Buy website traffic cheap

مسلم یا مومن

مسلم یا مومن کسے کہتے ہیں؟

مسلم یا مومن کسے کہتے ہیں؟
تحریر: مولانا صدرالدین اصلاحیؒ ترتیب : عبدالعزیز

(مسلم یا مومن یہ دونوںاصلاحیں قرآن کی ہیںمسلمان کے وہی معنی ہوتے ہیں جو مسلم ہی کے ہیں مگر یہ فارسی زبان کی اصطلاح ہے۔لفظ”مسلم“ میں ”الف اور نون“ کااضافہ کیاجاتاہے۔ ع ع)
”مسلم“ اس شخص کو کہاگیا ہے کہ جومومن ہونے کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کوشاں ہو، جو قرآن اور اسلام کاپیرو، جو احکام الٰہی کے آگے اپنے آپ کو ڈال دے، چنانچہ اس لفظ کے معنی ہی ’اسلام والے‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اوراطاعت گزار کے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ قرآن کو ماننا اوراُس کی دعو ت کے بنیادی عقائد پرایمان لانا کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے احکام وہدایات کی عملی پیروی بھی نہ کی جائے۔ اس لئے جوشخص بھی قرآن کو مان کراوراس کے بنیادی عقائد پرایمان لاکر ’مومن‘ بن جاتاہے ، اس کے بارے میں فطری اوربدیہی طورپر یہی سمجھا جاسکتاہے کہ اب وہ اس پورے مجموعہ ہدایت کو جس کانام قرآن اوراسلام ہے، اپنی عملی زندگی کاہدایت نامہ بنالے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو تسلیم کرتے ہی ایک شخص صرف ’مومن ‘ ہی نہیں بلکہ ’مسلم‘ بھی قرار پاجاتاہے۔
’مسلم‘ کالفظ صرف ایک ہی صفت کی حیثیت نہیں رکھتا ، بلکہ وہ قرآن اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کانام اورعلم بھی ہے ۔ چنانچہ صراحت سے فرمایا گیا ہے کہ ھوستکم المسلمین (حج) اس نے تمہارانام مسلم رکھا ہے
گویا جس طرح دین قرآنی کاانتساب کسی شخصیت یاقومیت کی طرف نہیں ہے، اسی طرح اُن کے ماننے والوں کانام بھی ایسے کسی انتساب سے یکسر بلند ہے، اس کانام اگر اسلام رہے توان کابھی مسلم ہے ، اوراس طرح خالص صفاتی نوعیت رکھنے کے باعث یہ نام بھی اپنے مسمی کی اصولی حیثیت کاخود ہی ترجمان ہے۔ اب یہ اور بات ہے کہ دوسرے لوگ اپنے ملی مزاج، اپنے موروثی اندازفکر اوراپنے عرف درداج کے زیر اثر ’مسلم‘ اورمحمڈن‘ کے فرق کو نہ سمجھ سکیں، اوراس کے نتیجے میں پیروان اسلام کو مسلم کہنے کے بجائے محمڈن کہنے لگیں۔(محمڈن انگریزوں کادیاہوانام ہے جو غلط ہے)
یہی لفظ ’مسلم‘ ہے جو فارسی زبان میں الف، اورنون کے اضافے کے ساتھ مسلمان بن گیا ہے۔
کفر اورکافر
’کفر‘ ’ایمان‘ کی ضد اورمخالف اصطلاح ہے، اس لفظ کے اصل لغوی معنی ، چھپادینے کے ہیں۔ اسی طرح کافر کے لغوی معنوی بھی جو اسی لفظ ’کفر‘ کااسم فاعل ہے ، چھپادینے والے کے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ لفظ (کافر)عربی زبان میںان بہت سی چیزوں کے لئے بطور صفت استعمال ہوتاہے جوچھپادینے کاکام کرتی ہیں۔ مثلاً رات، سمندر اورکسان وغیرہ۔ رات پوری دنیا کواپنے سیاہ پردوں میں ڈھک لیتی ہے۔ سمندر اپنے اندر کی مخلوقات کو چھپائے ہوئے ہے، کسان کاشت کرتے وقت دانوں کو زمین میںچھپادیتاہے اس لئے لغوی طورپر ان میںسے ہرایک ’کافر‘ ہے۔
قرآن کی زبان میں’کفر‘ دومعنوں میں استعمال ہواہے ، ایک تو اللہ تعالیٰ کی ناشکری، کے دوسرے دین کے بنیادی عقائد میں سے کسی عقیدے کاانکار کردینے ، کے، کہنے کو تو کفر کے یہ دوالگ الگ معنی ہیںمگرفی الواقع اس دوئی میں بھی بڑی گہری ہم آہنگی اورفطری وحدت موجود ہے۔ اوراگردونوں میں کوئی فرق ہے تو صرف اتنا ، جتنا کہ بیج اوراس کے پودے میں یاسورج اوراس سے نکل کرپھیلنے والی روشنی میں ہواکرتاہے، دراصل کفر بمعنی انکار کفر بمعنی ناشکری ہی سے پیداہوتاہے اوراسی کالازمی نتیجہہوتاہے۔
کفر کے اصل لغوی معنی اوراس کے اصطلاحی مفہوم یا مفہوموں میں جورشتہ ہے ، اسے سمجھے کے لئے کسی لمبی چوڑی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے، ناشکر اورمنکر جوکچھ کرتاہے وہ اس کے سوا اورکیاہوتاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات کو چھپاتاہے، اس کی ربوبیت کے حق کو چھپاتاہے ، اپنی غلامانہ پوزیشن کو چھپاتاہے، اورآخر میں یہ کہ اپنی اصل فطرت کو جس میں اللہ رب العالمین کی احسان مندی ، بندگی اورملاعت شعاری کااحساس سمویا ہواہے، چھپادیتاہے، پس اللہ تعالیٰ کی ناشکری کو، یا اس کی صفات ولوازم صفات کے انکار کو اگرکفر کہاگیا تویہ ایک جامع ترین اورموزوں ترین تعبیر تھی جو اختیار کی گئی۔
”کفر “ اور”کافر“ (یعنی کفر والے) کے الفاظ جب قرآن میں بولے جاتے ہیں تو عموماً یہی دوسرے معنی پیش نظر ہوتے ہیں، یعنی کافر سے مراد ایسا شخص ہوتاہے جو اللہ کی صفات میںسے کسی صفت کا انکار کردے یااس کے لوازم کاانکار کردے، یاروز آخرت کاانکار کردے یانفس وحی اوررسالت کاانکار کردے، یافرشتوں کے وجود اوران کی صفات کاانکار کردے، یاکسی پیغمبرکو تسلیم کرنے سے انکارکردے ، یاکسی کتاب الٰہی کو کتاب الٰہی ماننے سے انکارکردے۔
’کفر‘ بمعنی انکار کے درجات مختلف ہیں جس طرح کہ ایمان کے درجات مختلف ہوتے ہیں مثلا ایک کفر وہ ہے جوامر حق کی وضاحت اورمعرفت کے باوجود ہوتاہے، اورایک وہ ہے جس کی بنیاد ناواقفیت پرہوتی ہے۔ کھلی بات ہے کہ ان دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہوسکتی۔ اسی لئے ازروئے انصاف ان کے نتائج بھی یکساں نہیں ہوسکتے، بلکہ عین ممکن ہے کہ کفر کی بعض صورتیں ایسی بھی ہوں جوکفر ہونے کے باوجوداللہ تعالیٰ کے حضور قابل درگزر ہوں، نہ صرف یہ کہ ایساممکن ہے بلکہ قرآن کے اشارات سے معلوم ہوتاہے کہ صورت واقعہ یہی ہے۔مثلاً اگرکسی رسول کی دعوت ایک شخص تک نہیں پہنچی، یاپہنچی تو مگرقابل لحاظ طریقے سے نہیں پہنچی، اوراس لئے وہ اس کی رسالت پرایمان نہیں لاتابلکہ اس کاانکار اور”کفر“ کرتاہے، تواسے یقینا اس معاملے میں معذور سمجھاجائے گا، بخلاف عقیدہ توحید کے کہ اس کامنکر کسی حال میں بھی معاف نہیں کیاجائے گا، کیوں کہ توحید کاتصور انسان کی فطرت میں ازخودرچا بسا ہے، اوراس کی کھلی ہوئی نشانیاں ہرنظر کے سامنے اورہرجگہ موجود ہیں، اس لئے اس بدیہی حقیقت کے انکار میںانسان ہرگزمعذور نہیں سمجھا جاسکتا، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ کفر کی بعض شکلیں ایسی ہوں جو شدید ترین سزاکی موجب ہوں، اورنہ صرف آخرت ہی ہیں، بلکہ اس دنیا کی زندگی میں بھی جو جزاکی نہیں بلکہ صرف عمل کی جگہ ہے ، انسان کو بدترین انجام کامستحق بنادیں، چنانچہ قرآن کابیان ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے اور دنیا بیسیوں بار اس کاثبوت بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہے، اس قسم کے کفر کی واضح ترین مثال ان لوگوں کاکفر ہے جن کو ایمان کی دعوت براہ راست، انبیاءکرام کے ذریعہ ملی تھی، جس کی وجہ سے ان کے سامنے حق کی وضاحت اورحجت کے اتمام میںنام کی بھی کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی تھی، ایسے لوگوں کو جوکچھ آخرت کے روز پیش آئے گا وہ تو آئے گا ہی۔ اس دنیا کے اندربھی انہیں ایسی سزادی گئی کہ اُن کاتخم بھی باقی نہ رہ گیا۔ یا تو زلزلوں، طوفانوں، آتش فشانیوں اور سنگ باریوں کے عذاب نے انہیں چشم زدن میں نیست ونابود کرکے رکھ دیا۔ یاپھر اہل ایمان کی تلواروں سے ان کی جڑ کاٹ کررکھ دی ئی اورانہیں ذمی کی حیثیت سے بھی زندہ رہنے کاحق نہیں دیاگیا جب کہ دوسرے اہل کفرکے لئے اس حق سے فائدہ اٹھانے کاموقع ہمیشہ باقی رکھاگیا
شرک اورمشرک
’مشرک‘ کے لفظی معنی ’ساجھا پن“ کے ہیں، اصطلاح شرع میں ’شرک‘ کامطلب یہ کہ کسی بھی غیر خدا کوخدا کی ذات میں یااس کی صفات میں ، یاان صفات کے لوازم میں شریک ٹھہرادیاجائے۔
خدا کی ذات میں شریک ٹھہرانے کی چند شکلیں ہیں۔
(۱) اس کے وجود کو کسی اورکے وجود سے ، یاکسی اورکے وجود کو اس کے وجود سے قرار دینا، یعنی اس کے متعلق اتحاد یاطول کاعقیدہ رکھنا۔
(۲) کسی کواس کی ذات برادری سمجھنا۔
(۳) کسی کو اس کاباپ یابیٹا قرار دینا۔
خدا کی صفات میں شریک ٹھہرانے کامطلب یہ ہے کہ ان صفات میں سے کسی صفت کو کسی اورہستی کے اندر بھی موجود مان لیاجائے اوراسی مخصوص معنی میں موجود مان لیاجائے، جس میں وہ اللہ تعالیٰ کے اندر پائی جاتی ہے۔
لوازم صفات میں شریک ٹھہرانے کامطلب یہ ہے کہ ان صفات کے فطری نتیجے میںجواختیارات اورحقوق اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ثابت ہوتے ہیں ، ان میںسے کسی اختیار یاحق کاکسی اور کوبھی مالک مان لیاجائے، مثلاًخدا کی ایک صفت یہ ہے کہ حکم دینے اورفیصلہ کرنے کاسارا اختیار اسی کو ہے، اس صفت کاایک لازمی تقاضا تو یہ ہے کہ قسمتوں کے بنانے بگاڑنے کااختیار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، اوردوسرا یہ کہ التجائیں ، فریادیں اوردعائں پیش کئے جانے کاحق اُسی کو حاصل ہے، اب اگر کوئی شخص مصیبت پڑنے پرکسی اورکو پکارتا ہے ، یااپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی التجائیں کسی اورکے سامنے پیش کرتاہے تویہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت خاص کے لوازم میں شریک ٹھہرانا ہوگا۔
جوشخص اس طرح کے عقائد رکھتاہو ، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات میں یااس کی صفات میں یا ان صفات کے لوازم میں کسی غیرخدا کو شریک اورحصہ دار ٹھہراتاہو وہ قرآن کی زبان میںمشرک کہلاتاہے۔
شرک کو قرآن نے ”ظلم عظیم“ یعنی اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی حق تلفی قرار دیا ہے اورفرمایا ہے کہ اس کی معافی ہرگز نہ ہوگی۔