Buy website traffic cheap

کلین

مر کے جینا سیکھایا حسینؓ نے

ظفر نامہ: ظفر اقبال ظفر
سیدنا حسینؓ ددھیال کی طرف سے بنو ہاشم اور سیدنا علی مرتضیٰؓ کے فرزند ارجمندہیں اور ننھیال کی طرف سے بضعتہ رسولﷺ سیدہ نسا ء العالمین فاطمہ زہرا (رضی اللہ عنہا)کے گوہر انمول اور اہل بیت نبوی ﷺ کے روشن چراغ ہیں نجیب الطرفین ہاشمی ہیں خاندان عرب میں حسبی نسبی حیثیت سے اپنے عہد میں شرف و بلندی وعظمت میں نمایاں نام سیدنا حسینؓ کا ہے آپ کی ولادت۵ شعبان ۴ ھ میں ہوئی
حضرت حسینؓ کی شہادت سمجھ ہی تب آتی ہے جب آپ کی حیات مبارکہ کو سمجھا جائے غم شہادت اپنی جگہ معتبر اہمیت رکھتا ہے مگر حیات حسینؓ ہماری آخرت کی تیاری کا اہم راستہ ہے واقعہ شہادت درس استقامت ہے تو حیات مبارکہ راہنما اصول ہے اسوۂ حسینی دراصل اسوۂ رسول کا عکس کامل ہے سیدناحسینؓ مذہبی علوم و کمالات کے علاوہ اس عہد عرب کے مروجہ علوم وفنون میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے فن خطابت سیرورجال کے کتب میں موجود ہے مدینہ سے کربلا کے سفر میں اور میدان کربلا میں جو خطبات آپؓ نے ارشاد فرمائے وہ فصاحت و بلاغت اور خطابت کے بہترین شہکار ہیں اسی طرح آپؓ کے ملفوظات کلمات طیبات اور حکیمانہ مقولے اخلاق و حکمت کا عظیم سبق ہیں آپؓ انتہائی عابد و زاہد تھے عبادت در حقیقت دل کی پاکیزگی روح کی صفائی اور عمل کے اخلاص کی غرض وعایت ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے احکامات نماز زکوٰتہ روزہ حج حقوق العباد کی بجا آوری میں پیش پیش رہتے تھے آپؓ مجلس میں وقار و متانت کے ساتھ بیٹھتے تھے آپؓ حد درجہ متواضع تھے ادنیٰ ادنیٰ اشخاص سے بے تکلف ملتے تھے ایک دفعہ کسی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں کچھ فقراء کھانا کھا رہے تھے آپؓ کو دیکھ کر انہوں نے آپؓ کو مدعو کیاان لوگوں نے کہا کہ اے فرزند رسول ہمارے ساتھ کھاناتناول فرمائیں ان کی درخواست پر آپ فوری سواری سے اترے اور کھانے میں شرکت کرتے ہوئے فرمایاکہ تکبر کرنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتامیں نے تماری دعوت قبول کی ہے تم بھی میری دعوت قبول کرو ان کو گھر لے جاکر کھانا کھلایاایثار وحق پرستی آپؓ کی کتاب فضائل اخلاق کا نہایت جلی عنوان تھاآپؓ مجاہد فی سبیل اللہ تھے آپؓ نے جو جہاد کیا وہ اسلام کی تاریخ کے روشن کارنامے ہیں اور انہی سرابیوں سے دین حق کا باغ آرائے نبوت کے ہاتھوں سرسبز وشاداب ہوا چنانچہ آپؓ نے اسلامی غزوات میں بھی شرکت فرمائی ۳۰ ھ میں افریقہ خراساں طرابلس جراں اور طبرستان کی جنگوں میں مجاہدانہ شریک ہوئے غزوہ قسطنطنیہ جو ۵۱ ھ میں پیش آیااس میں آپؓ نے بہادی کے جوہر دیکھائے اور جرات و غریمت کی تاریخ رقم کی۔سخاوت میں آپؓ کی مثال نہیں ملتی خاندانی روایات کے موافق حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لیے کوشاں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک دیہاتی سائل مدنیہ کی گلیوں میں گومتا ہوا آپؓ کے در پر پہنچا دروازے پر دستک دیتے ہوئے اشعار کی صورت میں اپنی حاجت پیش کرنے لگا آپؓ اس وقت نماز میں مصروف تھے اپنی نماز میں تخفیف کرکے باہر تشریف لائے دیکھا سائل پہ فقر و فاقہ کے آثارہیں فوری گھر لوٹے اپنے غلام قنبر کو آواز دی وہ حاظر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہمارے نفقہ میں سے تمارے پاس کیا کچھ باقی ہے؟اس نے عرض کی کہ دوصد درہم ہیں اور آپؓ نے حکم دے رکھا ہے کہ اسے ہمارے اہل خانہ پر صرف کیا جائے یہ سن آپؓ نے فرمایا کہ وہ درہم لاؤ ہمارے اہل خانہ کی بہ نسبت زیادہ حق دار شخص آ گیا ہے پھر وہ درہم آپ نے لے کر سائل کو سونپ دئیے آپؓ مہمانوں کی خدمت کرتے ۔چاہنے والوں کو دیتے ۔اپنوں کو بخشش کرتے۔محتاج کی حاجت پوری کرتے ۔سائل کو محروم نہ کرتے ۔ننگوں کو کپڑا پہناتے ۔بھوکے کو کھانا کھلاتے ۔قرضدار کا قرض ادا کرتے۔کمزور کی مدد کرتے۔یتیم پر مہربانی کرتے۔ضرورت مند کی اعانت کرتے۔جہاں آپؓ کی ہاتھ میں مال آتا مستحق میں تقسیم کرڈالتے۔حاجیوں کو پانی پلاتے۔عہد کی پاسداری میں آپ کی مثال نہیں ملتی۔آپؓ تمام صحابہ کا احترام فرمایا کرتے تھے۔سید نا علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسنؓ سرور دوعالم ﷺ کے ساتھ سینہ سے سر مبارک تک مشابہ تھے اور سیدنا حسینؓ سینے سے لے کر قدموں تک زیادہ مشابہ تھے حضور ﷺ نے فرمایاحسنؓ اور حسینؓ جنت کے پھول ہیں جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔ میرے لیے دنیا میں خوشبو ہیں۔ جس نے ان سے پیار کیا اس نے مجھ سے پیار کیا۔ جس نے ان کے ساتھ بغض رکھا اس نے مجھ سے رکھا۔حسینؓ مجھ سے ہے میں حسینؓ سے ہوں اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسنؓ کے لیے میری ہیبت اور میری سرداری میرا ورثہ ہے۔ اور حسینؓ کے لیے میری جرات اور میری سخاوت میرا ورثہ ہے۔حجاز کے سادات کا یزید کی بیعت سے صاف انکار تھا امیر معاویہؓ کی زندگی میں تو یہ معاملہ یہیں تک رہا کہ شام و عراق کے عام لوگوں نے یزید کی بیعت قبول کر لی اور دوسرے حضرات نے جب یہ دیکھا کہ یزید پر مسلمانوں نے بڑی تعداد مجتمع ہو گئی مگر اہل مدینہ اور خصوصاسیدنا حسینؓ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ بیعت یزید کے انکار پر ثابت قدم رہے اور کسی کی پراہ کئے بغیر حق بات کا اعلان کرتے رہے کہ یزید ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کو مسلمانوں کا خلیفہ بنایا جائے یہاں تک کہ امیر معاویہؓ کی وفات ہو گئی اور یزید بن معاویہ نے ان کی جگہ لے لی حق کی سر بلندی کے مقصد کی اہمیت نے آپؓ کو خطرات کا مقابلہ کرنے پر مجبور کیا اور زی الحجہ ۶۰ھ کی تیسری تا آٹھویں تاریخ کو آپ مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے اس وقت یزید کی طرف سے مکہ کاحاکم عمرو بن سعد العاص مقرر تھاان کو جب آپؓ کے جانے کی خبر ملی تو چند آدمی راستے میں ان کو روکنے کے لیے بھیجے سیدنا حسینؓ نے واپسی سے انکار فرمایا اور آگے بڑھ گئے عراق و کوفہ کے مسلمانوں کو باطل کی غلامی سے نجات اور حق کی فضا بخشنے پر اپنا ایمان اور زمہ داری بے چین کئے ہوئے تھی یزید کی تمام تکلیفوں مشکلوں سازشوں کا صبر و حکمت سے سامنا کرتے ہوئے دس محرم سے پہلے اپنے تما م اہل بیت اور ساتھیوں کو جمع کیا ان کے سامنے حمد و ثنا کے بعد یہ تقریر کی۔میں اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں کسی اور کے ساتھیوں کو زیادہ وفا دار نہیں سمجھتااور نا کسی کے اہل کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا سمجھتا ہوں اللہ تم لوگوں کوجزائے خیر عطا فرمائے مجھے یقین ہے کل جنگ ضرور ہوگی اسی لیے میں بخوشی واپس جانے کی اجازت دیتا ہوں تم لوگ اپنے شہر دیہاتوں میں چلے جاؤ رات ہو چکی ہے ایک ایک اونٹ لے لو یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ یزید کتے لوگ مجھے ہی تلاش کریں گے میرے بعد کسی کی تلاش نا ہو گی دشمن مجھے ہی قتل کرنا چاہتا ہے ۔اس تقریر کے بعد جانثاروں کی جوابی تقریریں ہوئیں جس میں آپؓ کے صاحبزادے بھائیوں بھتیجوں اور عبداللہ بن جعفرؓ کے دونوں صاحبزادوں نے پُر جوش پُر درد تقریریں کیں متفقہ طور پر جن جذبات کا اظہار کیا گیا وہ یہ تھے۔آپ تنہا لڑ کر اللہ کی راہ میں اپنی جان دیں اور ہم جان کے خوف سے بھاگ جائیں اور زندہ رہیں اللہ ہم کو یہ دن نہ دیکھائے یہ ہم سے نا ممکن ہے ہماری نسلی شرافت اور غیرت کے منافی ہے ہم کیا منہ دیکھائیں گے اور کیا جواب دیں گے ہم سے پوچھاجائے گا ہم اپنے آقا اپنے سردار کو چھوڈ کر آئے ہم یہ کس منہ سے کہیں گے کہ ہم جنگ میں شریک نہیں ہوئے نہ اُنؓ کے لیے تیر چلایا نا تلوار کا وار کیا خدا کی قسم ہم لوگ آپؓ سے جُدا نہیں ہوں گے ہم اپنی جان مال اہل وعیال سب آپؓ پر قربان کر دیں گے جو حشر آپؓ کا ہوگا وہی ہمار اہوگا آپؓ کے بعد ہمارا جینا بیکار ہے ان کے بعد اور ساتھیوں نے بھی تقریریں کیں جو ارادت وجان نثاری کے جوش میں ڈوبی ہوئی تھیں اس کے بعد میدان کربلا میں جو قیامت ٹوٹی اس کو لکھنے کا حوصلہ میرے پاس نہیں ہے حضرت حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ دنیا سے محبت ہر برائی کی جڑ ہے یزید کا دل دنیا کی محبت کے لیے حوس کی زنجیر سے جکڑا تھااس لیے وہ شہرت و اقتدار میں اندھا ہوا انجام سے غافل ہو کر آل رسول ﷺ سے غداری کے عوض یزید کی ناپاک حکومت تین برس چھ ماہ رہی ربیع نورچوبیس ہجری کو ملک شام کے شہرہمس کے علاقے حوارین میں انتالیس سال کی عمر میں مر گیایزید کی موت کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رومی نسل کی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو گیاتھا مگر وہ لڑکی اندرونی طور پر اس سے نفرت کرتی تھی ایک دن اس لڑکی نے رنگ رلیاں منانے کے لیے یزید کو جنگل کے ویرانے میں اکیلا بلایاجسمانی ہوس کی مستی میں ڈوبے یزید کو یہ کہتے ہوئے کہ جو بیغیرت اپنی نبی ﷺکے نواسے کا غدارو قاتل ہومیرا کب وفادار ہو سکتا ہے خنجر کے وار کرکر کے چیر پھاڈ کر وہیں پھینک دیاچند روز تک اس کئی لاش چیل کواؤں کی دعوت میں رہی بل آخر اس کے سپاہی اسے تلاش کرتے ہوئے جنگل میں پہنچے اور اس کی کٹی سٹری ہوئی لاش کو وہیں دفنا دیا
وہ تخت ہے کس قبر میں وہ تاج کہاں ہے۔۔۔۔۔اے خاک بتا زور یزید آج کہاں ہے
یزید کی چند برس دنیا و آخرت کی عبرت زدہ حکومت کا خاتمہ زلت و رسوائی کا حقدار ٹھہری۔مگر حسینؓ آج بھی پوری انسانیت کے دلوں ہر حکومت کر رہے ہے یہ راج تاقیامت قائم رہے گا حسینیت اور یزیدیت کی جنگ تا قیامت حق و باطل کا فرق رکھنے کو جاری رہے گی
سیدنا حسینؓ کی شہادت کا واقعہ ہمیں اس چیز کا خصوصیت سے درس دیتا ہے کہ جس چیز کو آپ نے باطل سمجھا اس کے آگے ڈٹ گئے استقامت کا پہاڈ بن گئے آپؓسے جرات بہادی کا درس ملتا ہے قربانی و جان نثاری کا سبق ملتا ہے اس گھمسان کی لڑائی میں کسمپری کے عالم میں آپؓ یاد خدا سے غافل نہیں رہے صوم و صلوٰتہ کے پابند رہے صبر کا دامن نہیں چھوڈا اُمت محمدیہ ﷺ کے آغاز دنیا سے لے کر اختتام دنیا تک تمام شہدا کے سر کا تاج ہیں اور حق کے لیے جان قربان کرنے کو ابدی زندگی کا آغاز قرار دے گئے بے شک حسینؓ وہ شہید ہیں جن پر خود شہادت کو ناز ہے آپؓ سے پیار و محبت و وفا کا ثبوت اور یقین اسی بات میں ہے کہ آپؓ کے نقش قدم پر زندگی گزاری جائے اور باطل کو تسلیم کرنے کی بجائے شہادت کو ترجع دی جائے اللہ کریم ہمیں علم کی توفیق عطا فرمائے