Buy website traffic cheap


منشیات فری پاکستان

(منشیات فری پاکستان )
دنیا بھر میں 26جون کو منشیات کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس دن سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو اگاہی فراہم کر نے کے لئے منشیات کے مضر اثرات کے بارے میں بتایا جاتا ہے اس دن کی مناسبت سے پاکستان بھر میں پکڑی جانے والی منشیات کو نظر آتش کیا جاتا ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پر نوجوان نسل بڑی تیزی کے ساتھ منشیات کی عادی ہو رہی ہے اور ایسے نوجوانوں میں ان لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو پڑھے لکھے ہیں پاکستان کے کسی بھی شہر کے کسی بھی بڑی یونیورسٹی یا کالج میں اگر دیکھا جائے تو نوجوان بڑی تیزی کے ساتھ اس لت میں مبتلا ہو رہے ہیں اس کی آسانی سے دستیابی اور آسان ذریعے سے اس تک رسائی اس کی بڑی وجہ ہے ۔حالیہ سالوں میں اس میں بہت خطر ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اگر ایسی صورت حال پر کنٹرول کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو حالات بہت مہلک ہو سکتے ہیں پاکستان میں منشیات کو کنٹرول کرنے کے لئے ANFکا محکمہ موجود ہے جو اس کے سد باب کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہا ہے لیکن انتہائی کم وسائل کے باوجود اس کی کارکردگی مثالی ہے دوسری طرف نچلی سطح پر منشیات کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری پولیس کی ہے مگر افسوس کے ساتھ کے پولیس کی کارکردگی کھبی بھی اچھی نہیں رہی بلکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مختلف علاقوں میں منشیات کے اڈے پولیس کی نگرانی میں چلائے جاتے ہیں جہاں سے مقامی پولیس کو ایک بھاری بھر کم نظرانہ بطور رشوت بھی دی جاتی ہے جس کے بعد ایسے لوگوں کو کھلی چھٹی ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں جس قدر چاہیں موت بانٹیں ۔بڑے شہروں میں صورت حال اور بھی ابتر ہو جاتی ہے جہاں منشیات کے عادی افراد کی بڑی تعداد لاوارث پڑی ہوتی ہے شہر کے اکثر فلائی اوورز کے نیچے، گندے نالوں کے کناروں پر اور بعض علاقوں کے میدانوں میں لوگ سر پر چادر اوڑھے دھواں پھونکتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کے کپڑے میلے کچیلے اور بال مٹی اور دھول سے اٹے ہوتے ہیں منشیات کے عادی ان افراد کے حلیے اور ٹھکانوں سے تو اکثر لوگ باخبر اور واقف ہیں لیکن شہر کے پوش علاقوں میں اعلیٰ درس گاہوں کے نوجوان بھی منشیات میں مبتلا ہو رہے ہیں، جس سے والدین اور متعلقہ محکمہ جات لاعلم رہتے ہیں۔کوکین ، شیشہ ،چرس ،ہیروین ، آئس، کرسٹل اور دیگر کئی مہنگے اور مہلک نشے اب پوش علاقوں میں بڑی آسانی کے ساتھ آن لائن دستیاب ہیں جن پر قابو پانامقامی پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر افسوس کے ساتھ کے مقامی پولیس کا حال کسی بھی طور پر اچھا نہیں کہا جا سکتا۔ شہر میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مراکز میں ان دنوں ایک نئے نشے کے عادی نوجوانوں کو لایا جا رہا ہے، جسے کرسٹل میتھ کہا جاتا ہے اس کا شکار عموماً نجی تعلیمی اداروں اور امیر گھرانوں کے نوجوان بن رہے ہیں اس نشے میں مبتلا نوجوانوں کا کہناہے کرسٹل کے استعمال سے ہمیں راحت ملتی ہے۔ڈاکٹرز منشیات کے استعمال کی تین بنیادی وجوہات بیان کرتے ہیں ذہنی دباؤ، غیرمتوازن شخصیت اور دوستوں کا دباؤ، جن میں ذہنی دباؤ سرفہرست ہے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوولیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں منشیات کے استعمال کے نتیجے میں معذوری کا شکار ہونے والے افراد میں 98 فیصد اضافہ ہوا ہے اور منشیات کے عادی نوجوانوں میں ذہنی معذوری تیزی سے بڑھ رہی ہے چونکہ منشیات دماغ کے خلیوں میں عدم توازن پیدا کر دیتی ہے جس کے نتیجے میں دماغ اس طرح سے کام نہیں کرتا جس طرح سے عام لوگوں کا کرتا ہے اور نتیجتاً انسان ذہنی، جسمانی اور سماجی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے ایسے میں منشیات کے سمگلر اب جدید ترین طریقے استعمال کرتے ہوئے منشیات فروشی واٹس ایپ، فیس بک یا سوشل میڈیا کی اس طرح کی جو دیگر ایپس ہیں انھیں استعمال کر رہے ہیں’یہ لوگ واٹس ایپ پر ایک میسیج کر دیتے ہیں اگر یہ پیغام سو لوگوں تک بھی گیا ہے تو ان میں دس سے پندرہ ایسے نوجوان مل جائیں گے جو ان کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں ن کا کہنا تھا کہ منشیات کا عادی بنانے کے لیے یہ گاہکوں کو ان کے گھر تک پہنچائی جا رہی ہیں اور اب ایک بڑے اور منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے جس پر قابو پانا وقت کی ضرورت ہے منشیات آتی کہاں سے ہے؟اس سوال کا جواب آسان سا ہے کہ پاکستان بھر میں سب سے زیادہ منشیات افغانستان کے راستے سے سمگل ہو کر آتی ہے مگر اب بارڈر پر لگائی جانے والی باڑ سے شاید اس کا راستہ روکا جا سکے۔
چونکہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ پاکستان منشیات کی ایک عالمی گزرگاہ پر واقع ہے، اس لیے یہاں انھیں فروخت کرنے والی مافیا اور استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں اس لئے ایسے میں ANFکی بروقت کاروائیاں اس کی روک تھام کا بڑا ذریعہ ہیں۔ جدید منشیات فروشوں تک رسائی ایک چیلنج ہوتی ہے علاقے میں کہاں کہاں منشیات فروخت ہو رہی ہے، علاقہ پولیس اور دیگر ادارے اس سے باخبر ہوتے تھے، لیکن اب جدید منشیات فروشوں تک رسائی پولیس کے لیے ایک چیلنج ہے۔ لیکن اگر اداروں کے درمیان تعاون کی رفتار تیز اور آسان کی جائے انٹرنیٹ ،اور سوشل میڈیا پر کڑی نگاہ رکھی جائے تو اس کاروبار کا سد باب کو ممکن بنایا جا سکتاہے اس کے لئے ANFمحکمہ پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کا تعاون اشد ضروری ہے اسی طرح منشیات کے خلاف اگاہی اور تعاون سے ہم اپنے ملک کو اس لعنت سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ 26جون اس عزم کے ساتھ منائیں کہ آنے والی نسلیں منشیات سے پاک پاکستان دیکھ سکیں اس کے لئے ہمیں اپنے اداروں کو مکمل سپورٹ کرنا ہو گا اور اپنے ارد گرد ہر سماج دشمن پر نظر رکھنی ہو گی تاکہ ہمارا پاکستان بھی منشیات فری پاکستان بن سکے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راجہ طاہر محمود