Buy website traffic cheap

ضرورت اس امر کی ہے

مغرب کی عیاری اور ہماری کمزوری

مغرب کی عیاری اور ہماری کمزوری
اک ذرا سی بات
نصرت عزیز
سلطنت عثمانیہ یا خلافت عثمانیہ 1299سے 1922تک قائم رہنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کے حکمران ترک تھے۔ 16ویں اور 17ویں صدی میں یہ سلطنت دنیا میں عروج کی بلندیوں کو چھو رہی تھی ۔اپنے عروج کے زمانے 16ویں اور 17ویں صدی میں یہ سلطنت تین براعظموں پرپھیلی ہوئی تھی اس کے ساتھ ساتھ جنوب مشرقی یورپ ، مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میںآبنائے جبرالٹر ، مشرق میں بحیرہ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں ، سلوواکیہ اور کریمیا(موجودہ یوکرائن) سے جنوب میں سوڈان ،صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔ مالدووا،ٹرانسلوانیااور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29صوبے تھے۔
1923میں ترکی نے لوزان میں ایک سو سالہ معاہدہ کیا تھاجسے معاہدہ لوزان کا نام دیا گیاتھا ۔1923سے2023تک جاری رہنے والے اس معاہد ہ کی وجہ سے ترکی عملی طور ہرطرح سے اپاہچ ہوگیا تھا مگر اس کے باوجود بھی ترکی معاشی طور پر آج اس بلندی پر کھڑا ہے جس کا تصور کئی ممالک عملی طور پرآزاد ہونے کے باوجود بھی نہیں کرسکتے ہیں۔معاہدہ لوزان کے ذریعے باندھاگیا مقروض ترکی آج ایک سو بلین ڈالرز سے زیادہ ریزرو رکھتاہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ لوزان ہے کیااور اس نے کیسے ترکی کے ہاتھ باندھ دیے کہ ترکی چاہتے ہوئے بھی معاشی طور پر کچھ نہیں کرسکتا؟
معاہد ہ لوزان 24 جولائی 1923کوسوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں جنگ عظیم اول کے فاتح قوتوں اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔اس وقت صور ت حال یہ تھی کہ فاتح قوتیں، ترکی کے بڑے حصوں پر قابض تھیں ۔اس قوتوں میں سے برطانیہ نے وہ خطرناک اور ظالمانہ شرائط معاہدہ لوزان میں شامل کروائی تھیں جن کی رو سے ترکی کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے تھے اور ترکی اگلے ۱۰۰برس تک اس معاہدہ کو نبھانے کا پابند تھا۔معاہدے کے تحت یونان ، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدوں کا تعین کیا گیا اور قبرص ، عراق اور شام پر ترکی کادعویٰ ختم کرکے ان کی سرحدوں کاتعین کیا گیا۔اس معاہدے کے تحت جمہوریہ ترکی کو عالمی سطح پر تسلیم کیاگیا ۔اس معاہدے کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی تھی اور ترکی نے تینوں براعظموں میں موجود خلافت کے اثاثوں اور املاک سے بھی دست برداری اختیار کرلی تھی ۔معاہدہ لوزان 100سال پر محیط تھا جودراصل ترک عوام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کا ایک ایسا پھندا تھا جس نے ترکی کو ہاتھوں پاؤں سے باندھ کرچاروں شانے چت کردیاتھا۔
معاہدہ لوزان کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی اور سلطان کو ان کے خاندان سمیت ترکی سے جلاوطن کردیاگیا تھا۔خلافت کی تمام مملوکات ضبط کرلی گئی تھیں جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل تھیں ۔ترکی کو ایک سیکولر سٹیٹ قرار دیتے ہوئے دین اسلام اور خلافت سے اس کے تعلق پرقدغن لگادی گئی اوراس کا باقاعدہ اعلان کردیاگیا۔معاشی طور پر ترکی کو تباہ کرنے کے لیے ترکی پر پابندی لگائی گئی کہ وہ پٹرول کے لیے نہ اپنی سرزمین پراور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا اور اپنی ضرورت کا ساراپٹرول امپورٹ کرنے کا پابند ہوگا۔باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہا ں سے گزرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کرسکے گا (باسفورس کی سمندری کھاڑی بحراسود، بحر مرمرہ اور بحر متوسط کا لنک ہے اور اس کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے )
2023میں یہ معاہدہ مدت پوری کرکے غیر مؤثر ہوجائے گااور ترکی پر لگائی گئی معاشی پابندیاں بھی ختم ہوجائے گیں۔ا ب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب کیوں اردگان سے اتنا زیادہ متنفر ہے اور کیوں ہر وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی طرح اردگان کوہٹاکراپنی پسند کا بندہ ترکی پر وارد کردے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ اردگان ایک سے زیادہ بار واضح کرچکے ہیں کہ 2023کے بعد ترکی وہ ترکی نہیں رہے گاجو کمزور اورمرد بیمارہے۔ ہم اپنی زمین سے پٹرول بھی نکالیں گے او ر ایک نئی نہر بھی کھودیں گے جو بحر اسود اورمرمرہ کو باہم ملاکر مربوط کردے گی اور اس کے بعد ترکی یہاں سے گزرنے والے ہر بحری جہاز سے ٹیکس وصول کرے گا۔جس سے ترکی نہ صرف معاشی طور پراور مضبوط ہوگا بلکہ دنیا میں اعلیٰ مقام بھی حاصل کرے گا ۔
اب اس کہانی سے ساری صورت حال واضح ہوجاتی ہے کہ مغرب کیوں اردگان اور اردگان کی سرپرستی میں چلنے والے ترکی کااتنا سخت دشمن ہے اور اس کے اپنے مفادات کس طرف ہیں۔اس ساری صورت حال کے پیش نظر ترکی کے ساتھ ساتھ پوری ملت اسلامیہ کو بھی یہ بات باور کرلینی چاہیے کہ مغرب مسلمانوں کے کسی صورت بھی خیر خواہ نہیں ہیں ۔بہ ظاہر تو وہ ہمیں قرض دے کر اپناگرویدہ بنا لیتے ہیں اورہم سستی اور آسانی سے ملنے والی روز مرہ کی اشیا کو حاصل کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم معاشی طور پرمستحکم ہیں مگر اصل میںیہ قرض کے کمالات ہوتے ہیں جو مغرب ہمیں سود پر دے کراپنا زیر نگیں بنارہے ہیں تاکہ ہم اپنے پاؤں پرکسی صورت نہ کھڑے ہوسکیں ،تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم مغرب سے سود پر قرض لے کر سستی اشیاخریدنے کے بجائے اپنے ذرائع سے وہ اشیاخریدیں چاہے مہنگی کیو ں نہ ہوں؟خیر قرض میں ڈوبی امت مسلمہ کے لیے فی الحال قرض سے چھٹکارہ فوراًممکن تو نہیں ہے مگر آہستہ آہستہ اس وبال جان سے چھٹکارہ ممکن ہے وگرنہ یہ قرض وبال جان بن کر ہر اسلامی ملک کو مغرب کا درباری بنادے گا اور پھر مغرب ان درباریوں سے وہ کام کروائے گا جن کا متحمل نہ وہ ملک ہوگا اور نہ ہی دین اسلام ۔لہٰذا ملت اسلامیہ کو جہاں باہمی اتحاد واتفاق کی ضرور ت ہے وہاں ہی ایک ایسے مضبوط مشترکہ معاشی نظام کی بھی ضرورت ہے جو ان اسلامی ممالک کے لیے آب حیات کا کام کرسکے جو معاشی طور پر کمزور ہیں اور اس کمزوری کے لیے انھیں مجبوراًمغرب کے آگے جھکنا پڑتا ہے ۔