائدہ دے سکیں گے۔تارکین وطن پاکستانی پاک سعودی تجارتی تعلقات کی مضبوطی کے مشن میں اپنا فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ وہ اپنے نئے وزیراعظم کا ساتھ دیتے ہوئے سیاسی چپقلشوں کو بیرون ملک مقیم رہتے ہوئے ہوا نہ دیں۔ ویسے بھی انتخابات ہو چکے ہیں اور اب سیاسی روش اپنانا اور وہ بھی بیرون ملک رہ کر ایسی سیاسی کدورت رکھنا، حب الوطنی سے انحراف کے مترادف ہے۔