Buy website traffic cheap

نوازشریف

مریم نواز اور میری ماں کے آنسو . . . کتنا فرق ہے

مریم نواز اور میری ماں کے آنسو . . . کتنا فرق ہے
تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
آج کے اخبارات نے مریم نواز کی ایک تصویر لندن سے شائع کی ہے جس میں وہ لندن کے ہارلے کلینک سے باہر نکلتے ہوئے آبدیدہ نظر آرہی ہیں. ہارلے کلینک میں ان کی ماں زیر علاج ہیں جن کی حالت ڈاکٹروں اور اخباری اطلاعات کے مطابق زیادہ تسلی بخش نہیں ہے. مریم نواز کے آنسو دیکھ کر آج پھر مجھے اپنی ماں کے آنسو یاد آ گئے ہیں جو انہوں‌ نے وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور کی ایمرجنسی کے باہر کھڑے ہو کر آسمان کی طرف منہ کر کے بہائے تھے.
یہ آج سے کم و بیش تین سال پہلے کی بات ہے جب میں عیدالااضحی کے سلسلے میں گاؤں آیا ہوا تھا. اچانک گھر پر خبر آئی کہ عاشق علی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے. مریض کے سر پر چوٹیں آئیں تھیں. جائے حادثہ کے قریب ترین ہسپتال بھی کوئی 50 کلو میٹر دور تھا. میرے ہسپتال پہنچنے سے کوئی آدھا گھنٹا قبل چند رضاکاروں نے (اللہ ان کا بھلا کرے) مریض کو ہسپتال منتقل کر دیا تھا۔
حد یہ ہے کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کوئی ڈاکٹرڈیوٹی پر موجود نہیں تھا اور مریضوں کا علاج معالجہ کمپاونڈروں اور نرسوں کے سپرد تھا۔ ایمر جنسی وارڈ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک کمپاونڈر ہمارے مریض کو گلوکوز کی بوتل لگانے کی کوشش میں ہے۔ ایک نرس بھی ساتھ کھڑی ہے۔ ایمر جنسی بستروں پر دو تین اور مریض بھی لیٹے ہوئے تھے جو ہلکی پھلکی چوٹوں کے باعث ہسپتال آئے تھے۔
آپ جتنی جلدی ہو سکے مریض کووکٹوریہ ہسپتال بہاول پور لے جائیں۔کمپاونڈر نے بغیر وقت ضائع کئے یہ الفاظ اگل دیے۔
میں نے اور میرے چھوٹے بھائی نے مایوسی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
سر میں شدید چوٹوں کے باعث مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا۔ بستر مرگ پر پڑا ہوا یہ مریض دراصل میرا بڑا بھائی تھا ۔ ۔ ۔ ۔ سگا بھائی ۔ ۔ ۔ ۔عاشق علی
دو گھنٹے کا سفر طے کر کے اسے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چشتیاں لایا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔اور اب یہاں سے بہاول پور کے لئے اذنِ سفر تھا۔ 50 کلومیٹر کے بعد مزید 150 کلومیٹر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یعنی دو گھنٹے کی مسافت کے بعد مزید تین گھنٹے کی مسافت۔ ۔ ۔ ۔ ۔
سوال یہ ہے کہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات ہماری ترجیحات میں کب آئیں گی؟ کیا پاکستان میں زیادہ سے زیادہ تیس منٹ کی مسافت پر ایک ایسا ہسپتال نہیں بن سکتا جہاں انتہائی نگہداشت کی سہولیات ہوں۔
کیا کوئی فرسٹ ایڈ ہو سکتی ہے؟ میں نے کمپاونڈر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
بس یہی کچھ ہے۔ ۔ ۔ ہاں دیکھ لیں اگر ایول کا انجکشن باہر سے مل جائے تو؟ کمپاؤنڈر نے جواب دیا!
ایول ۔ ۔ ۔ ۔ ایول ۔ ۔ ۔ ایول ۔ ۔ ۔
میں نے دیر تک اس لفظ کی بازگشت اپنے کانوں میں محسوس کی۔ اس لفظ کی میری زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔میں ابھی میٹرک کے پیپروں سے فارغ ہوا ہی تھا کہ میرے والد بزرگوار پر بظاہر مرگی کا حملہ ہوا۔ مکمل بے ہوشی کی حالت میں انہیں بہاول پور وکٹوریہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ انہیں بے ہوشی کا طویل دورہ برین ٹیومر کی وجہ سے پڑا ہے۔ انہی دنوں میں ایول کے لفظ سے متعا رف ہوا تھا۔والد مرحوم کو ایول کے علاوہ انواع و اقسام کے انجکشن لگائے جاتے رہے لیکن وہ اس بیماری سے جانبر نہ ہو سکے۔
کیا ہسپتال میں ایول کا انجیکشن موجود نہیں ہے؟ میں نے کمپاؤنڈر سے پوچھا!
جی نہیں . . . آپ کو باہر سے لانا پڑے گا! کمپاؤنڈر نے جواب دیا! کمپاؤنڈر کا جواب سنتے ہی میں ایمرجنسی سے باہر کی طرف بھاگا۔ معلوم ہوا کہ یہاں جتنے بھی مڈیکل سٹور ہیں ہسپتال کی حدود سے باہر ہیں۔ یہ عید سے اگلا دن تھا ۔ زیادہ تر میڈیکل سٹور بند تھے۔ انتہائی کوشش کے باوجود میں ایول کا انجکشن ڈھونڈنے میں ناکام رہا۔ میں نے واپس آ کر ہسپتال کے عملے سے ایول سے متعلق پھر درخواست کی۔ معلوم ہوا کہ ہسپتال کے سٹاک میں یہ انجکشن موجود نہیں ہے۔
ایول اگر زندگی بچانے والی دوا ہے تو پھر سرکاری ہسپتال میں کیوں نہیں ہے؟ ریاستوں کا اپنے ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی ادویات فراہم نہ کرنا عالمی قوانین کے مطابق سنگین جرم ہے۔ لیکن پنجاب کی سرزمین میں عوام کی خدمت کے نعروں کا اس قدر شور ہے کہ ہسپتال سے اٹھنے والی چھوٹی موٹی آہوں پر کون توجہ دیتا ہے.
قصہ مختصر . . . بغیر انتہائی اہم فرسٹ ایڈ کے، ہمیں وکٹوریا ہسپتال کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ سرکاری ایمبولینس (جس کا کرایہ مریض کے وارثوں کے ذمے تھا) ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر محو سفر تھی۔ 150 کلو میٹر کا سفر ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا. ڈرائیور سے پوچھا کہ ہمیں بہاولپور پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا. کم از کم 3 گھنٹے لگیں گے . . . ڈرائیور نے جواب دیا-
ہو سکتا ہے کہ یہ تحریر پڑھنے والے سوچ رہے ہوں کہ پنجاب میں پچھلے دس سالوں میں سب سے زیادہ سرمایہ سڑکوں پر لگایا گیا ہے تو دو اہم شہروں کو ملانے والی شاہراہ اتنی ٹوٹی پھوٹی کیسے ہو سکتی ہے۔ تو جناب ہم جنوبی پنجاب والے ہیں۔
فصل گل کے آخر میں پھول جن کے کھلتے ہیں
جن کے صحن میں سورج دیر سے نکلتے ہیں ! !
شہربہاول پور کے فرید گیٹ سے گزرے تو ہمسفر نے کہا ٹھیک ایک منٹ کے بعد ہم وکٹوریہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں ہوں گے۔ ایمرجنسی میں پہنچے تو مسیحائی کی تمام امیدیں دم توڑنے لگیں۔ایمر جنسی میں مریضوں کا جمعہ بازار لگا ہوا تھا۔ اور دو جونئیر ڈاکٹر چند نرسوں کے ہمراہ ایک سٹریچر سے دوسرے سٹریچر کی طرف بھاگتے پھر رہے تھے۔
یہاں مجھے ایک داڑھی والے ڈاکٹر کو شاباش دینا پڑے گی جس نے انتہائی جانفشانی سے مریضوں کو سنبھالا ہوا تھا۔ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن کیا سرکار کو اپنے ہسپتالوں کی دگرگوں حالت کا کچھ علم ہے؟ میں سمجھتا ہوں اگر حکومت ذرا سی بھی توجہ دے تو اس ملک میں انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ اس موقع پر مجھے نشتر ہسپتال کا ایک نوجوان ڈاکٹر یاد آ رہا ہے جس نے آکسیجن سلنڈر نہ ہونے کی وجہ سے خالی بوتلیں جوڑ کر اپنی مدد آپ کے تحت مریض کو آکسیجن دینے کا آلہ بنا رکھا تھا۔ آکسیجن دینے کا وہ آلہ خدمت کے نعرے لگانے والوں کا منہ چڑا رہا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کا یہ وکٹوریہ ہسپتال تقریبا 40 ہزار مربع کلومیٹر(پنجاب کا تقریبا 1/5 واں حصہ) کےعلاقے میں واحد ہسپتال ہے جہاں سمجھا جاتا ہے کہ یہاں سنجیدہ نوعت کے مریضوں کا علاج معالجہ ہو سکتا ہے۔یہ ہسپتال میرے گاوں سے 2 سو کلومیٹر دور ہے۔اتنے بڑے جغرافیائی علاقے سے آنے والے مریضوں کے لئے یہ ایمرجنسی انتہائی ناکافی تھی۔ کم از کم اس دن تو یہی صورت حال تھی۔
میری خواہش تھی کہ کسی سینئر ڈاکٹر سے مشورہ کیا جائے کیونکہ مریض کی سانس اکھڑ رہی تھی اور زندگی کی امید دم توڑ رہی تھی۔ انتہائی کوشش اور سفارش کے بعد سینئر ڈاکٹر ایمر جنسی میں تشریف لائے۔ مریض پر ایک نظر ڈالی اور مزید انتظار کا مشورہ دے کر چلے گئے۔ ان کے مطابق جب تک مریض کی سانس بحال نہیں ہوتی مزید کوئی طبی کاروائی نہیں ہو سکتی۔رات کے دو بج چکے تھے اور ہمیں ہسپتال میں آئے ہوئے تقریباََ چار گھنٹے گزر چکے تھے ۔ مریض کو پچھلے 4 گھنٹے سے ایمرجنسی وارڈ میں ہی رکھا گیا تھا۔ نامعلوم اس میں کیا مصلحت تھی۔ ویسے بھی ہم زراعت پڑھنے والے کیا جانیں کہ طب کی نزاکتیں کیا ہوتی ہیں۔ اور یوں بھی پودے کے سوکھنے اور انسان کے مرنے میں بڑا فرق ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
مریض کے علاج معالجہ والے عمل میں جو کام سب سے زیادہ مستعدی سے کیا گیا وہ ہسپتال کے رجسٹر اموات میں مرنے والے کا اندراج تھا۔ عملے نے دستخط لینے کے لئے مجھے بلایا اور دستخط لے کر میت ہمارے حوالے کر دی۔سٹریچر کھینچ کے ایمرجنسی سے باہر لایا گیا تو سامنے میری ماں کھڑی تھی جس کی نظر سب سے پہلے اپنے بیٹے کے پاؤں پر پڑی جس کے دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے انگوٹھوں کو پٹی کی مدد سے باندھا گیا تھا۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ پاؤں کے انگوٹھوں کو باندھنا اس بات کا حتمی اعلان ہوتا ہے کہ بسترِ مرگ پر پڑا ہوا شخص اب اس دنیا میں نہیں رہا.۔
چھ سات ڈرائیور سٹریچر کی طرف لپکے۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایمبولینس ۔ ۔ ایمبولینس ۔ ۔ ۔ ایمبولینس۔ ۔ ۔ ۔
میں نے چھوٹے بھائی کو اشارہ کیا کہ وہ ان ڈرائیور حضرات سے بات کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چھ ہزار ۔ ۔ ۔ پانچ ہزار ۔ ۔ ۔ ساڑھے چار ہزار ۔ ۔ ۔
مختلف آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔
اس کے بعد کیا ہوا؟
بہت سے لوگ اس حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے ہیں. لیکن مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ جب ہم بڑے بھائی کو دفنا کر گھر پہنچے تو میری ماں آسمان کی طرف منہ کر کے آنسو بہا رہی تھی۔ میں جانتا تھا کہ میری ماں کے آنسوؤں کی وجہ محض جوان بیٹے کی موت کا غم نہیں تھا بلکہ اس میں اور بھی کئی طرح کے دکھ شامل تھے.
مثلاََ
بیٹے کو ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کا دکھ
جائے حاثہ کے قریب کسی ہسپتال کے نہ ہونے کا دکھ
جائے حادثہ سے 50 کلو میٹر دور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چشتیاں‌میں بیٹے کو ایول کا انجکشن نہ لگنے کا دکھ
چشتیاں کے ہسپتال میں ناکافی سہولتوں کے باعث بہاولپور کے دشوار گزار سفر کا دکھ
بہاولپور کے وکٹوریہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں مریضوں کے جمعہ بازار کا دکھ
وکٹوریہ ہسپتال کی ایمر جنسی میں بیٹے کا سنجیدہ علاج معالجہ نہ ہونے کا دکھ
اس مضمون کی آخری سطریں لکھتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں کہ مریم نواز کے دکھ اور میری ماں کے دکھ میں کتنا فرق ہے. اللہ تعالی ہم سب کے گناہ معاف فرما کر ہمیں آسانیاں عطا فرمائے۔