Buy website traffic cheap

جعلی اکاؤنٹس

ملک کے دو اہم ترین ادارے آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرےپر الزامات کی بوچھاڑ

لاہور(ویب ڈیسک): قومی احتساب بیورو(نیب) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 3 درجوں پر مشتمل ٹیکس نظام کے باعث سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو کم سے کم ایکسائیز ڈیوٹی ادا کر کے فروخت میں بہتری کا موقع ملا‘اس کے ساتھ رپورٹ میں وفاقی بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) پر بھی الزام لگایا گیا کہ اس کی جانب سے تحقیقات میں معاونت نہیں کی گئی۔اپنے ایک بیان میں ترجمان نیب راولپنڈی محمد بلال کا کہنا تھا کہ نیب نے مذکورہ معاملے پر سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے،جبکہ وفاقی بورڈ آف ریونیو نے تاحال اس سلسلے میں اپنا نمائدہ مقرر نہیں کیا۔نیب ترجمان کا کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے 23 مئی کو ہونے والے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں ٹوبیکو سیکٹر کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی میں کمی کی وجوہات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے تعاون کریں تو نیب کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں 2 ماہ جبکہ باقاعدہ تحقیقات کرنے کے لیے 4 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔نیب کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مئی 2017 میں تین درجوں پر مبنی ٹیکس نظام متعارف ہونیکے بعد 2 بڑی مشہور و معروف کمپنیوں نے اپنے آپ کو کم سیکم ٹیکس کے درجے میں رکھا اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی کے ساتھ سگریٹ فروخت کیں جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا لیکن ریونیو میں کمی آئی۔واضح رہے کہ اس قسم کی صورتحال کا تذکرہ پی اے سی کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بھی کیا گیا تھا۔ایف بی آر کی جانب سے دوسری درجے سے ٹیکس کے کم ترین درجے میں آنے کے لیے کوئی پابندی نہیں رکھی گئی جس کی وجہ سے سگریٹ کمپنیوں کو 32 ارب 9 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔یاد رہیکہ تین درجے کا ٹیکس نظام اس وقت متعارف کروایا گیا تھا جب اسحٰق ڈار وزیر خزانہ تھے جبکہ وزارت صحت نے بھی ایف بی آر سے تین درجوں پر مشتمل ڈیوٹی ختم کرنے کامطالبہ کیا تھا تا کہ سگریٹ نوشی کو کم کیا جاسکے۔نیب نے مارچ میں 2 عالمی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کیخلاف ٹیکس قوانین میں تبدیلی سے 33 ارب روپے تک کا فائدہ اٹھانے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔