Buy website traffic cheap

عدم برداشت

منی بجٹ، عوام پر مزید ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ نہ ڈالا جائے

پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ کابینہ سے منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر نے کہا کہ حکومت نے وزیراعظم پاکستان، وزرا،گورنرز کو ٹیکس پر استثنیٰ ختم کردیا ہے ۔ یعنی اب سے وزیراعظم پاکستان ،وزراءاور گورنرز بھی عام پاکستانی کی طرح ٹیکس دیں گے۔ گزشتہ ادوار میں وزیراعظم ،وزرا،گورنرز کو ٹیکس پر استثنیٰ حاصل تھا۔موجودہ حکومت کااہم سرکاری عہدوں کیلئے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنا اچھا اقدام ہے جس کے یقینا خوش آئند نتائج مرتب ہونگے۔پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار میں آتے ہی جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ان میں ملکی سلامتی سے متعلق چیلنجوں کے علاوہ توانائی کا بحران اور قومی معیشت کو درپیش چیلنجز بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے پہلے خطاب میں ہی کفایت شعاری کا کلچر پیدا کرنے کا اعلان کیا جس کیلئے ایوان صدر، وزیراعظم ہاﺅس، گورنرز اور وزراءاعلیٰ ہاﺅسز سمیت سرکاری محکموں میں بچت اور کٹوتی کے عملی اقدامات کا بھی آغازہوچکا ہے۔
گزشتہ روز کے منی بجٹ سے اندازا لگانا مشکل نہیں رہا کہ مرتب کردہ اقتصادی پالیسیوں سے ملک اور عوام کا مقدر سنوارنے کیلئے حکومت کیا اقدامات اٹھانے والی ہے۔جہاں ایک جانب خوش آئند فیصلے بھی ہوئے وہاں دوسری جانب اس امر کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ آئندہ دنوں میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہونے والا ہے،جس کے نتیجہ میں پی ٹی آئی کی قیادت اور حکومت سے اپنے بہتر مستقبل کی توقعات رکھنے والے عوام لازمی طور پر مایوسی کا شکار ہوں گے اور پھر وہ سابق حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمرانوں کیخلاف بھی سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے نظر آئیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے تو پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے سے بھی پہلے بیل آﺅٹ پیکیج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس کشکول لے کر جانے کا عندیہ دے دیا تھا جبکہ روپے کی قدر تیزی سے نیچے گرنے کے باعث ہمارے بیرونی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے پہلے ہی گیارہ سے پندرہ فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لے کر ملک اور عوام کو اس کی پہلے سے بھی زیادہ کڑی شرائط کے ساتھ باندھ دیا جائے گا تو ان شرائط کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس کے نرخوں میں اضافہ اور ناروا نئے ٹیکسوں کا اجراءسابق حکمرانوں کی طرح پی ٹی آئی کی حکومت کی بھی مجبوری بنا رہے گا، جس کا عندیہ منی بجٹ سے ہی مل گیا ہے ۔ اس تناظر میں بہتر یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خاں اپنے ساتھ وابستہ ہونے والی عوام کی توقعات میں مایوسی کا عنصر داخل نہ ہونے دیں اور اقتصادی مشاورتی کونسل کے ذریعے اقتصادی ماہرین کی بہترین ٹیم لاکر اس سے قومی معیشت کی بہتری کیلئے انقلابی پالیسیاں مرتب کرائیں اور عوام کے اقتصادی مسائل سرعت کے ساتھ حل کرنے کے عملی اقدامات اٹھائیں ،عوام پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ لاد کرانہیں عملاً زندہ درگور کیا جائے۔

آرمی چیف کا تین روزہ دورہ چین، سی پیک کی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ چین کے تین روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ میں ہیں۔ وہ چین کی اعلیٰ قیادت کو پھر یقین دہانی کرانے بیجنگ پہنچے ہیں کہ سی پیک پاکستان کا معاشی مستقبل ہے اور اس منصوبے کی سکیورٹی پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف کی اپنے ہم منصب چینی آرمی چیف اور چین کی سیاسی قیادتوں سے اہم ملاقاتیں ہورہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں سی پیک اور دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت اہم امور زیرغور آرہے ہیں۔ آرمی چیف کا یہ دورہ عالمی میڈیا کی ان رپورٹوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان سی پیک منصوبہ پر نظرثانی کررہا ہے۔ ان رپورٹس کو نہ صرف پاکستان بلکہ چین میں بھی بے چینی سے دیکھا گیا اور فوری طور پر پاکستان میں چینی سفیر کو اس مسئلہ پر پاکستانی قیادت سے بات کرنے کا کہا گیا۔ چینی سفیر نے اس سلسلہ میں گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرکے سی پیک کی سکیورٹی اور دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور سی پیک پر پاکستانی قیادت کی حمایت کی ستائش کی۔ دوران ملاقات آرمی چیف نے سی پیک کو پاکستان کا معاشی مستقبل قرار دیا اور کہا کہ اسکی سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔